راکھشس احتساب مانگتے ہیں

راکھشس احتساب مانگتے ہیں

بد قسمتی سے ہماری سیاست پر نازی جرمنی کے پرو پیگنڈہ باز گو ئبلز کے اثرات واضح دکھائی دیتے ہیں اورہر سیاسی جماعت معاملات پر گوئبلزہی کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے تبصروں میں جھوٹ کی آویزش میں ہر حد پار کر تی دکھائی دیتی ہے ، حکمرانوں کے خلاف ان دنوں جے آئی ٹی میں جو تحقیقات جاری ہیں ان میں آئے روز نئے موڑ مڑتے ہوئے حالات پر حکومت مخالف جماعتیں جس قسم کے تبصرے کر کے سیاسی فضا کو مکدر سے مکدرتر بنانے کیلئے کو شاں ہیں ، ان کا جواب اگرچہ حکمران جماعت کے زعماء کی جانب سے برابر اور ترکی بہ ترکی جیسے محاورے کے عین مطابق دیا جارہا ہے تاہم لگتا یہی ہے کہ سرکاروالا تبار دبائو میں ہے اس لیے اس کے جوابات کوجہاں تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی کے رہنماء ماننے کو تیار نہیں اور مزید الزامات لگا کر سرکاری پارٹی کے کس بل نکا لنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ، وہاں جماعت اسلامی بھی کسی سے پیچھے نہیں اور جماعت کے سربراہ بھی عجیب وغریب (بلکہ ڈرا دینے والے )بیانات سے حالات کو گمبھیر بنا رہے ہیں ، اوپر سے کینیڈا کے مولانا ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی ایک بار پھر قدم رنجہ فرما کر اس '' لیک '' تصویر پر مفتیانہ انداز میں حکم لگا دیا ہے کہ جے آئی ٹی نون لیگ کا الیکشن سیل ہے ، تصویر خود لیک کرائی ، لگ بھگ اسی نوعیت کے تبصرے پہلے عمران خان اور حواریوں کے علاوہ چوہدری اعتزاز احسن اور پیپلز پارٹی کے بھی دیگر رہنما کر چکے ہیں ۔ مگر جب سپریم کورٹ سے حکم کے تحت جے آئی ٹی نے تصویر لیک کئے جانے والے معاملے پر تحقیقات کیں تو جواب میں اس حوالے سے یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ ''مجرم '' کا تعلق مبینہ طور پرایک انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے جسے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والوں کے سوال و جواب کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کاکام تفویض کیا گیا تھا۔

عمران خان فرماتے ہیں کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی میں پیشی سے قبل مستعفی ہوجائیں ، ادھر وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب فرماتی ہیں کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر تاریخ رقم کریں گے ، اگر ان دونوں بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو دونوں بیانات کا تعلق بھی موجود ہے ۔ عمران خان کے بیان میں وزیر اعظم پر یہ اعتراض کیا جارہا ہے کہ اگر وہ اپنے منصب پر موجود رہتے ہیں تووہ جے آئی ٹی پر دبائو ڈال سکتے ہیں ، حالانکہ جب سے جے آئی ٹی کی کارروائی شروع ہوئی ہے ، گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ کے حالات سے متر شح ہو رہا ہے کہ حکمران جماعت سخت اضطراب سے دو چار ہے اور شریف خاندان پر ماضی میں اس قسم کے حالات میں جس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے حوالے سے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ وہ کسی بھی نامساعد حالات میں سر خرو ہو کر باہر آنے کے گر استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں اس لیے موجودہ صورتحال بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی بلکہ وہ نہائے دھوئے گھوڑے کی مانند ایک بار پھر سرخرو ہو جائیں گے مگر میڈیا پر آئے روز لکھے اور کئے جانے والے تبصر و ں سے حالات ماضی کے برعکس ظاہر کئے جارہے ہیں ، اس لیے عمران خان کے الزامات میں کوئی جان نظر نہیں آتی ، جبکہ مریم اورنگزیب کا دعویٰ کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی میں پیش ہو کر تاریخ رقم کریں گے ، محل نظر ہے اس لیے کہ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں حکومت کے دو وزر ائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو کر ایسے ہی حالات کا سامنا کیا ، مریم اور نگ زیب کی بات کو اس تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا کہ وزیر اعظم نواز شریف کوئی نئی تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں ، تاہم اگر محترمہ مریم اورنگزیب کا مطمح نظریہ ہو کہ پیپلز پارٹی کے دونوں وزرائے اعظم سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور یہ ایک جے آئی ٹی ہے تو گزارش یہی کی جا سکتی ہے کہ اس جے آئی ٹی کے اوپر سپریم کورٹ ہی کا سایہ ہے اور دوران تفتیش جے آئی ٹی کی مسلسل نگرانی کا فریضہ خود سپریم کورٹ ہی ادا کر رہی ہے جبکہ تحقیقات کی مرحلہ وار رپورٹیں بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جارہی ہیں اور حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کا بنچ ہی دیکر اسے اختتام تک پہنچائے گا ۔ اب عمران خان کے مطالبے کی جانب ایک بار پھر آتے ہیں ، اور یہ جو انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے پہلے ہی مستعفی ہوجائیں تو اگر ہم اسلامی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہماری تاریخ کے بڑے بڑے جید اور قابل صد احترام شخصیات پر بھی الزامات لگتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے دور کے قاضیوں کے سامنے پیش ہونے میں نہ تو پس و پیش کی (یہ محترمہ مریم اورنگزیب کے دعوے کی بھی نفی ہے ) نہ ہی ان سے کسی نے یہ مطالبہ کیا کہ اور تو اور یہودیو ں یا غیر مسلموں کی جانب سے ان کے خلاف دعوئوں کی وجہ سے انہیں اپنے منصب سے علیحدہ ہو کر قاضی کی عدالت میں پیش ہونا چاہیئے ۔ اس لیے عمران خان کے مطالبے میں کوئی جان نہیں ۔ اور حد تو یہ ہے کہ جس طرح گزشتہ کچھ عرصے سے دوسری سیاسی جماعتوں میں کرپشن اور بد عنوانی کیلئے '' لازوال شہریت کے حامل '' لوٹوں کو تحریک انصاف میں سمویا جارہا ہے تاکہ (Electables)ہونے کی وجہ سے آنے والے الیکشنز میں ان کی وجہ سے اقتدار کا ہما اپنے سر پر بٹھا دیا جائے تو اس کے بعد کسی دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگانے کا کیا جواز رہ جاتا ہے ۔ بقول یار طرحدار خالد خواجہ
دیو تائوں کا دیس ہے جس میں
راکھشس احتساب مانگتے ہیں

متعلقہ خبریں