دہشت گردی اور پاکستان

دہشت گردی اور پاکستان

اگر امریکی اور یورپی ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک کے اخبارات اور نیوز چینل پاکستان کوان ممالک کی فہرست میں شامل کرتے ہیں جہاں سے دہشت گردی جنم لیتی ہے اور امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کو نشانہ بناتی ہے۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی جانب سے ان الزامات کو بار بار دہرائے جانے سے نہ صرف ان ممالک کے عوام کے ذہن متاثر ہوتے ہیں بلکہ چند اہم ممالک کے دارالحکومتوں میں بیٹھے ہوئے پالیسی ساز بھی خود کواس پراپیگنڈے سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔کیونکہ پاکستان سے ہجرت کرکے جانے والے بہت سے تارکینِ وطن ان ممالک میں آباد ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس پراپیگنڈے کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔ میڈیا میں آنے والی خبروں کی وجہ سے ان پاکستانی تارکین ِ وطن کے ساتھ امتیازی سلوک کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں ۔اس طرح کے اور بھی کئی واقعات ہیں جن کو رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ اگر پاکستان کو دنیا کی نگاہ سے دیکھنے کی مثال لینی ہو تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی دورے کے دوران کی جانے والی تقریر کو اٹھا کر دیکھ لیں جس میںانہوں نے پاکستان کو ان مما لک کی فہرست میں شامل کیا جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ شام اور عراق کے بعد جس ملک نے دہشت گردی میں سب سے زیادہ قیمتی جانیں گنوائی ہیں وہ پاکستان ہے۔ شاید ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر رہنمائوں کی نظر میں پاکستان دہشت گردی سے متاثر ملک کی بجائے ان ممالک میں شامل ہے جو دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کا باعث ہیں۔ پاکستا ن کو دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اگر ہم امریکہ اور یورپ میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا جائزہ لیں تو ان کارروائیوں میں شامل کئی افراد کا تعلق پاکستان سے تھا۔ امریکی علاقے سان برنارڈو، کیلی فورنیا میں حملہ کرکے ایک درجن سے زائد افراد کی جان لینے والے جوڑے، رضوان فاروق اور تاشفین ملک کا تعلق بھی پاکستان سے تھا۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا محرکات تھے جنہوںنے اس جوڑ ے کو اپنا معصوم بچہ چھوڑ کر ایک ایسا حملہ کرنے پر مجبور کیا جس میں ان کی جان جانے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اسی طرح کا ا یک اور واقعہ لندن میں بھی پیش آچکا ہے۔ یکم مئی 2010ء کو نیویارک کے ٹائم سکوائر میں بم دھماکے کی کوشش کرنے والا فیصل شہزاد بھی پاکستان سے تعلق رکھتا تھا۔ 3 جون ، 2017ء کو لندن میں حملے کرنے والے تین میں سے ایک فرد کا تعلق پاکستان سے تھا۔ خرم شہزاد بٹ نامی یہ شخص پاکستان میں پیدا ہوا تھا اور اوائل عمری میں ہی لندن شفٹ ہو گیا تھا۔ 

خرم شہزاد کو جاننے والے ایک شخص کے مطابق وہ مشرقی لندن کی غیر رسمی انگریزی بولتا تھا اور آرسنل فٹ بال کلب کا فین تھا۔ خرم شہزاد اس وقت بھی آرسنل کی جرسی پہنے ہوئے تھا جب اس نے دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر ٹرک سے کچلنے اور چاقو کے حملوں کے ذریعے 7 افراد کو ہلاک اور دیگر48 افراد کو زخمی کیا تھا۔ خرم شہزاد بٹ ایک ایسا شخص تھا جو دہشت گردوں کی روایتی تعریف پر پورا نہیں اترتا تھا۔ وہ ایک ایسا شخص نہیں تھا جسے معاشرے نے مسترد کردیا تھا جس کی وجہ سے اس میں غصہ پایا جاتا ہو۔ خرم بٹ ، انجم چوہدری کی تنظیم المہاجرین کا حصہ تھا ۔ خرم شہزاد بٹ بھی اپنی شدت پسندانہ کارروائیوں کو زیادہ خفیہ نہیں رکھتا تھا اور اس حوالے سے وہ شدت پسندی پر بنائے جانے والی ڈاکومنٹری ۔'دا جہادیز نیکسٹ ڈور' میں حصہ لے چکا تھا۔خرم شہزاد بٹ ایک ایسا شدت پسند تھا جو کئی سال سے اپنے شدت پسندانہ رویے کا اظہار کررہا تھا اور ایک بار برطانوی انتخابات کو 'اسلام مخالف ' بھی کہہ چکا تھا۔ ہمسایوں کے مطابق خرم بٹ اپنی فیملی کے علاوہ دیگر خواتین سے بات چیت بھی نہیں کرتا تھا ا ور اس کی بیوی مکمل حجاب کی پابند تھی ۔ لیکن ان سب کے باوجود وہ ایک کثیرالنسلی معاشرے کادکھائی نہ دینے والاحصہ بن چکا تھا۔دنیا کے بہت سے ماہرین اور تحقیق کار سمجھنے کی کوشش کررہے ہیںکہ وہ کیا عوامل ہیں جو ایک عام شخص کو اس طرح کی پُرتشدد کارروائی کرنے پر اکساتے ہیں۔کئی سالوں کی تحقیق کے بعد بھی ریسرچرز آج بھی اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں ناکا م ہیں کہ ایک عام انسان کس طرح ایک شدت پسند انسان کا روپ دھار لیتا ہے۔اب ہم اس ساری بحث کو پاکستان کے تناظر میں دیکھتے ہیں ۔ پاکستان میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لئے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا تھا جس کو ایک قابلِ تحسین اقدام کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان میں ایسی شقوں کا اضافہ کیا جائے جو دوسرے ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کو شدت پسندی کی طرف جانے سے روکیں۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں