وہ زندہ رہنے کا کچھ حوصلہ تو دیتا ہے

وہ زندہ رہنے کا کچھ حوصلہ تو دیتا ہے

مرزا غالب نے گالی کا جو اصول وضع کیا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ بچے کو ماں' جوان کو بہن' مرد کو بیوی اور بزرگ کو بیٹی کی گالی دی جائے تو اس کا خون جوش مارتا ہے۔ یہ بات مرزا نے اپنے ایک مکتوب میں کسی دوست کو لکھی ہے جو ان کو کسی شخص کی جانب سے گالیوں بھرا رقعہ ملنے کے بعد انہوں نے کہا تھا جس میں انہیں جس قسم کی گالیاں دی گئی تھیں اس پر مرزا نے کوئی ری ایکشن دینے کی بجائے گالیوں کے اثر پذیر ہونے کا کلیہ بیان کردیا تھا۔ گویا گالیوں بھرے رقعے کو بھی انہوں نے اپنے ہی شعرکی تفسیر بنا کر رکھ دیا تھا کہ

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا
اب یہ تو نہیں پتہ کہ جس ''رقیب'' نے مرزا صاحب کو گالیوں سے نواز تھا اس کے لبوں میں شیرینی تھی یا نہیں۔ تاہم جہاں تک مرزا صاحب کے ا یجاد کئے ہوئے کلیے کی بات ہے کم از کم پختونوں پر اس کا اطلاق نہیں کیاجاسکتا۔ اس لئے کہ پختونوں کے نزدیک ماں' بہن' بیوی اور بیٹی کے رشتوں کے تقدس کے حوالے سے کوئی تخصیص نہیں ہے۔ اور وہ ان تمام رشتوں سے اس قدر جذباتی لگائو رکھتے ہیں کہ ان میں سے کسی بھی رشتے کو توہین آمیز الفاظ سے کوئی یاد کرے جواب میں مکا تو بنتا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مراد سعید نے لیگ (ن) کے جاوید لطیف کی جانب سے ان کی عزت مآب بہنوں کی شان میں گستاخی کا مراد سعید نے موصوف کو مزہ چکھانے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہیں کی اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے کہا ہے کہ مراد سعید نے تو صرف مکا رسید کیا میں ہوتا تو اس سے بھی آگے چلا جاتا۔ اس پر ہمارے اخبار کے کارٹونسٹ نے بہت ہی معنی خیز کارٹون بنا کر ایک حصے میں مکا دکھایا ہے جبکہ دوسرے حصے میں ایک ہاتھ میں خنجر دکھائی دے رہاہے۔ ویسے جس روز یہ نا خوشگوار واقعہ ہوا اس کی فوٹیج میں مراد سعید کو کچھ لوگ روکنے کی کوشش کرتے دیکھے جاسکتے ہیں جن سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے مراد سعید انہیں غصے میں یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے کہ ''چھوڑو مجھے'' اور محتاط اندازے کے مطابق کہا جاسکتا ہے کہ اگر مراد سعید کو وہ لوگ دور نہ لے جاتے تو شاید وہ بھی بقول عمران خان ''مزید آگے چلا جاتا'' کیونکہ اس واقعے کے بعد بعض لوگوں کی جانب سے یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ پختون گولی برداشت کرسکتا ہے گالی نہیں ۔ سیانوں کا قول ہے کہ دوسروں کے رشتوں کا احترام نہ کرنے والوں کو دراصل اپنے رشتوں کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ مگر پشتو میں ایک محاورہ ہے کہ بگڑا ہوا منہ سیدھا کرنے کے لئے مکا ہی کافی ہوتا ہے۔ شاید ایک پختون ہونے کے ناتے مراد سعید نے بھی اس محاورے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہر حال یہ واقعہ افسوسناک ہے اور اس قسم کے واقعات کی آئندہ پارلیمانی سیاست میں روک تھام بہت ضروری ہے۔ تاہم وہ جو انگریزی کا مقولہ ہے کہ Respect begets respect یعنی احترام ہی احترام کا موجب بنتا ہے تو آخر کسی کو اپنا احترام کرانا مقصود ہوتو وہ دوسروں کے احترام کو ضرور ملحوظ خاطر رکھے ، خواہ مقابل عمر میں کتنا ہی چھوٹا نہ ہو ،ا گر آپ یہ سوچ کر کہ یہ تو مجھ سے عمر میں بہت چھوٹا بلکہ میرے بچوں کی عمر کا ہے اس کی توہین پر اتر آئیں گے تو یقینا وہ بھی آپ کی عزت کرنے کا پابند نہیں ہوگا ۔ در اصل یہ سارا کیا دھر ا انگریز کا ہے جس نے دنیا کو یہ اصول تو سمجھا دیا ہے کہ پہلے لوگوں کی بے عزتی کرو اور بعد میں ''سوری '' کہہ کر سب کچھ پر ''مٹی پائو''، مگر یہ اصول ہمارے ہاں کسی بھی صورت نہیں چل سکتا ، کیونکہ انگریز وں کا معاشرہ اور معاشرتی روا یات ہم سے بہت الگ ہیں۔ ان کے اس رویئے کی بنیادتو سور جیسے بے غیرت جانور کا گوشت کھانے کی وجہ سے پڑی ہے جبکہ مسلمانوں اور خصوصاً پختون تو بقول شخصے سنڈے کا گوشت کھانے والے ہیں اور ان کا رویہ یقینا ''سور'' کا گوشت کھانے والوں جیسا ہو ہی نہیں سکتا ، ہاں اگر دنیا کی دوسری اقوام ان کے فلسفہ ''سوری '' کی آبیاری کرتے ہیں توان کی مرضی ۔ رہ گیا یہ معاملہ جس نے گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستانی سیاست میں ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے تو اس کو افہا م و تفہیم سے حل کرنے کیلئے سیاسی قائدین کو ضرور آگے آنا چاہیئے ۔ اور چونکہ پختونوں کی ایک اور خاصیت بھی جانی پہچا نی ہے اور وہ یہ کہ جب ان کے چانی دشمن بھی '' نناواتے '' لے کر ان کے ہاں چلے جا تے ہیں تو پختون اس قدر وسیع القلب ہیں کہ ذاتی دشمنیوں کو تج دیتے ہیں اور اپنے عزیزوں رشتہ داروں کا خون تک بخش دیتے ہیں ، لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ان سے صمیم قلب سے معافی مانگی جائے ۔ نہ کہ انگریزوں کے لہجے کی نقل کرتے ہوئے صرف سوری کہنے پر اکتفا کیا جائے ۔ بقول اعزاز احمد آزاد
غلط یا ٹھیک مجھے مشورہ تو دیتا ہے
وہ زندہ رہنے کا کچھ حوصلہ تو دیتا ہے
یہ خبریں یقینا حوصلہ افزاء ہیں کہ مراد سعید اور جاوید لطیف کے مابین تنازعے کو حل کرنے کیلئے دونوں جماعتوں کے رہنما سر گرم ہو چکے ہیں اور انشا ء اللہ اس معاملے کو سلجھانے کی کوششیں کامیاب ہو جائیں گی ۔ تاہم ضروری ہے کہ بزرگوں کی کہی ہوئی باتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ، جو بعض اوقات پتھر پر لکیر ثابت ہو تی ہیں ، اور وہ یہ ہے کہ پہلے تولو پھر بولو بلا سوچے سمجھے اگر کوئی زبان کھولتا ہے توا س کے نتائج اچھے نہیں نکلتے اور آخر میں ، ان سب دوستوں اور بہی خوا ہوں کا شکریہ جنہوں نے میرے برادر اکبر حاجی اقبال احمد پراچہ کی وفات پر ذاتی طور سے ان کے جنازے میں شرکت کی فاتحہ خوانی کیلئے تشریف لائے ۔ بذریعہ فون رابطہ کر کے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی درجات کی بلندی کیلئے دعا فرمائی ۔ اللہ ایسے تمام احباب کو جزائے خیر دے ۔( آمین)

متعلقہ خبریں