سیل فون

سیل فون

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں سیل فون کے سوا یہ تو دنیا کا ایک عام سا دستور ہے کہ چند ذاتی دوستوں کو چھوڑ کر عام معمول یہی ہے کہ جسے کوئی غرض ہوتی ہے کوئی کام ہوتا ہے وہی آپ کو کال کرے گا اور اگر آپ ہر کال اٹینڈ کرنے کو ایک اچھی تہذیبی علامت سمجھتے ہیں تو یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر اچھا کام مشقت کا متقاضی ہوتا ہے ہمارے حلقہ احباب میں چند دوست ایسے بھی ہیں جن کا سیل فون چوبیس گھنٹے آن ہوتا ہے اور وہ یہ بات بڑے دثوق سے کرتے ہیں کہ آپ جس وقت بھی کال کریں ہم آپ کی کال ضرور اٹینڈ کریں گے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ورنہ ہم نے تو جہانگیر پورہ بازار میں لوگوں کو سیل فون پر یہ کہتے سنا ہے کہ اس وقت تو میں حیات آباد میں ہوںآپ پھر کسی وقت کال کرلیں تو تفصیلی بات ہو جائے گی۔ ہمارے ایک مہربان نے ایک مرتبہ اپنے دوست سے سیل فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں تو اس وقت کینٹ ایریا میں ہوں اس لیے آپ میری طرف آنے کی زحمت گوارا نہ کرو جب فراغت ہوگی تو میں خود آپ کو کال کرلوں گا تو دوست نے جلدی سے کہا کہ یہ تو اچھی بات ہے میں بھی کینٹ میں ہوں تم کہاں ہو۔ یہ صاحب بڑے حاضر دماغ تھے دوست کو جلدی سے کہا کہ یار میں راولپنڈی کینٹ کی بات کررہا ہوں تم شاید پشاور صدر سمجھ رہے ہو۔سیل فون پر اس قسم کے ڈرامے چلتے رہتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ ان ڈراموں لطیفوں کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم تہذیب ناآشنا ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ نماز کے اوقات میں کسی کو کال کرنا مناسب نہیں ہے۔ کھانے کے اوقات یا کھانے کے بعد آرام کے لمحات میں کسی کو فون کرنا آداب کے خلاف ہے ہم اس با ت کا خیال بھی نہیں کرتے کہ جب کوئی تین مرتبہ رنگ سننے کے بعد فون نہ اٹھائے تو ہم خود ہی سلسلہ منقطع کردیں بس ہم گھنٹیوں پر گھنٹیاں دیتے رہتے ہیں۔اگر ہمارے رویے درست ہو جا ئیں ہم دوسروں کی مصروفیت کا خیال رکھیں وقت کی قدر کرنا سیکھ جائیں جھوٹ سے پرہیز کریں خود غرضی چھوڑ دیں دوسروں کے احساسات کا خیال رکھیں تو سیل فون کے حوالے سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔دنیا میں ہرچیز کی کچھ اقسام ہوتی ہیں اچھے برے پہلو ہوتے ہیں روشنی کے پہلو بہ پہلو تاریکی بھی موجود ہوتی ہے۔ جہاں سچ ہے تو وہاں جھوٹ بھی ہوگا سخاوت کے ساتھ ساتھ کنجوسی بھی حاضر جناب ہوتی ہے۔ جہاں مہمان دار ی ہوتی ہے وہاں مہمان بے زاری بھی موجود ہے۔ آدمی کس کس بات کا ذکر کرے اور کس کس چیز کو گنوائے بس یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا مجموعہ اضداد ہے اور ہر چیز کی قدروقیمت کا احساس اس کی ضد ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر تاریکی کا وجود نہ ہوتا تو روشنی کی کیا قدر ہوتی جوانی کی قدروقیمت اسی لیے ہے کہ ساتھ ہی بڑھاپا بھی موجود ہے اگر بڑھاپا نہ ہوتا اور صرف جوانی ہی ہوتی تو جوانی کی کیا قدر ہوتی ہر اس چیز کی قدر ہوتی ہے جس کے کھونے کا ڈر ہوتا ہے زندگی کی قدر اسی لیے ہے کہ اس پر ہروقت موت کی تلوار لٹک رہی ہے کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا لمحہ حضرت انسان کے لیے کیا لے کر آئے گانہیں معلوم کہ کس وقت اسے یہ بھرا میلہ چھوڑ کر اپنے اصل گھر کی طرف کوچ کرنا پڑ جائے۔انہی انہونیوںنے زندگی میں قوس قزح کے رنگ بھر رکھے ہیں ہر لمحہ صورتحال بدلتی رہتی ہے۔ آج غم تو کل خوشی اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ جو چند لمحات خوشی کے میسر آجائیں انہیں غنیمت سمجھنا چاہیے اور پھر خوشی تو ایک دماغی کیفیت کا نام ہے اپنی خوشی کے لیے آپ کو تگ و دو کرنا پڑتی ہے یہ اتنی آسانی سے آپ کے در پر دستک نہیں دیتی جو لوگ جمع تفریق کے بہت زیادہ قائل ہوتے ہیں اور ہر بات کا پورا پورا حساب رکھتے ہیں انہیں خوشی کے مواقع کم ہی میسر آتے ہیںوہ خوشیوں میں بھی غم کے پہلو تلاش کرتے رہتے ہیں ہمارے ایک بہت پیارے دوست ایک دن ہمیں کہنے لگے یار میں بہت پریشان ہوں جب ہم نے ان سے پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کل کوئی کہہ رہا تھا کہ آنے والے چند سالوں میں پاکستان سے سوئی گیس ختم ہوجائے گی ۔ہم نے ان کی بات سن کر ایک چھت شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ یا ر اگلے لمحے کا ہمیں نہیں پتہ کہ کیا ہوجائے اور آپ سالوں کی فکر لیے بیٹھے ہو جس نے سوئی گیس جیسی نعمت عطا کی ہے وہ اس کے ختم ہونے پر کوئی اور سبب بنا دے گا جس نے پیدا کیا ہے وہ ہماری فکر بھی کرے گا۔ واصف علی واصف نے بڑی اچھی بات کہی تھی کہ خوش نصیب ہے وہ شخص جو اپنے نصیب پر خوش ہے ۔ یہ ایک رویہ ہے ایک سوچ ہے جو مل جائے اسے غنیمت سمجھو اور جو میسر نہیں ہے اس کے حصول کے لیے تگ و دو کرنا آپ کا حق ہے لیکن اسے دل کا روگ نہیں بنانا یہ سوچ ہر وقت پیش نظر رہے کہ انسان اس دنیامیں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ جاتا ہے۔ اسے جو کچھ ملتا ہے اسی دنیا میں ملتا ہے اور یہ انسان کا منافع ہی تو ہوتا ہے اسے سب کچھ اللہ عطا کرتا ہے اورانسان اس دنیا میں جو کچھ کھوتا ہے وہ اس نے اسی دنیا میں کمایا ہوتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا ضرورت ہے مقصد نہیں ہے بس اس کی چاہت کو دل میں نہیں بسانا۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ اب ہمارے لیے سیل فون سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں رہا یہ اب ہماری زندگی کا لازمی جز بن کر رہ گیا ہے۔ صبح سویرے بہت سے دوستوں کی طرف سے پرخلوص دعائیں اور نیک تمنائوں کے پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیں جو یقینا خوشی کی بات ہے۔

متعلقہ خبریں