عصر حاضر کے قارون

عصر حاضر کے قارون

ہمیں اپنی ایک تحریر کے لئے خواجہ حیدر علی آتش کے ایک شعر کی ضرورت پڑی۔ ذہن میں موجود تھا لیکن اس کا ایک مصرعہ جو غزل کا مقطع تھا اس میں کسی ایک لفظ کی کمی بیشی کی وجہ سے پوری طرح روانی سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ اپنے بیٹے سے تصحیح چاہی تو انہوں نے وہ پوری غزل کہیں سے تلاش کرکے سامنے رکھ دی۔ ہم نے اس کا مقطع تولے لیا' غزل جو پہلے بھی پڑھ چکے تھے اسے مسلسل دہرانے لگے۔ آتش کی اس مرصع غزل کے ہر شعر میں ایک جہان معانی پنہاں تھا۔ اس سے نہ صرف لطف اندوز ہوئے بلکہ اس کے سحر سے کافی دیر تک باہر نہ نکل سکے۔ بیٹے سے اس پر گفتگو میں ہر شعر کے پرت کھلتے گئے۔ غزل کاایک شعر ہے
زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف
قارون میں راستے میں لٹا یا خزانہ کیا
برخوردار نے بتایا کہ شعر میں دو خوبیاں ہیں جس سے اس کے حسن میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک تو صنعت حسن تعلیل ہے۔ یہ وہ صنعت ہے جس میں کسی چیز کی ایسی کوئی وجہ بیان کی جاتی ہے جو بظاہر تو درست لگتی ہے لیکن وجہ اس کی وہ نہیں ہوتی۔ ایک کھلے پھول کے درمیان میں جو بور نظر آتا ہے اس کو شاعرانہ اصلاح میں زر گل کہتے ہیں۔ شاعر نے ترکیب میں زرکے لفظ کو سونا کہہ کر اس کا تعلق مال و دولت سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ کہتے ہیں قارون جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں ایک نہایت ہی مغرور اور کنجوس دولت مند شخص تھا جب اس پر خدا کا قہر نازل ہوا تو وہ اپنی ہے پناہ دولت سمیت زمین میں زندہ دفن ہوگیا۔ چنانچہ جب پھول زمین سے سونے کے کٹورے ہاتھوں میں تھامے نمودار ہوتے ہیں دراصل یہ وہ سونا ہے جو قارون سمیت زمین کے اندر محفوظ ہے۔ ظاہرہے یہ وہ وجہ نہیں جسے شاعر بیان کرتا ہے البتہ حسن بیان نے اسے حقیقت کے قریب تر کردیا ہے۔ دوسری خوبی شعر میں صنعت تلمیح کی ہے۔ یہ کسی شعر میں پرانے تاریخی یا افسانوی واقعے کا شاعرانہ اظہار ہوتا ہے۔ شاعر نے دوسرے مصرعے میں قارون کے حرص و ہوس اور مال و دولت سے بے پناہ محبت کی جانب اشارہ کیا ہے جو اس شعر میں صنعت تلمیح کی صورت میں موجود ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قارون کے خزانوں کی کنجیاں اونٹوں پر لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جائی جاتی تھیں۔ لیکن یہ دولت اس کے کسی کام نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے دولت سمیت زندہ پاتال میں اتار دیا۔ ہم قارئین سے اپنی اس بقراطیت پر معذرت چاہتے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے جو دو خبریں ہمارے سامنے آئیں آتش کے شعر کے حوالے سے ہم نے صرف ان کی تمہید باندھنے کی کوشش کی ہے۔ جی ہاں پہلی خبر کی سرخی تھی ''حیدر آباد' محکمہ تعلیم کا کرپٹ افسر گرفتار' اڑھائی ارب روپے کا مال ضبط''۔ یہ حضرت گریڈ سولہ کے افسر بتائے جاتے ہیں اور میر پور خاص میں آفس سپرنٹنڈنٹ کے منصب جلیلہ پر فائز تھے۔ اس نے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے لوگوں سے کروڑوں روپے رشوت بٹور کر غیر قانونی بھرتیاں کروائیں۔ ظاہر ہے رشوت لے کر کوئی قانونی کام تو نہیں کرسکتا۔ چھاپے کے د وران اس کے گھر سے کروڑوں روپے مالیت کے 5 فلیٹس کی دستاویزات '4کروڑ کے پرائز بانڈز' دو قیمتی گاڑیاں اور دیگر سامان برآمد ہوا۔ اخبار کے مطابق ملزم کے خلاف نیب کراچی میں کرپشن کے دو کیس درج ہیں اور ریفرنس زیر سماعت ہے۔ چونکہ وہ عدالت سے ضمانت پر تھا اس لئے اس کی گرفتاری پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا اوراب حیدر آباد کے ایک دوسرے سرکاری افسر کا بھی ذکر سن لیجئے۔ یہ ایڈیشنل اکائونٹ افسر ہیں۔ ان کی گرفتاری کی خبر اس شہ سرخی کے ساتھ نظر نواز ہوئی۔'' سرکاری افسر اربوں کا مالک' 3کلو سونا' 9گاڑیاں' غیر ملکی کرنسی برآمد۔'' ایسے موقعوں پر ہمارے ایک عزیز کے منہ سے حیرت کے اظہار کے لئے یہ جملہ نکلتا ہے ۔ اس تہ ووایہ چی زہ ووایم' مطلب اس کا یہ ہے اب آپ ہی بتائیں کہ ہم اس قارونیت پر کیا تبصرہ کرسکتے ہیں۔ صرف اس گڑ بڑ گھٹالے کی تفصیل ہی بیان کرنا ہمارے بس میں ہے جس کے مطابق اس ایڈیشنل اکائونٹس آفیسر کو اس کے بیٹے کی نشاندہی پر گرفتار کیاگیا ہے جو پہلے ہی سے پولیس کی تحویل میں تھا۔ برخوردار کے جرم کے بارے میں کچھ نہیں بتایاگیا البتہ ان کے والد گرامی سے برآمد ہونے والے سامان میں 17.3 ملین روپے کی نقدی و پرائز بانڈ' 37ہزار سعودی ریال' 3کلو گرام سونا' 9گاڑیاں' ایک طلائی گھڑی' ڈی ایچ کراچی میں دو پلاٹوں کی دستاویزات' ہالہ میں دو گھر' وہاں پر ہی 45ایکڑ پر محیط ایک فارم ہائوس' 85بھینسیں' 31گائیں' 30بکریاں '3ہرن' 4مور' 200ایکڑ زرعی رقبہ' حیدر آباد میں 3گھر' 2فلیٹ' سیونگ سرٹیفیکیٹس' 40ملین روپے کی سرمایہ کاری کی دستاویزات اور مختلف بینک اکائونٹس کے 31چیک بکس بھی شامل ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں اگر قرون اولیٰ کے دور کا قارون زندہ ہو کر ان لوگوں کے سامنے آیا تو وہ دور حاضر کے ان قارونوں کو دیکھ کر شرم سے ایک بار پھر زندہ دفن ہونا پسند کرے گا۔ دیکھتے ہیں کہ اب ان قارونوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اگر بلوچستان کے وہ ایک فنانس سیکرٹری جن کے گھر کے غسل خانوں سے کرنسی کے بھرے ٹرنک برآمد ہوئے تھے اور جنہیں بعد میں پلی بارگین کے قانون کے تحت رہا کردیا گیا تھا وہی سلوک اگر ان سے بھی ہوا تو پھر دور حاضر کے قارونوں کی پیش بندی ممکن نہ ہوگی۔ یہ وقوعے دیکھ کر ہم سوچتے ہیں کہ ایک شخص میں کتنی لالچ ہوتی ہے اور اسے کتنی دولت چاہئے؟۔ دفن ہونے کے لئے ڈیڑھ گز کی زمین اور چند گز کا کفن تو فٹ پاتھ پر پڑی بے سہارا لاش کو بھی مل جاتا ہے تو پھر اس قدر قارونیت کی ضرورت؟ مگر دور حاضر کے قارونوں کو کون سمجھائے؟۔

متعلقہ خبریں