محروم پشاور

محروم پشاور

اب کیا کریں اہل پشاور باران رحمت کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتے شدید گرمی میں بھی پشاور کے باسی بارش کے لئے دست دعا نہیں اٹھا سکتے ۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ تھوڑی سی بارش ہوگی اور پھر شہر بھر کے نالے ابل پڑیں گے ۔ سیوریج سسٹم بلاک ہوگا اور پھر سارا پانی ان کے گھروں میں داخل ہو کر ان کے گھریلوں سامان کو خراب کر ے گا ۔ یہی گندا پانی دکانوں اور مارکیٹوں کے اندر جا کر ان کے کاروبارکو نقصان پہنچائے گا۔ جی ٹی روڈ سے یونیورسٹی روڈ تک اور گلی کوچے دریا کا منظر پیش کر ینگے ۔ پھر ٹریفک کئی گھنٹوں تک جام رہے گی اور آمد ورفت کا سلسلہ بندرہے گا جی ہاں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ طویل عرصے بعد جب گزشتہ روز آسمان پر بادل نمودار ہوئے اور پھر ارد گرد کے اضلاع میں ہو نے والی بارش کی ٹھنڈی ہوائیں پشاور میں داخل ہوئیں ۔ توپشاور یوں کے چہرے کھل اٹھے کہ کافی دنوں بعد بارش کا امکان پیدا ہوا تھا اور گرمی کی شدت میں کمی کی امید بھر آئی تھی مگر ان کی یہ خوشی اس وقت مایوسی بلکہ پریشانی میں بدل گئی جب رات کے وقت گھنٹہ بھر بارش کے بعد پانی نے گھروں اور مارکیٹوں کا رخ کر دیا ، سڑکیں پر تالاب بن گئیں دیوار یں اور چھتیں گرنے لگیں ۔ عجب منظر تھا تاریخی چوک یادگار پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور تہہ خانہ میں کھڑی 50سے زائد گاڑیاں پانی میں تیر رہی تھیں ریتی بازار کے دکاندار بالٹیاں لیے پانی نکالنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ پیپل منڈی کے تاجر حیران و پریشان حکومتی اداروں کی راہ تک رہے تھے ۔ محلہ جھنگی کی پریس مارکیٹ کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں تھا ۔ تاجروں کا کروڑوں روپے نقصان ہوا شہر ی گھربار لٹا بیٹھے ۔ مگر مجا ل ہے کہ تبدیلی سرکار نے نظر اٹھا کر بھی دیکھا ہو ۔ اب بات کی جائے پشاور شہر کی تو کس زاویے سے کریں گے ۔ حکومت نے دعوے کیے ۔ اعلانات کیے اور شہر کی خوبصورتی کے سبز باغ دکھائے مگر چار سال بعد بھی پشاور سیوریج سسٹم محض ایک گھنٹے کی بارش کی مار ہے ۔ سڑکیں تباہ حال ہیں ۔ سینٹی ٹیشن سسٹم کا تو بالکل مت پو چھیں ۔ حکومت نے د عویٰ کیا تھا ۔ کہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروس کے نام سے ادارہ بنا کر صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہو جائے گا ۔ بلدیاتی انتخابات اس دعوے کے ساتھ کر ائے گئے کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہو نگے ۔ ترقیاتی منصوبے بلدیاتی اداروں کے ذریعے ترتیب دیئے جائینگے ۔ اور فنڈ ز مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ ہونگے یونین کونسلوں کو ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں میں تقسیم کر کے زیادہ سے زیادہ نمائند ے منتخب کرائے گئے مگر اب وہی نمائندے یا تو باہم دست و گریباں ہیں ۔ اور یا حکومت کے خلاف نعرہ زن ہیں ان کے پاس اختیار ہے نہ فنڈ ز ، بلکہ اب تو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب بلدیاتی نمائندے بھی سر پیٹ رہے ہیں ۔ کہیں عدم اعتمادی کی تحریکیں آرہی ہیں تو کہیں فارورڈ بلاک بن گئے ہیں یہ تو عوامی نمائندوں کا حال ہے۔ دوسری جانب ڈبلیوایس ایس پی (wssp)کو بھی ٹھینگا دکھایا گیا ہے ۔ اس ادارے سے منافع بخش علاقے حیات آباد اور یونیورسٹی ٹائون واپس لے کر مالی استحکام سے محروم کر دیا گیا ، جبکہ عملہ کی کمی اور مشینری کی قلت بھی دور کرنے کا کوئی بھی وعدہ ایفا نہیں کیا جارہا ہے ۔ پشاور ترقیاتی ادارہ افسران میں پلاٹ بانٹنے تک محدود ہے۔ ٹائون میونسپل ایڈ منسٹریشن کا تو حال ہی مت پو چھیں ۔یہ پشاور ہے ، جسے ماڈل بنانے کے وعدے کیے گئے مگر اب حال یہ ہے کہ آلودہ ترین شہروں میں پشاور کا دوسرا نمبر ہے ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ جس روز بارش نے تباہی مچائی اسی دن کپتان پشاور کے دورے پر تھے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم اور صحت کے حوالے سے تقاریب میں شرکت کے علاوہ پریس کانفرنس کر کے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) سمیت سیاسی مخالفین کو لتاڑنا تھا اور چونکہ یہ سب کچھ طے شدہ تھا اس لئے صوبائی حکومت کو پشاور کی صورتحال پر توجہ دینے کیلئے فرصت نہیں تھی۔ نہ ضلع ناظم کے پاس وقت تھا اور نہ ہی پشاور سے منتخب ارکان صوبائی اسمبلی فارغ تھے کہ وہ تباہ حال تاجروں اور پانی میں ڈوبے شہریوں کی داد رسی کرتے ۔ وزیرا علیٰ کی خوشنودی اور خان صاحب کی دلجوئی میں پشاور کی پوری انتظامیہ دن بھر مصروف رہی اور وہ کسی کی ٹیلیفون کال سننے کی بھی روادار نہ تھی ۔ اب ایسے حال میں پشاور کے شہری جائیں تو کہا جائیں ۔ کس کے پاس جائیں ۔ منتخب نمائندوں یا ان کے چہیتوں نے تو شاہی کھٹہ کے اوپر تجاوز کر تے ہوئے دکانیں بنالیں اور کہیں ''شادی ہال ''بنا کر پانی کا راستہ روکا گیا ہے کسی کو پارکنگ لاٹ کے ٹھیکوں اور تعمیر و مرمت کے منصوبوں میں اپنا حصہ وصول کرنا ہے ۔ اب تو الیکشن قریب ہیں ٹکٹ کا حصول بھی ایک اہم بلکہ سب سے اہم اور مشکل مرحلہ ہے اور یہ تبھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا جب قیادت کی نظروں میں رہیں اور ان کی تابعداری اور فرمانبرداری کا ٹھیک اور بروقت اظہار کریں ۔ ووٹر ز کی کیا حیثیت ہے ۔ وہ تو ویسے بھی کسی بھی پاپولر نعرہ یامقبول لیڈر کی تقریر پر دھوکہ کھا کر کسی بھی مخصوص نشان پر ٹھپہ لگادیں گے اس لئے تکلیف کے کسی بھی موقع پر عوام کے پاس جانے کی بجائے قیادت کے سامنے ہی Look busy do nothingکے مصداق سرگرم رہے ۔ پشاوریوں ایسا لگتا ہے کہ محرومی آپ کا مقدر ہے ۔اگر کوئی حکومت ساڑھے چارسال میں نکاسی آب کا مسئلہ نہیں حل کر سکی تو اس سے آگے کیا توقع ۔ ویسے بھی توجہ پنجاب میں زیادہ سیٹوں کے حصو ل پر مرکوز کرکے ہی وفاق میں حکومت حاصل کی جا سکتی ہے ۔ میڈیا ساتھ ہو اور ترجمان ایک سے بڑھ کر ایک منہ زورتوپھر جھوٹ کو سچ ثابت کر ناکوئی مشکل کام نہیں ہے ، اس لئے زیادہ سر کھپانے کی ضرورت نہیں گزارہ کیجئے ۔ اور ہاں بارش کیلئے ''دعا'' مت کیجئے کیونکہ پانی نکالنے کیلئے کوئی سر کاری ادارہ اس لئے پاس نہیں آئے گا کہ اس کے پاس مطلوبہ مشینری نہیں ۔

متعلقہ خبریں