ہماری تخلیق کا مقصد

ہماری تخلیق کا مقصد

چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر ہم اکثر بڑی بڑی باتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور زندگی اسی طرح منزلوں پر منزلیں مارتی اپنے انجام کی جانب لپکتی رہتی ہے ۔ کبھی ایک لمحے کو خیال بھی آئے کہ کیا ہمارا زندگی میں مقصد صرف معاش ہی کمانا تھا تو دوسرے ہی لمحے سر جھٹک کر ، تاویل کی انگلی تھام کر ہم پھر معاش کی راہ پر سر پٹ دوڑنے لگتے ہیں۔ بالکل ایسا جیسے کوئی سدھا یا ہوا شیر چا بک کے زناٹے کی آواز پر اپنے آپ کو یکسو کر لیتا ہے ۔ اور اس ننھے سٹول پر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں کھڑا ہو جانے کی اسے تر بیت دی گئی ہے ۔ تابعداری کے اس لمحے میں اس کا دھیان صرف اپنے مالک کو خوش کرنے اور چابک کی مار سے بچنے تک ہی محدود ہوتا ہے ۔ اسی ایک لمحے میں اسے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ شیر ہے ۔ شیر جو جنگل کا بادشاہ ہے اس کے لیے تو وہ سر کس ہی ساری دنیا ہے اور تمام تر خوشیوں کا منبع شاید اس کے مالک کے سر کی ہلکی سی جنبش جس کا مطلب ہے کہ سب ٹھیک ہو گیا ہے اور مار کے امکانات آج کے لیے معدوم ہو چکے ہیں ۔ ہم سب کی کیفیات بھی اس زندگی میں اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ۔ ہم بھول ہی چکے ہیں کہ ہمیں اشرف المخلوقات بنایا گیا تھا ۔ یہ اشرف المخلوقات ہونے کا حصہ تھا کہ ہماری زندگیوں میں کچھ اعلیٰ مقاصد ہوتے ۔ کچھ منزلیں ایسی بھی ہوتیں جو معاش کے راستوں سے ذرا ہٹ کر ہوتیں ۔ کچھ باتیں اس لیے بھی کی جاتیں کہ ان کا فائدہ کسی اور کو ہوتا اور کسی اور کے فائدے سے ہمیں نفس مطمئنہ حاصل ہوتا ۔ لیکن ہم اور آپ تو اس زندگی کی مسافت کی گرد میں گم ہو کر رہ گئے ۔ ہمارا انسان ہونا بس اسی طرح ہمارے ہی ہاتھوں مسلسل پامالی کا شکار رہتا ہے ۔ معاش کے چابک کی ا یک زناٹے دار آواز ہمیں اس ننھے سٹول پر کھڑے ہوجانے پر مجبور کر دیتی ہے جس کے بارے میں ہم نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں ہوتا کہ وہ ہماری منزل بن جائے گا ۔ معاش کے سرکس میں اپنے اصل مالک کو بھول کر ہم صرف اس دوسرے انسان کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں جو کبھی بھی اپنے عہدے کے چابک سے ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ اسکے چہرے کی شکنوں میں اپنے لیے پسند ید گی اور ہمیں فائدہ پہنچا نے کی آمادگی ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم یہ بھول ہی جاتے ہیں کہ اس زندگی کا مقصد اس سرکس سے باہر کہیں کھلی فضائوں میں سانس لے رہا ہے اور شاید ہماری کیفیت پر افسردگی کا شکارہے ۔ یہ نہیں کہ معاش کمانا ہماری زندگیوں میں شامل نہیں ہونا چاہیئے ۔ اس کی اہمیت سے تو سفر ہی ممکن نہیں لیکن اپنے بچوں کے لیے جنگل میں شیرنی بھی شکار کرکے لاتی ہے ۔ اسکی آزادی میں اسکی پیدائش کا مقصد پنہاںہے ۔ وہ Cricle of lifeمیں اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ شیربھی اپنی جگہ اپنی آزادی کے ساتھ ، اس زندگی کے دائرے میں بندھا ہوا ہے ۔ معاملات میں بگاڑ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس دائرے کی آزادیوں کو اپنے اوپر کس کر باندھ لینے والے انسان یہ سمجھتے ہیں کہ دراصل ان کی زندگی کا یہ ہی سب سے ارفع دور تھا ۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ انسا ن پیدا کیے گئے تھے ۔ حشرات الارض جیسی زندگی گزارنے میںانہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔ کوئی پشیمانی نہیں ہوتی ۔ کوئی تعرض نہیں ہوتا ۔ وہ اپنی سوچ کو اس حد تک محدود کر لیتے ہیں اور اس میں خوش رہتے ہیں ۔ انہیں لمحہ بھر کو بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے صرف معاش کی تگ و دو تک محدود رہ جانے کے لیے پیدا نہیں کیا تھا ۔ انہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی دی تھیں ۔ اُسے غور کرنے اور کائنات کے بھید جاننے اور جستجو کا بھی حکم دیا تھا ۔کتنی ہی بار اسی معیشت کے کو لہو میںجُتے ، ہمیں اگر کبھی اس بندش سے بالا تر ہو کر سوچنے کا خیال بھی آئے تو انسان اپنے آپ کو خود ہی محدود کر لیتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے ہانپنے کی آواز تو یوں ہی اسکی ذمہ داری کی آواز میں دب جانی ہے سو ، وہ اس سے آگے بڑھنے کا سوچتا ہی نہیں ۔ لیکن کیا ہمیں بس اسی لیے تخلیق کیا گیا تھا اور پھر ہمارے کاندھے کی وہ تھپکی جو ہمیں مالک و معبود نے دی ، کہ ''جائو میں نے تمہیں اس زمین میں خلیفہ بنادیا ۔ ہم کیسے اشر ف المخلوقات بنے کہ اس تھپکی کو آکر فکر معاش کے گرداب میں ڈبو بیٹھے ۔ ہم مسلمان ہیں لیکن ایک عرصے سے کسی مسلمان نے کسی ایجاد ، کسی دریافت کا کوئی سہرا اپنے سر نہیںباندھا ۔ ہمیں حکم تھا کہ ہم غور کریں ، لیکن ہم تو بھول گئے کہ ہمارے احکامات کیا تھے ۔ ایک کے بعد ایک ہم اپنے کاندھو ں کے پھو ل خود ہی نوچ کر پھینکتے چلے گئے اور لمحے بھر کو بھی نہ سوچا کہ کیا ہم خود اپنی ہی تخلیق کے مقصد کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں ۔ سوچتی ہوں تو مجھے خود اس تخلیق کا مقصد ، زندگی کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ گیا لگتا ہے ۔ اگر انسانوں کو مالک دو جہاں نے بنا مقصد تخلیق نہیں کیا تھا اور اس سے کیسے تخلیق کیا ہوگا ، کہ اس نے تو کوئی شئے اس جہاں میں بنا مقصد نہیںبنائی ، تو پھر ہم کیسے صرف معاش کے گڈے کی لکیر میں پھنس کر رہ گئے ۔ ہم غور کیوں نہیں کرتے ۔ اگر ہمیں یہ سکھا یا نہ گیا تھا تو کیا اب بھی کوئی نروان کی آنکھ ہمارے اندر نہیں کھلتی ۔ 

متعلقہ خبریں