پھر ڈرون حملہ

پھر ڈرون حملہ

سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر ابوبکر اور ان کے ساتھی کوہنگو کے علاقے اسپین ٹل میں نشانہ بنایا گیا۔خیال رہے کہ یہ علاقہ قبائلی ایجنسیوں اورکزئی، کرم اور جنوبی وزیرستان سے منسلک ہے۔واضح رہے کہ ہنگو میں ہونے والے ڈرون حملوں کی تاحال حکومت کی جانب سے تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔یاد رہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان سمیت سات قبائلی ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا۔آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں علاقے سے دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا جس کے بعد ڈرون حملے بھی کم ہوگئے تھے۔اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے ڈرون حملے پر پاکستان کی جانب سے کسی ردعمل کے سامنے نہ آنے سے اس واقعہ کے مفاہمت سے ہونے کا عندیہ ملتا ہے ۔ امریکہ میں ٹرمپ کے بر سر اقتدا ر آنے کے بعد کسی پاکستانی علاقے میں یہ تیسرا حملہ ہے ۔ اصولی طور پر تو دہشت گرد عناصر کا پیچھا کرکے ان کے خلاف کارروائی کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن امریکی ڈرونز حملے بہر حال عوامی سطح پر ملکی سلامتی اور دفاع پر سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ باعث نفرت امر ضرور گردانے جاتے رہے ہیں اور ان کے خلاف احتجاج بھی ہوتا رہا ہے۔ پاک فوج کی جانب سے زمینی آپریشن اور علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد امریکی ڈرون حملوں کی گنجائش اور اجازت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ خواہ دشمنوں اور دہشت گردوں کے خلاف ہی کارروائی کیوں نہ ہو اس سے پاک و طن کی سرحدوں کے تقدس کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاملات انٹیلی جنس شیئر نگ اور منصوبہ بندی کی حد تک ہی رکھے جائیں عملی طور پر کارروائی کی ذمہ داری پاک فوج نبھائے ۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب بھی قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں اس کا رد عمل پاکستانی علاقوں میں اور خاص طور پر پاک فوج پر حملوں کی صورت میں ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ ہمارے تئیں اس طرح کی صورتحال کا حل یہ نہیں کہ اس طرح کے عناصر کوپاکستانی علاقے میں نشانہ بنا کرپاکستان کیلئے مشکلات پیدا کی جائیں۔ ان عناصر کے خلاف افغانستان میں وسیع پیمانے پر کارروائی ہو اور پاک افغان سرحدوں کی بہترنگرانی اور خاص طور پر افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی آمد ورفت اور ان کے کیمپوں کو ختم کر دیا جائے تو یہ زیادہ مئو ثر اور موزوں امر ہوگا ۔ پاکستان کو امریکی حکام سے ڈرون حملے کے خلاف احتجاج کرنے کی ضرورت ہے ان کو اس امر کا احساس دلایا جائے کہ ان کا یہ اقدام ملکی سرحدوں کے تقدس کی پامالی ہے جس پر پاکستانی عوام کا سیخ پا ہونا فطری امر ہوگا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کی ہیئت کو اب تبدیل ہونا چاہیئے اور اب تک اختیا ر کیئے گئے طریقہ کار کے جو نقائص اور نقصانات سامنے آئے ہیں اُن کے پیش نظر ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس سے دونوں ممالک کے دائرہ کار اور علاقائی تحفظ و سا لمیت کے احترام میں کمی واقع نہ ہو۔وقت آگیا ہے کہ ڈرون حملے مکمل طور پر بند کئے جائیں اور اس ضمن میں پاک فوج کی صلاحیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر اعتماد کیا جائے تاکہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں غلط فہمیوں کی گنجائش باقی نہ رہے ۔ مستزاد پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کا جس طرح چن چن کر صفایا کیا اس کے بعد ڈرون حملوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ اورکزئی ایجنسی کے جس علاقے میں یہ ڈرون حملہ ہواہے وہ اتنا دشوار گزار اور نا قابل رسائی بھی نہ تھا کہ پاک فوج وہاں پر با آسانی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ کرتی۔ قبل ازیں بھی اس طرح کے ایک واقعے کے باعث اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی جب 21نومبر 2013کو ٹل کے علاقہ ٹنڈا روں میں پہلا ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس میں مدرسہ مفتاع السلام کو نشانہ بنایا گیا تھا اور حقانی نیٹ ورک کے 8افراد اس حملے میں جا ں بحق ہو گئے تھے جو مدرسے میں بطور مہمان موجود تھے اور اس حملے پر پاکستان تحریک انصاف نے امریکی حکام کے خلاف ٹل پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی۔اس حملے میں جاں بحق افراد کے حوالے سے تاحال مکمل تفصیلات نہیں ملیں تاہم بتایا جاتاہے کہ مبینہ طورپر اس حملے میں حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر کے ٹھکانے کو نشانہ بنایاگیا ے جس کا مقصد پاکستانی حدود میں بندوبستی علاقے کے سنگم پر اس طرح کے عناصر کی مبینہ موجودگی ظاہر کرنا ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے موثر کارروائیوں کے بعد حقانی نیٹ ورک کی افغانستان منتقلی میں شبہ کی گنجائش نہیں گو کہ سراج الدین حقانی نے ایک آڈیو بیان میں کابل کے واقعے میں حقانی نیٹ ورک کا ہاتھ ہونے کی تردید کی تھی لیکن اس امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا کہ اس واقعے میں ممکنہ طور پر حقانی نیٹ ورک کا ہاتھ ہو۔ حقانی نیٹ ورک کے افغانستان منتقلی کے بعد افغانستان میں سنگین نوعیت کے منصوبہ بند حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کابل کو چاہئے کہ وہ اپنے علاقے میں ان کے خلاف سخت اقدامات کر ے جبکہ امریکہ کی کارروائیوں کا محور بھی افغان علاقہ ہونا چاہئے۔ پاکستان میں اولاً اس نیٹ ورک سے وابستگان کی موجودگی کا امکان کم ہی ہے اور اگر کہیں خفیہ طور پر ان کی اطلاع ملتی بھی ہے تو ان کے خلاف براہ راست کارروائی نہیں ہونی چاہئے بلکہ اطلاع پاکستان کے ساتھ شیئر کرکے پاک فوج کو ذمہ داری دی جانی چاہئے۔ پاکستان کو اس ضمن میں سفارتی سطح پر امریکہ سے احتجاج کرتے ہوئے اس طرح کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ان کو مکر آگاہ کرتے ہوئے آئندہ کے لئے اس سے اجتناب کا سنجیدہ پیغام دیا جائے۔

متعلقہ خبریں