غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں

غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے وزیر اعظم نواز شریف کو خط لکھ کر بے گھر پختونوں اور نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کئے جانے' گرفتاریوں اور شناختی کارڈز کی بڑے پیمانے پر بندش کے معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس سے وفاق پاکستان اور اس میں رہنے والے عوام کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ خط کے مندرجات کے مطابق پنجاب میں مزدوروں' طالب علموں' دکانداروں اور رہائشی پشتونوں کے خلاف باقاعدہ اور منظم طور پر کارراوئیوں کے خلاف عدالتی تحقیقات کے ذریعے ذمہ داروں کی نشاندہی اور وزارت داخلہ و نادرا کو فاٹا'پختونخوا اور بلوچستان کے پشتونوں کے بلاک شدہ کارڈز کھولنے' پنجاب پولیس کو پشتونوں اور ان کے مہمانوں کو تھانوں میں رجسٹریشن کرانے سے روکنے' پنجاب پولیس کے بالخصوص پشتون بستیوں میں رات کے وقت چھاپوں اور دیہاڑی دار گرفتار پشتون مزدوروں کو پنجاب کے تمام اضلاع کی پولیس کو رہا کرنے کا حکم دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اس مسئلے کو قانون' آئین اور انصاف کے ساتھ حل کرنے سے وفاق پاکستان اور اس میں رہنے والے عوام کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی بڑھے گی۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں پختون بے گھر اور نقل مکانی کرنے والے پختونوں کی کمیونٹی' نسلی نشاندہی' پروفائلنگ کی عدالتی تحقیقات کا حکم صادر کرکے اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے اور وزارت داخلہ و نادرا کو فاٹا پختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں کے بلاک شدہ شناختی کارڈز فوری طور پر کھولنے کا حکم جاری کیا جائے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آپریشن رد الفساد شروع ہونے کے بعد صوبہ پنجاب میں کاروبار' مزدوری کرنے کے لئے جانے اور وہاں رہائش اختیار کرنے والے پختونوں کو پنجاب پولیس کی جانب سے جس طور ہراساں کیاجا رہا ہے اس سے پختونوں میں شدید شکایات پیدا ہو رہی ہیں۔ بد قسمتی سے دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار بھی پختون ہیں جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں میتیں اٹھائی ہیں۔ مگر اب انہیں پنجاب میں نسلی امتیاز کا شکار بنا کر نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے جب پختون قیادت نے بھرپور آواز اٹھائی اور لگ بھگ تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی پشت پناہی کی تو پنجاب حکومت کے بعض اکابرین نے مختلف تاویلات پیش کرکے اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اصل حقائق دنیا جانتی ہے اس لئے اس تمام معاملے کی عدالتی تحقیقات انتہائی ضروری ہیں تاکہ ملک میں کسی بھی کمیونٹی کو بلا وجہ شکایت کا موقع نہ ملے۔
4ہزار میگا واٹ بجلی کی فراہمی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ آئندہ سال 18فروری سے قبل چار ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں لے آئیں گے ۔ منڈا ڈیم کی منظوری ہو چکی ہے جو 90فیصد تک وادی پشاور کوسیلا ب سے محفوظ بنا دے۔ گا انہوں نے بھاشا ڈیم ، داسو ڈیم کیلئے زمین کا حصول اور پیہورپراجیکٹ کو چلانے کیلئے طریقہ کار وضع کرنے سمیت صوبہ بھر میں خوڑ کیلئے یکسا ں قاعدہ قانون لا گو کرنے کی ہدایت کی ، چیئر مین واپڈا نے کہا کہ جو بجلی سسٹم میں شامل ہوتی جائے اس کے کلیمز واجبات میں شامل کرتے جائیں تاکہ بعد میں مسائل پیدا نہ ہوں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے تناظر میں چشمہ لفٹ کینال سکیم بھی منظور ہو چکی ہے ، اس کے علاوہ چین نے رشکئی میں چالیس ہزار کنال اراضی پر صنعتی بستی کی ترقی اور چین سے صنعتوں کی ریگولیشن میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے جبکہ منڈا ڈیم سمیت پانی کے ذخائر تعمیر کرنے سے وادی پشاور میں پینے کے پانی کی قلت پرقابو پایا جا سکے گا ۔ جہاں تک 4ہزار میگا واٹ بجلی کے سسٹم میں آنے کی بات ہے یقینا یہ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ بد قسمتی سے اس وقت ملک میں بجلی کی شدید کمی سے نہ صرف لوڈ شیڈنگ میں اضافے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اس سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ، چونکہ خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں منصوبوں سے پن بجلی حاصل کی جا سکے گی جو دیگر اقسام کی نسبت سستی ترین بجلی ہے اس لیے اس سے ملک کو بہت فائدہ ہوگا ۔ اس سلسلے میں اگر چہ چیئر مین واپڈا کا یہ مشورہ نہایت صائب ہے کہ جو بجلی سسٹم میں شامل ہوتی جائے اس کے کلیمز اور واجبات میں شامل کئے جاتے رہیں تاکہ بعد میں مسائل پیدا نہ ہوں ، تاہم خیبر پختونخوا سے پہلے جوبجلی وفاق کے سسٹم میں شامل ہے اس کی صحیح قیمت اور بقایا جات کے معاملات بھی ابھی تک حل طلب ہیں اور سالانہ منافع 16ارب پر کیپ کیا جا چکا ہے حالانکہ اب یہ کہیں سے کہیں پہنچ چکا ہے اور بقا یا جات کی مد میں صوبے کے کھربوں روپے کی ادائیگی ہونی ہے ،اس لیے صوبائی حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیئے تاکہ صوبہ ترقی کے مدارج طے کرسکے ۔

متعلقہ خبریں