وزیر اعظم کا دورۂ سعودی عرب

وزیر اعظم کا دورۂ سعودی عرب

سعودی عرب قطر تنازع کے فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے وزیر اعظم نواز شریف ایک اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ ثالثی کے لیے سعودی عرب گئے ہیں جہاں سعودی فرمانروا سے ان کی ملاقات بھی ہوئی ہے جنہوں نے مہمان وفد کے اعزاز میں افطار دعوت کا اہتمام کیا۔ سعودی عرب قطر کشیدگی ختم کرنے کے کی یہ واحد کوشش نہیں ہے۔ اس سے پہلے کویت کے وزیر خارجہ ایک ایسا ہی مشن لے کر ریاض کا دورہ کر چکے ہیں اور واشنگٹن میں قطر اور سعودی عرب کے وفود کے درمیان امریکی حکومت نے بھی مذاکرات کا بندوبست کیا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نواز شریف کا دورہ اس لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ ایک تو پاکستان کے تعلقات سعودی عرب اور قطر سمیت تمام خلیجی ممالک سے بہت اچھے ہیں۔ دوسرے ذاتی حیثیت میں وزیر اعظم نواز شریف کے سعود ی عرب اور قطر دونوں ملکوں کے حکمران خاندانوں سے نہایت اچھے مراسم ہیں۔ 1999ء میں جب وزیر اعظم نواز شریف پاکستان سے جلاوطن ہوئے تو انہیں سعودی عرب نے پناہ دی تھی اور قطر کے سابق وزیر اعظم نے حال ہی میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف زیر سماعت مقدمے میں ایک خط کے ذریعے ان کے موقف کی تائیدکی ہے جس خط کو شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے رویے میں تاحال جو سختی نمایاں ہے اس کے پیشِ نظر وزیر اعظم کے لیے یہ بات اہم ہونی چاہیے کہ وہ اگر دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے قریب نہیں لا سکتے تو پاکستان کے غیر جانبداری کے تاثر کو مضبوط کریں۔ شاید اسی لیے وزیر اعظم اپنے ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو لے گئے تاکہ 41اسلامی ملکوں کے اسلامی فوجی اتحاد کے مقاصد کے بارے میں کسی واضح اصولی مؤقف پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ اسلامی فوجی اتحاد کا قیام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف عمل میںلایا گیا تھا اور متفقہ تاثر یہ تھا کہ 41 ملکوں کی یہ مجوزہ فوج داعش کے خلاف قائم کی جا رہی ہے۔ اب اس کے مقاصد کے بارے میں یہ تاثر بھی شامل ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ یہ فوج اسلامی ملکوں میں پائے جانے والے شدت پسند گروپوں کے خلاف بھی استعمال کی جائے گی۔ ایسی صورت میں یہ کارروائیاں عالم اسلام کے درمیان تفرقہ کا باعث بن سکتی ہیں۔ جب کہ پاکستان بہر صورت عالم اسلام کے اتحاد و اتفاق کا داعی ہے۔ اس لیے اس دورہ کے دوران وزیر اعظم اگر سعودی حکمرانوں پر یہ واضح کریں گے کہ اسلامی فوج محض بیرونی خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہے اور اسے اندرونی تنازعات کے حل کے لیے استعمال کرنا اس کے بنیادی مقصد یعنی عالم اسلام کے اتحاد کی حفاظت کے منافی ہے تو یہ عالم اسلام کی بڑی خدمت ہوگی۔ ایسے امکانات اگر نظر آئیں تو پاکستان کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ وہ اگر فریقین کو قریب نہیں لا سکتا تو اپنی غیر جانبداری کو شکوک و شبہات سے بالا تر رکھنے کے لیے اسلامی فوج سے علیحدگی اختیار کر لے اور ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو واپس بلا لے۔ ایک خبر ایسی بھی گردش کر رہی ہے کہ اصل معاملہ قطر اور امریکہ کے درمیان مائع قدرتی گیس کی تجارت میں مسابقت کا ہے ۔ امریکہ دنیا میں مائع قدرتی گیس کے امریکی ٹرمنلز کی تعداد میں اضافے کا ارادہ رکھتا ہے اور قطر پہلے سے اس میدان میں ہے۔ پاکستان کے ساتھ قطر کی مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ سعودی عرب اور پانچ خلیجی ممالک کی طرف سے برادر اسلامی خلیجی ملک قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کے منقطع کرنے کا اعلان امریکہ کے صدر ٹرمپ کے دورہ ریاض کے فوراً بعد ہوا جو ایک زیرک بزنس مین سمجھے جاتے ہیں۔ اس قرب زمانی کی بنا پر یہ تاثر قائم ہو رہا ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے قطر کے بارے میں دہشت گردی کی حمایت کے اعتراضات خواہ جس قدر بھی حقائق پر مبنی ہیں دراصل وہ نادانستہ طور پر امریکہ کی مائع قدرتی گیس کی عالمی تجارت پر مبینہ منصوبہ بندی کے مہروں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کا اندازہ امریکہ کے زیرِ سرپرستی واشنگٹن میں ہونے والے قطری اور سعودی وفود کے مذاکرات کے رخ سے ہو جائے گا۔ قطر پر پابندیوںکے ذریعے سعودی اور خلیجی ممالک اسے کن شرائط کے تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ' یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ تاہم جہاںتک اس الزام کا تعلق ہے کہ قطر دہشت گردوںکی حمایت کرتا ہے یا انہیں سرمایہ فراہم کرتا ہے یہ الزام ناقابلِ فہم ہے۔ قطر رقبہ اور آبادی دونوںاعتبار سے ایک نہایت چھوٹا ملک ہے ۔ اس کی فوج بھی کچھ اتنی شہرت نہیںرکھتی کہ اس سے توسیع پسندی کی توقع کی جا سکے اور قطر میں دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں بھی کوئی خاص معلومات عام نہیں ہیں۔ یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ قطر میں دس ہزار کے قریب امریکی فوج مقیم ہے۔ البتہ علم و دانش کے حوالے سے قطری حکومت کا رویہ اپنے ہمسایوں سے مختلف ہے۔ قطر نے ہمسایہ ملکوںکے مختلف نقطہ ہائے نظر کے حامل اہل دانش کو پناہ دے رکھی ہے۔ لیکن پناہ تو مختلف ممالک مختلف وجوہ کی بنا پر دیتے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کو پناہ دینے کا ذکر آ چکا ہے ۔ آج کل پاکستان کے سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف دبئی میں مقیم ہیں۔ برطانیہ دنیا بھر کے مختلف سیاسی نظریات کے حامل لوگوں کو پناہ دیتا ہے۔ اس سے سیاسی نظریات کے تسلسل کا در نہیں کھلتا البتہ ایک کھڑکی کھلی رہتی ہے جو پریشر کم کرنے کا کام دیتی ہے۔ قطرمیں اگرمختلف الخیال علماء اور دانشور پناہ لیے ہوئے ہیں تو ان کی وجہ سے کہیں کوئی انقلاب برپا نہیں ہو گیا۔ امید کی جانی چاہیے کہ واشنگٹن میں سعودی عرب اور قطر کے وفود کے مذاکرات، کویت کی سفارتی کوششیں اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے کشیدگی میں کمی آئے گی ۔ تاہم اس تنازع کے برپا ہونے سے پاکستان کے لیے اس نتیجہ پر پہنچنا ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان کو عالم اسلام کے اندرونی تنازعات سے دور رہنا ہے اور عالم اسلام میں اتحاد کو فروغ دینے کی پالیسی ہی بہتر پالیسی ہے۔ 

متعلقہ خبریں