محبت سرسری قصہ نہیں ہے۔۔۔

محبت سرسری قصہ نہیں ہے۔۔۔

چند دن پہلے ایک بہت پڑھے لکھے دوست نے کہا تم کالم نگار ہوقاری کو بہت کچھ سکھانے پر تلے ہوئے ہو مگر سیاست پر کچھ نہیں لکھتے جے آئی ٹی کی دھوم مچی ہوئی ہے آج کا سب سے مقبول موضوع یہی ہے جسے دیکھو اس پر لکھ رہا ہے لیکن تم اس کوچے میں قدم نہیں رکھتے ؟آخر اس میں قباحت کیا ہے ؟رات کو دو چار ٹاک شوز دیکھ لو اور صبح اٹھ کر کالم داغ دو اللہ اللہ خیر صلا !ہم اپنے دوست کے طریقہ واردات سے اچھی طرح باخبر ہیں بات کچھ اور ہوتی ہے مگر وہ شروع کسی اور موضوع سے کرتے ہیں اس لیے ہم نے بھی ان کی بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا بس ہنستے ہوئے کہنے لگے جب اتنے بہت سارے لوگ لکھ رہے ہیں تو ہمیں کچھ نیا کرنا چاہیے عام ڈگر سے ہٹ کر بات ہوجائے تو بہتر ہے ہماری بات سن کر انہوں نے بھی اپنی عادت کے مطابق پینترا بدلتے ہوئے کہا تو پھر مجھے بھی ایک مشورہ چاہیے میں ایک الجھن کا شکار ہوں۔ ایک مسئلہ ہے جس میں بری طرح پھنسا ہوا ہوں۔ بہت جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن وہی کمبل والی بات ہے میں تو کمبل کو چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔ اب آپ کے پاس اسی لیے آیا ہوں کہ میرا مسئلہ حل کردیجیے تو عین نوازش ہوگی۔ آپ تو جانتے ہیں میںشطرنج بڑے شوق سے کھیلتا ہوں بس کوئی ایسا گر بتادیں کہ میرا جی شطرنج سے اچاٹ ہوجائے !ہم نے حیران ہو کر کہا کہ واقعی شطرنج آپ کا اوڑھنا بچھونا ہے لیکن آپ اسے چھوڑنا کیوں چاہتے ہیں؟بس کیا بتائوں آپ تو جانتے ہیں مجھے کتابیں پڑھنے کا بہت زیادہ شوق ہے گھر میں اچھی خاصی لائبریری موجود ہے اس کے علاوہ انگلش فلمیں میری بہت بڑی کمزوری ہیںمگر یقین کیجیے شطرنج نے مجھے کتابوں سے دور کردیا ہے عرصہ ہوا کوئی اچھی سی فلم بھی نہیں دیکھی میں سمجھتا ہوں کہ مطالعے کی عادت نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اب بھی بازار میں جو نئی کتاب آتی ہے میں پہلی فرصت میں اسے اپنے کتب خانے کی زینت بنادیتا ہوں لیکن پھر پڑھنے کے لیے وقت نہیں ملتا بس بہت ہوا تو دوچار صفحات کی ورق گردانی کرلی بس میں ہوں اور chess.comہے یہ کمبخت ایسی ویب سائٹ ہے کہ اس پر بیس پچیس ہزار پلیرز ہر وقت موجود ہوتے ہیں رات اور دن کی کوئی قید نہیں ہے بات صرف مطالعے کی نہیں ہے میں تو اپنے بیڈ روم میں قید ہوکر رہ گیا ہوں دوستوں سے ملنا جلنا بہت کم ہوگیا ہے ۔شطرنج کے حوالے سے بڑے عجیب و غریب قسم کے خیالات آتے رہتے ہیںیہ ایک ایسا گورکھ دھندہ ہے جس میں الجھا ہوا شخص ساری زندگی باہر نہیں نکل سکتا۔ اسے سیکھنا اور اس میں مہارت حاصل کرنا بھی ایک خواب ہے۔

میں پچھلے تیس برسوں سے شطرنج کھیل رہا ہوں اپنی زندگی کے ہزاروں گھنٹے اسے دے چکا ہوں لیکن اب بھی اس کوچے میں طفل مکتب ہوں۔دوست کی باتیں سن کر قدرت کی ستم ظریفیوں پر بے اختیار پیار آیا کہ کچھ لوگ زندگی کے مسائل میں اس بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ زندگی عذاب ہو کر رہ گئی ہے اور ایک یہ صاحب ہیں جو اپنی شطرنج دوستی سے نالاں ہیں !پشتو میں کہتے ہیں'' مڑہ گیڈا فارسی وئی'' بھرا ہوا پیٹ فارسی بولتا ہے کسی نے جوان بچی کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں مگر جہیز بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا! پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار مارے مارے پھر رہے ہیں! مائیں غربت کے ہاتھوں تنگ آکر چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے ساتھ خودکشیاں کر رہی ہیں!کسی نے سچ کہا تھا کہ ہر شخص زندگی کی تشریح اپنے تجربات کے حوالے سے کرتا ہے رنج و غم اور پریشانیاں زندگی کا اٹوٹ انگ ہیں بس ہر شخص کی پریشانی یا غم کی نوعیت جدا ہوتی ہے مسئلے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے بات تو ہمارے دوست کی بھی درست ہے کتا ب چھوٹ گئی دوست رشتہ دار چھوٹ گئے گھر کے ضروری امور رہ گئے اوریہ سارا کیا دھرا شطرنج کا ہے !مسئلہ تو اپنی جگہ پر موجود ہے سادہ الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی راہ کا ہر پتھر ایک مسئلہ ہے جو بھی آپ کو آگے بڑھنے سے روکے آپ کی زندگی میں رکاوٹ بنے وہ مسئلہ ہوتا ہے ہمارے وزیر اعظم جب سے برسر اقتدار آئے ہیں انہیں ایک دن بھی چین نصیب نہیں ہوا وہ ایک رات بھی سکھ کی نیند نہیں سوئے ! ان کے مخالفین بڑے بڑے محدب عدسے لیے ان کی کمزوریاں اور خامیاں طشت ازبام کررہے ہیںان تابڑ توڑ حملوں میں ان کی کیفیت اس شعر کے مصداق ہے: کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پہ گزر گئی دنیا تو لطف لے گی میرے واقعات سے !جہاں تک شطرنج کے کھلاڑی کا مسئلہ ہے پہلے تو ہم نے اسے ایک بہت ہی پیارے شاعر شاہ سعود کا یہ شعر سنایا
محبت سرسری قصہ نہیں ہے
ذراتفصیل میں جانا پڑے گا!
اور پھر ان کی خدمت میں عرض کرتے ہوئے کہا محبت کی تفصیل میں کون جاسکتا ہے شطرنج تو جادو ہے اس کے لیے تو کئی زندگیاں بھی کم ہیں بس قوت ارادی کے ہتھیار سے اسے ٹھکانے لگانے کی کوشش کرو!۔

متعلقہ خبریں