دامن ہی نہیں ہاتھ پائوں بھی بچا کر رکھئے

دامن ہی نہیں ہاتھ پائوں بھی بچا کر رکھئے

بہت احتیاط کی ضرورت ہے مسلم ممالک سے تعلقات کے حوالے سے۔ کسی کھیل اور جنگ کو ایندھن فراہم کرنے کی ضرورت نہیں۔ جذباتیت پر نہیں ملکی مفاد پر پالیسیاں استوار ہوتی ہیں۔ بد قسمت سے پچھلے ستر برسوں سے ڈھنگ کی خارجہ پالیسی کے سال محض چھ ہیں۔ 16دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے اور 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے ان کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ان چھ برسوں کے دوران خارجہ پالیسی میں غیر جانبداری اور تعلقات میں قدرے توازن رہا۔ جنرل ضیاء تشریف لائے۔ کیسے اور کیوں انہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا اس بارے بہت کچھ لکھا جا چکا۔ ان سطور میں اپنی رائے بھی عرض کرتا رہاہوں۔ بھٹو صاحب کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک مقامی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے چلی۔ لاریب بھٹو انسان تھے سو ان میں کمزوریاں بھی رہی ہوں گی۔ مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام' مسلم بلاک کو فعال کرنے کی حکمت عملی ان کے دو ناقابل معافی جرم تھے۔ ان جرموں کی سزا میں بھی دار پر جھولا دئیے گئے۔ جولائی 1977ء سے پاکستان ایک بار پھر امریکی کیمپ کا پرجوش رکن ہے۔ (امریکی کیمپ میں شمولیت کا سہرا خان لیاقت علی خان کو جاتا ہے) اب ایک بار پھر ایسا لگ رہاہے کہ امریکہ ہمیں مشرق وسطیٰ کے تنازعہ میں گردن تک پھنسوانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ بصیرت کے امتحان کا مرحلہ آن پہنچا مگر کیا دستیاب قیادت میں کوئی صاحب بصیرت موجود ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نفی میں ہے۔ داخلی مسائل کرپشن اور اقربا پروری من پسند کھابے ہیں۔ حکومت کاروبار کی طرح چلائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا میں اختلاف نفرتوں میں تبدیل ہوچکے۔ 39رکنی مسلم اتحاد کی قیادت عملاً امریکہ کے پاس ہے۔ امریکہ جس کا نام ہے اس کی پالیسی اقتدار اور فہم سے عاری ہے۔ مالی مفادات اور بالا دستی کے جنون سے عبارت امریکی پالیسی نے دنیا کو رنج و الم کے سوا کچھ نہیں دیا۔ تازہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ قطر امریکہ کا پر جوش اتحادی ہے خلیج میں سب سے بڑا امریکی اڈہ قطر میں ہے لیکن نئے حالات میں اس کے ساتھ جو ہوا صدر ٹرمپ اس کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو یہ عرض کرنے کا موجب بنا کہ علاقائی بالادستی کے اس کھیل سے دامن ہی نہیں ہاتھ پائوں بچا کر رکھنا لازم ہے۔ دور کے محض ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔ وضاحت کے ساتھ کچھ یوں کہ احسان اتارنے کی خواہش کو پالیسی نہ بنایا جائے۔ پاکستان جنوبی ایشیاء میں واقع ہے۔ عربوں کے باہمی اختلافات اور جنگ و جدل سے کچھ لینا دینا نہیں ہمارا۔ اس لئے دور سے تین سلام کیجئے اور اپنے گھر میں خوش و خرم زندگی بسر کیجئے۔ عرب مسلم امریکہ کانفرنس کے مقاصد کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ فلسطینی تحریک مزاحمت کی علامت حماس کو کس کی خوشنودی کے لئے دہشت گرد کہا جا رہاہے؟ زیادہ وافح انداز میں یہ کہ عرب مسلم امریکہ کانفرنس کا بنیادی مقصد اسرائیل کو یقینی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسرائیل زندہ حقیقت ہے مگر فلسطین بھی ایک سچائی ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق اور حق حکمرانی کے احترام کے بغیر مشرق وسطیٰ میں قیام امن جاگتی آنکھ کا خواب ہی ثابت ہوگا۔ اخوان کو دہشت گرد قرار دینا جناب سیسی (مصر کے فوجی صدر) کی دلجوئی تو ہوسکتی ہے سچ ہر گز نہیں۔ اقتدار کے دنوں میں اخوان سے سیاسی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ فوجی حکمرانی ان غلطیوں کا مداوا ہر گز نہیں۔ عرب دنیا جس انتشار سے دو چار ہے اس کا علاج عربوں کے پاس ہی ہے مگر باہمی احترام میں کیا شام میں مرضی کی تبدیلیاں چا ہتے عرب بادشاہ اپنے ملکوں میں جمہوریت کے لئے دروازہ کھولنے پر آمادہ ہیں؟ انکار ہی انکار ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اپنے اپنے نظام کے کج دیکھنے پر کوئی آمادہ نہیں۔ سعودی عرب سرکاری شعبہ میں غیر ملکی ملازموں کی گنجائش ختم کرنے کی پالیسی اپنا چکا۔ وجہ معاشی مسائل ہیں لیکن دوسری طرف امریکہ سے سوا چار سو ارب ڈالر کے معاہدے اور امریکی صدرکے خاندان کو کروڑوں ڈالر کے تحائف۔ بہر طور ان کی دولت ہے جس طرح چاہے استعمال کریں۔ کاش یہ دولت مسلم دنیا کی تعمیر نو پر خرچ ہوتی۔ مسلم دنیا نہ سہی خود عرب دنیا کے۔ ریاض کانفرنس کے بعد مسلم دنیا میں جو نئی تقسیم پیدا ہوئی اس میں ترکی' ایران' قطر' شام' لبنان' عراق اور یمن فی الوقت امریکہ مخالف کیمپ میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے امتحان کے دن یہی ہیں کسی ایک پلڑے میں وزن ڈالنے کی بجائے غیر جانبداری کا راستہ اپنایا جائے تو بہتر رہے گا۔ سعودی عرب کی طرح ترکی' ایران اور قطر بھی دو طرفہ تعلقات میں ہمارے لئے اہم ہیں۔ مسلم دنیا کی عمومی صورتحال بھٹو صاحب کی یاد دلاتی ہے۔ آج وہ ہوتے تو بھرپور کوشش کرتے ان اختلافات کو طے کرانے کے لئے۔ اس ساری صورتحال میں ایک بھی شخص ایسا نہیں جو با آواز بلند حکومت کو کہہ سکے کہ جلا وطنی کے دنوں کا احسان اتارنے کی خاطر پاکستان کو کانٹوں پر نہ گھسیٹیں۔ مکرر عرض ہے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ پیسہ نہیں ملکی وقار اور طویل المدتی پالیسیاں اہم ہوتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب چار میں سے تین پڑوسیوں سے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوں دور کے دیسوں میں بجتے ڈھولوں پر دھمال ڈالنے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ اہم ہوگا۔ سیاسی طور پر موجودہ حکومت کی اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔ اخلاقی حیثیت سے محروم حکومت نے ملکی مفاد پر ذاتی تعلقات کو ترجیح دی تو انگنت مسائل پیدا ہوں گے۔ عرب دنیا کے برعکس پاکستان ایک کثیر القومی اور کثیر المسلکی ملک ہے۔ بار بار ان کالموں میں عرض کرتا چلا آرہا ہوں۔ دیکھئے ایسی پالیسیاں وضع نہ کیجئے جن سے ویسا ہی نقصان ہو جیسا افغان پالیسی کی وجہ سے اب تک ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں