وقت لگتا ہے پودے کو شجر سایہ دار ہونے تک

وقت لگتا ہے پودے کو شجر سایہ دار ہونے تک

خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے شجرکاری مہم بہت اچھا اقدام ہے لیکن یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ سال عمران خان کی نگرانی میں جو کروڑوں درخت لگائے گئے، ان کا کیا حشر ہوا اور موجودہ شجرکاری مہم بلین ٹری سونامی کو کیسے مکمل کیا جائے گا؟کیونکہ درخت زمین کا زیور ہیں، درختوں کی حفاظت کرکے ہم ملک کو جنت نظیر بناسکتے ہیں۔ جنگلات انسانی زندگی کے لئے اورجنگلی جانوروں کی بقا کے لئے ضروری ہیں۔ جنگلات سے ہمیں طبی اہمیت کی جڑی بوٹیاں عمارتی لکڑی اورسوختنی لکڑی حاصل ہوتی ہیں۔ جنگلات کسی جگہ کی آب وہوا کو تبدیل کرنے میں بھی اہم کردار اداکرتے ہیں۔ درختوں کے پتوں سے پانی کے بخارات ہوا میں داخل ہوتے ہیں تو ہوا میں نمی کا تناسب موزوں رہتاہے۔ اور آب وہوا خشک نہیں ہونے پاتی۔ یہی بخارات اوپرجاکر بادلوں کی بناوٹ میں مدد دیتے ہیں۔ جس سے بارش ممکن ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی درخت بادلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ جنگلات انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جنگلی حیوانات کے لئے بھی سود مند ہوتے ہیں۔ وہ انہیں خوراک اورتحفظ مہیاکرتے ہیں اور ان کی افزائش، نسل اور پرورش کے لئے جگہ فراہم کرتے ہیں درخت سرسبز پاکستان میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہر سال محکمہ جنگلات کی طرف سے ملک بھر میں پودے لگانے کی مہم کا آغاز بھی بڑے زور وشور سے ہوتا ہے اور اس سلسلے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ آج لگنے والے ننھے پودے کل کو تناوردرخت بن کر جہاں وطن عزیزکی فضاؤں کو آکسیجن مہیا کریں گے۔ وہاں درختوں کی لکڑی سے مختلف اشیا بھی بنائی جاتی ہیں اگرچہ پاکستان میں زیادہ تر لکڑی کا استعمال گھر یا دفتری فرنیچر کی تیاری میں ہوتا ہے لیکن دنیا کے سردممالک میں زیادہ تر گھروں کی تعمیر میں لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ درختوں کی ایسی افادیت کے پیش نظرپاکستان میں بھی ہر سال پودے لگانے کے سلسلے میں مہم چلائی جاتی ہے تاکہ ہر پاکستانی اس میں حصہ لے اور زیادہ سے زیادہ پودے لگائے تاکہ وہ نہیں تو آنے والی نسل اس سے استفادہ کرے۔ ننھے پودوں کی دیکھ بھال کے لئے کتابچے بھی شائع کئے جاتے ہیں تاکہ اچھی نشو و نما سے وہ پودا ایک درخت کی شکل اختیار کرے اگر ایک طرف اس سلسلے میں اقدامات کئے جاتے ہیں اور شہروں میں درختوں کی افادیت پر بڑے بڑے بینر بھی آویزاں کر کے عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جاتی ہے ۔پاکستان میں درختوں کی کمی نہیں اور شمالی علاقہ جات کے ساتھ پنجاب میں بھی درختوں کی بھرمار ہے۔بیش قیمت درختوں کی غیر قانونی کٹائی کرکے جہاں جنگلات کو کم کیا جا رہا ہے۔ وہاں حکومت کے خزانے کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ جنگلی جانوروں اورپودوں کا چونکہ آپس میں گہرا تعلق ہوتاہے۔ اس لئے جنگلات کی کمی سے جنگلی جانوروں کی بقا بری طرح متاثر ہوتی ہے اورماحولیاتی نظام درہم برہم ہوجاتاہے۔ جنگلات کی غیرموجودگی میں زمین پربرسنے والی بارش اپنے ساتھ مٹی بھی بہاکرلے جاتی ہے جس سے زمین مٹی میں موجود غذائی اجزاسے محروم ہوجاتی ہے۔ جب بارش سے سیلاب آتے ہیں تو جنگلات کے درختوں کی جڑیں زمین کو اسفنج کی طرح بنادیتی ہیں۔اور یہ زمین بہت سا سیلابی پانی روک لیتی ہے۔ جس سے سیلاب کے پانی کی رفتار کم ہوجاتی ہے اس لئے وہ زمین کا کٹاؤ کرنے کے قابل نہیں رہتا اور زمین کی زرخیزی بھی بڑی حد تک ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔ دراصل درختوں کی جڑیں مٹی کے ذرات کوباہمی طورپر اچھی طرح پکڑلیتی ہیں۔ جس سے زمین نہ صرف سیلابی پانی کے کٹاؤ سے محفوظ رہتی ہے بلکہ سیلاب کے گزرجانے کے بعد ہوا کے کٹاؤ سے بھی زمین کی اوپری سطح کی زرخیزمٹی کو اڑاکر دورچلے جانے سے روک لیتی ہے۔ غرض اس طرح پہاڑی ڈھلانوں پردرختوں کی موجودگی سے ان علاقوں کی زرخیزی متاثرنہیں ہوتی۔ چونکہ جنگلات سیلابی پانی کی رفتارکم کرتے ہیں اورزمین کوکٹاؤ سے بچاتے ہیں اورزمین کی زرخیزی کو قائم رکھتے ہیں۔ اس لئے جب بھی جنگلات کاٹے جائیں تو ان جگہوں میں نئے درخت لگادیئے جائیں تاکہ جنگلا ت کاعلاقہ کم نہ ہونے پائے ۔آج بھی وطن عزیز میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستان کی خوبصورتی کو بڑھانے کے ساتھ اس فضا میں بسنے والوں کے لئے تازہ ہوا کا بھی بندوبست کرتے رہیں، کیونکہ درختوں کی ہریالی سے ہی موسم خوشگوار رہتا ہے۔ آج سرسبز پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اپنے مستقبل کوصاف، ہودار اور روشن بنانے کے لئے ایک پودا ضرور لگائیں یہی وقت کا تقاضا ہے، درختوں کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کریں درخت اور ان کی ٹھنڈی چھاؤں ماحول کو خوبصورت اور خوشگوار بنانے میں اہم کردار کرتے ہیں۔ہمیں اپنے بچوں کو بھی ان کی اہمیت سے آشنا کرنا چاہئے۔اپنے گھروں میں لگے درخت مت کٹوائیں بلکہ جتنا ہو سکے پودے لگائیں۔جنگلات کی حفاظت اور درخت لگانا صرف تحریک انصاف کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہونی چاہئے اور نہ ہی بلا وجہ ہمیں اس عظیم منصوبے پر تنقید کرنی چاہئے کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہم سب نے اس کی ترقی کے لئے کوشش کرنی ہے ۔

متعلقہ خبریں