مشرقیات

مشرقیات

ایران کے بادشاہ یزدجرد نے مسلمانوں کے خلاف مدد حاصل کرنے کے لئے چین کے بادشاہ کو خط لکھا تو شاہ چین نے خط لانے والے قاصد سے کہا مجھے معلوم ہے کہ جب کسی بادشاہ پر دشمن غالب آجائے اور وہ دوسرے بادشاہ سے مدد طلب کرے تو اس کا حق ہے کہ وہ دوسرا بادشاہ اس کی مدد کرے لیکن پہلے تم مجھے ان لوگوں کی صفات اور حالات بتائو جنہوں نے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیا ہے کیونکہ میں دیکھ رہا ہو ں کہ تم نے ان کی تعداد کی کمی اور اپنی فوج کی کثرت کا ذکر کیا ہے اور میں نے بھی سنا ہے کہ تم لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کے باوجود یہ تھوڑی تعداد والے لوگ تم پر غالب آرہے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم میں کچھ خرابیاں ہیں اور ان میں کچھ اچھائیاں ہیں۔ قاصد کہتا ہے میں نے شاہ چین سے کہا آپ ان کے بارے میں مجھ سے جو چاہیں پوچھیں۔ ا س نے کہا کیا وہ عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں ؟ میں نے کہاجی ہاں اس نے کہا وہ لوگ جنگ کرنے سے پہلے تمہیں کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا وہ ہمیں تین باتوں کی دعوت دیتے ہیںپہلے تو ہمیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں اگر ہم اسے قبول کرلیں تو وہ ہمارے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جو وہ اپنے ساتھ کرتے ہیں پھر وہ ہمیں اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم جزیہ ادا کریں وہ ہماری حفاظت کریں گے ہم اگر ان دو باتوں کو نہ مانیں تو پھر وہ ہم سے جنگ کریں گے۔ پھر اس نے پوچھا وہ اپنے امیروں کی اطاعت کرنے میں کیسے ہیں ؟ میں نے کہا وہ اپنے امیر کی سب سے زیادہ اطاعت کرنے والے لوگ ہیں پھر اس نے پوچھا وہ کن چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں اور کن چیزوں کو حرام؟میں نے اسے مسلمانوں کے حلال وحرام کی تفصیل بتائی اس نے پوچھا کیا وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر لیتے ہیں َ؟ میں نے کہا نہیں اس نے کہا جب تک یہ لوگ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کریں گے اس وقت تک یہ ہلاک نہیں ہوںگے۔ مجھے ان کے لباس کے بارے میں بتائو ؟ میں نے ان کے لباس کی تفصیل بتائی پھر اس نے کہا ان کی سواریاں اور اونٹ بھی ہیں ۔ پھر اس نے یزد جرد کو جواب میں لکھا کہ میرے پاس اتنا بڑا لشکر ہے کہ اگرمیں اسے آپ کی مدد کے لئے بھیجوں تو اس کا پہلا حصہ ایران کے شہر مرو میں ہو گا اور آخری چین میں ، لیکن میں اسے نہیں بھیجوں گا اور اس نہ بھیجنے کی وجہ یہ نہیں کہ آپ کا جو مجھ پر حق ہے میں اسے نہیں جانتا بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا جن لوگوں سے مقابلہ ہے آپ کے قاصد نے ان کے تمام حالات مجھے تفصیل سے بتائے ہیں یہ ایسے زبردست لوگ ہیں کہ اگر یہ پہاڑوں سے ٹکراجائیں تو پہاڑریزہ ریزہ ہو جائیں اگریہ اپنی ان صفات پر باقی رہے اور یونہی بڑھتے رہے تو ایک دن مجھے بھی میری سلطنت سے ہٹا دیں گے ا س لئے آپ ان سے صلح کرلیں اور صلح صفائی کے ساتھ ان کے ساتھ رہنے پر راضی ہو جائیں اور جب تک وہ آپ کونہ چھیڑیں آپ انہیں کچھ نہ کہیں ۔
(حیاةالصحابہ حصہ سوم)

متعلقہ خبریں