پشاور میں اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں

پشاور میں اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں

وفاقی وزیر مذہبی امور کی جانب سے شوال کے چاند کی رویت کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں طلب کرنے کا اقدام احسن ہوگا لیکن ان کی جانب سے اجلاس میں غیر سرکاری مقامی رویت ہلال کمیٹی کے نمائندے کو اجلاس میں شرکت کی دعوت کا اقدام کوئی ایسا سنجیدہ اور ٹھوس اقدام قرار نہیں دیاجا سکتا جس سے اتفاق رائے کے ساتھ فیصلہ کرنے کی راہ نکل آئے ۔ اولاً یہ کہ ان کی دعوت پر غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا کوئی نمائندہ اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوگا۔ دوم یہ کہ غیر سرکاری کمیٹی کا اجلاس مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس سے ایک دن قبل ہی منعقد ہو چکا ہوگا جس میں اگرشوال کاچاند نظر آنے کا اعلان کیاگیاتو اجلاس میں بیٹھنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ علاوہ ازیں بھی جس روز مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا اس روز مقامی طور پر رکھے گئے روزہ داروں کے تیس روزے ویسے بھی پورے ہوں گے جس کے بعد ویسے بھی عیدالفطر ہوگی۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں مقامی کمیٹی کے نمائندے کو شریک کرنے کے لئے اگر کمیٹی اٹھائیسویں روزے کو کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد کرتی ہے تو یہ الگ بات ہوگی۔ ایسا لگتا ہے کہ وفاقی وزارت مذہبی امور اس مسئلے کے حل کی خواہاں ہی نہیں وگرنہ اس کی جانب سے جو اقدامات تجویز کئے گئے تھے ان پر کم ازکم کچھ تو پیش رفت ہو جانی چاہئے تھی۔ اس تنازعے کے خاتمے کی واحد صورت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو ہے اور اسکے چیئر مین سمیت تمام ممبران کی جگہ نئے ممبران کو اتفاق رائے سے شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسی کمیٹی کا قیام عمل میں آئے جس پر ملکی سطح پر اور خاص طور پر خیبر پختونخوا میں اعتماد کیا جاسکے۔ جب تک موجودہ کمیٹی کام کرتی رہے گی اس وقت تک خواہ کچھ بھی کیا جائے اتفاق رائے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
نوجوان ڈاکٹروں سے مذاکرات کئے جائیں
یہ امر قابل غور ہے کہ ایک جانب صوبائی حکومت کے بقول بیرون ملک سے ڈاکٹر خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں خدمات کی انجام دہی کے لئے آگئے ہیں جبکہ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ نوجوان ڈاکٹر سڑکوں اور ہسپتالوں میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس تضاد کی وجہ کیاہے اگرہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی آسامیوں کو پرکشش اور مراعات سے بھرپور بنا دیاگیا ہے اور ایک بہتر نظام مرتب ہو چکا ہے تو نوجوان ڈاکٹروں کو اس سے محروم کیوں رکھا گیا ہے۔ بہر حال اس سے قطع نظر اسے افسوسناک ہی قرار دیا جائے گا کہ جونوجوان قابلیت اور محنت کا سمندر پار کرکے میڈیکل کالجوں سے سندیافتہ ہو کر آئے ہیں ان کی آنکھوں میں سجے خواب کی تعبیر ان کو لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی صورت میں مل رہی ہے۔ نوجوان ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کے علاج معالجے کے عمل میں خلل ڈالنے کے اقدام کی کسی طور حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو پولیس کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنانا بھی درست عمل نہ تھا۔ معاشرے کے ذہین افراد سے اس طرح کا سلوک دانش کا قتل کرنے کے مترادف ہے اس طرح کے حالات دیکھ کر قابل نوجوانوں کا طب کے پیشے کی طرف رجحان کم ہوسکتا ہے۔ محکمہ صحت کو چاہئے کہ وہ پولیس کی مدد لینے کی بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کرے اور نوجوان ڈاکٹروں سے معاملات طے کرکے ان کے احتجاج کو ختم کرائے۔ پولیس کے زور پر نہ کوئی مسئلہ حل ہوسکا ہے اور نہ ہوگا۔
تحقیقات ہونی چاہئیں
اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے لیکچرار کی گاڑی سے منشیات اور اسلحہ کی برآمدگی کے الزام کی حقیقت کیا ہے آیا پولیس اپنے افسر سے الجھنے کی پاداش میں انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے یا بد قسمتی سے موصوف پر الزام درست ہے اس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اگر الزام درست پایا جائے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے اور اگر الزام میں صداقت نہیں تو یوں معلم کو رسواکرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ معاملے کی صداقت سامنے آنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ ایک ملزم اور پولیس کامعاملہ نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر معاملہ ہے۔

متعلقہ خبریں