پاکستان کو محفوظ بنانے کے تقاضے

پاکستان کو محفوظ بنانے کے تقاضے

ملک کی سیکورٹی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات کاعزم وقت کی اہم ضرورت ہے کہ امن و ترقی کے دشمنوں کو مادر وطن کی سلامتی اور امن میں خلل ڈالنے کی ہر گز اجازت نہ دی جائے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں سیکورٹی سے متعلق صورتحال کاجائزہ لیتے ہوئے آپریشن رد الفساد پر پیش رفت ار کامیابیوں کا جائز ہ لیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کاخاتمہ پاکستان کی سلامتی اور امن کے لئے پالیسی تقاضا ہے۔ وزیر اعظم نے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی طرف سے اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ عمل درآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے۔اجلاس کے شرکاء نے فوج اور سول سیکورٹی اہلکاروں اور پاکستان کے امن پسند لوگوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امن اور ترقی کے دشمنوں کو کبھی بھی ملک کے امن و سلامتی کی صورتحال کو خراب کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاک افغان سرحد کے بہتر انتظام کے بارے میں حالیہ اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ادھر ایک اور خبر کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردی' اسلحہ اور منشات کا راستہ روکنے کے لئے طویل افغان سرحد پر 2430کلو میٹر لمبی باڑ لگانے کے لئے مرحلہ وار کام شروع کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں افغان سرحد کے ساتھ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں 1300کلو میٹر تک اہم پوائنٹ پر ایف سی نے باڑ لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔ باڑ کے علاوہ پاکستان کے اندر گھسنے والے مشتبہ دہشت گردوں کی فضائی نگرانی کے لئے خصوصی راڈار سسٹم بھی نصب کیا جا رہا ہے جو مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے گا۔ منصوبے کے مطابق جنوبی وزیر ستان شمالی وزیرستان' کرم اور مہمند ایجنسی میں مزید 4چیک پوسٹ قائم کئے جائیں گے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آپریشن رد الفسادکے آغاز کے بعد دہشت گردوں کا صفایا کرنے کاکام تیز کئے جانے کی وجہ سے پاکستان دشمنوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور انہوں نے یکے بعد دیگرے کئی دہشت گردانہ وارداتوں کے ذریعے جہاں لا تعداد بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگے وہاں اپنے ہونے کا احساس دلانے کی بھی کوشش کی۔ مگر قانون نافذ کرنے والے سول و ملٹری اداروںکی موثر کارروائیوں میں کئی دہشت گردوں کا صفایا کردیاگیا اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لے کر دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیاگیا۔ اس دوران تفتیش سے یہ بات صاف ہوگئی کہ نہ صرف ان دہشت گردانہ اور بہیمانہ کارروائیوں کے پیچھے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہے بلکہ ان کارروائیوں کے لئے افغانستان کی سرزمین بھی استعمال کی جا رہی ہے اور خصوصاً پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کے بعد ایسے گروپوں کی معاندانہ سر گرمیاں بے نقاب کی جا چکی ہیں جو کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان میں سے بعض دوسرے ناموں سے پنجاب میں اب بھی سر گرم ہیں۔ ادھر کراچی میں گزشتہ روز ایک تعلیمی ادارے سے اسلحے اور گولہ بارود کی بڑی کھیپ کا پکڑا جانا اور اس کی ملکیت کے حوالے سے ایم کیو ایم (لندن) کا نام بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ محولہ سیاسی جماعت اب بھی سر گرم ہے اور کراچی میں امن کے قیام کو سبو تاژ کرنے کے لئے در پردہ سازشوں سے باز نہیں آرہی ہے۔ درایں حالات آپریشن رد الفساد کو مزید تقویت دے کر پہلے سے بھی زیادہ موثر انداز میں جاری رکھنا قومی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ جہاں تک پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا تعلق ہے یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے جو گروپ کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے خفیہ ٹھکانے افغان سر زمین پرواقع ہیں جہاں ہر قسم کی دہشت گردی کی تربیت کے کیمپ قائم ہیں اور جہاں سے خود کش بمباروں کی تربیت کرکے پاکستان میں حملوں کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بم بنانے کی تربیت گاہیں بھی انہی کیمپوں میں قائم ہیں اور دہشت گردی کی تربیت حاصل کرکے یہ خود کش جیکٹس اور بم بنانے والے پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیل کر وارداتیں کرتے ہیں۔ افغان سرحد پر خندقیں کھودنے' باڑ لگانے اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرنے کے لئے خصوصی راڈار سسٹم کی تنصیب سے ان معاندانہ کارروائیوں کی موثر روک تھام میں مدد ملے گی۔ اسی طرح چار مقامات پر اضافی چوکیاں قائم کرنے سے قانونی طور پر آنے جانے والوں کو سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ بھی بہت ہی مناسب ہے۔ اس لئے کہ محولہ پوائنٹس پر قانونی دستاویزات کے ذریعے آنے جانے والوں پر قدغن لگانے سے آر پار کے باشندوں کو کسی قسم کی شکایت نہیں ملنی چاہئے۔ تاہم غیر قانونی طور پر جو لوگ آکر یہاں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن کو تہ و بالا کرتے ہیں ان کا راستہ روکنے کی ہر ممکن تدبیر انتہائی ضروری ہے تاکہ ملک کی سلامتی پر کوئی آنچ نہ آئے۔

متعلقہ خبریں