ترقی معکوس

ترقی معکوس

وزارت خزانہ کی دستا ویزات کے مطابق پاکستان نے 1963ء میں مغربی جر منی کو ترقیاتی کاموں کے لئے 20 سال کی مدت کے لئے 12 کروڑ قرضہ دیا تھا ۔ جرمنی کے علاوہ پاکستان نے ما ضی میں فرانس بیلجیئم، پولینڈ، ملائیشیائ، انڈونیشیاء اور اسکے علاوہ دیگر اور ممالک کو ان کے ترقیاتی کا موں کے لئے قرضہ دیا تھا۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان گزشتہ 59 سال سے حد سے زیادہ زوال پذیر ہے۔ وہ ملک جو دوسرے ممالک کو قرضے دیا کرتا تھا اور پانچ سالہ منصوبہ لے کے جاتے تھے آج کل خود تباہی و بر با دی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔کسی ملک کے بنانے اور سنوارنے میں وہاں کے قائدین اور لیڈران کا بڑا کر دار ہو تا ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگ انتہائی محنتی، جفا کش ہیں مگر ہمارے مُٹھی بھر لیڈرجن کے ہاتھوں میں قوم کے وسائل اور ان کے مقدر کا اختیار ہے وہ اس قابل نہیں کہ وہ ملک کی تقدیر بدل لیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے تقریباً 77 فی صد یعنی 13 کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے یعنی 300روپے دیہا ڑی سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں۔اگر ہم پاکستان کی سماجی اقتصا دی اعشاریوں پر نظر ڈالیں تو یہ انتہائی ابتری اور زوال کا شکار ہیں۔اکنامک سر وے رپو رٹ کے مطابق سال 1992ء میں پاکستان میں فی کس ماہانہ دو دھ کا استعمال 8 لیٹر تھا جو 2016میں کم ہو کر 5 لیٹر ہو گیا۔حالانکہ اس میں بڑھو تری آنی چاہئے مگر اس میں کمی واقع ہو ئی۔اسی طر ح سال 1992ء میں پاکستان میں فی کس گو شت کاا ستعمال ا کلو گرام ماہانہ تھا جو 2016ء آدھا کلو گرام ہوگیا ، اسی طرح سال 1992 میں فروٹ کا فی کس استعما ل 1 کلو گرام ماہانہ ہوا کرتا تھا جو سال 2016 میں کم ہو کر 1/2 کلو گرام تک رہ گیا۔گندم کا فی کس استعمال سال 1992 میں11کلو گرام ہو ا کرتا تھا جو سال 2016 تک کم ہو تے ہوتے 6 کلوگرام تک رہ گیا ۔ بات یہ نہیں کہ لوگ کھا تے نہیں وجہ یہ ہے کہ لوگ مہنگائی کی وجہ سے روٹی خرید نہیں سکتے۔سال 1992 میں پاکستان میں چاول کافی کس استعمال ڈیڑھ کلو گرام ما ہانہ ہوا کرتھا جو سال 2016ء میں کم ہو تے 300 گرام یعنی ایک پائو تک رہ گیا۔ہر پاکستانی 1985ء میں اپنے بجٹ کا ایک فی صد تفریحی سر گر میوں پر خرچ کر تھے جو 2016 میں کم ہوتے ہو تے 0.30 تک رہ گئی۔پرائمری سطح پر سال 1993 میں 37 طا لب علموں کے لئے ایک استاد ہوا کر تا تھا اور سال 2016میں 25 سال گزرنے کے با وجود ٹیچر اورطالب علم کی شرح 56 تک پہنچ گئی جو آبادی میں اضافے کے لحاظ سے بُہت کم ہے۔جہاں تک وطن عزیز میں صحت کا تعلق ہے تو صحت کا شعبہ بھی انتہائی ابتری اور زوال کا شکار ہے۔پاکستان صحت کی مد میں 194 ممالک کی فہر ست میں 178 ویں نمبر پر ہے جبکہ اسکے بر عکس ہمارے پڑوسی ممالک نیپال 174 ویں ، سری لنکا 141 ویںنمبر پر اور بھارت پاکستان سے آگے ہے۔پاکستان میں ڈاکٹر اور مریض کی شرح 1:1500 جب کہ کیوبامیں ڈا کٹر اور مریض کی شرح 1:170،بھارت میں1:1000 ہے،وطن عزیز میں ١٠ ہزار مریضوں کے لئے نر سوں کی تعداد ٦ ہے ۔جبکہ یہ تنا سب امریکہ میں 10ہزار مریضوں کے لئے 150، بر طانیہ میں 102 ہے۔1985 میں ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے 64 ہزار بیڈ ہوا کر تے تھے جو سال 2016 میں 30 سال گزرنے کے با وجودصرف ایک لاکھ تک پہنچ گئے جو آبا دی میں اضافے میں تنا سب کے لحا ظ سے انتہائی کم ہے۔پاکستان میں متوقع شرح زندگی 63 سال ، جبکہ اسکے بر عکس اچھی طبی اورشہری سہولیات کی وجہ سے سری لنکا متو قع شرح زندگی 75 سال،چین میں 72 سال اور ملائیشیاء میں 73 سال ہے۔سال 1992میں پاکستان میں ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی تعداد 62 ہزار تھی جو سال 2016 میں24 سال بعد ایک لاکھ 44 ہزار ، ڈینٹسٹ کی تعداد سال 1992 میں 3 ہزار جبکہ 24سال کے بعد 11 ہزار ہو گئی جو آبادی میں اضافے کے تنا سب کے لحا ظ سے بُہت کم ہے۔جہاں تک وطن عزیز میں صاف پینے کے پانی کا تعلق ہے پی سی ڈبلیو آر کی رپو رٹ کے مطابق پاکستان میں 83 فی صد پانی پینے کے قابل نہیں اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں 62 فی صد اموات نا قص پانی سے ہوتی ہیں اور بد قسمتی سے ان میں ڈھائی لاکھ بچے لُقمہ اجل بن جاتے ہیں۔جہاں تک سڑکوںاور مواصلات کا تعلق ہے تو ملک میں سڑکوںمیںاضافے کی بجائے کمی واقع ہوئی۔1995 میں وطن عزیز میں ریلوے پٹریاں 11526کلو میٹر تھیں مگر بد قسمتی سے سال 2016 ء میں 17اور 18 سال گزرنے کے با وجود بھی اس میں اضافہ نہیں ہوا۔سال 1994 میں وطن عزیز میں ڈاک خانوں کی تعداد 13419تھی جو سال 2016 میں کم ہو کر 12036 رہ گئی۔عالمی بینک کے مطابق اس وقت ہمارے ملک کے سیاست دانوں اور اشرافیہ کے بیرون ملک بینکوں میں سینکڑوں ارب ڈالرز ہیں ۔ جو پاکستان کے بین الاقوامی قرضے سے کئی چند زیادہ ہیں۔ ملک میں گیس اور بجلی لو ڈ شیڈنگ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور حکمرانوں کے پاس اسکا کوئی حل نہیں۔ پاکستان کے پسے اور محروم طبقات سے استد عا ہے کہ وہ جاگ جائیں یہ ملک 5فی صد کا رخانہ داروں ، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا نہیں بلکہ یہ ملک اُن 95 فی صد محروم اور پسے ہوئے طبقات کا ہے جن کے خون پسینے کی کمائی سے یہ سب پل رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں