مشرقیات

مشرقیات

حضرت یوسف بن الحسن فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ذوالنون مصری کی صحبت میں رہتے ہوئے مجھے کافی عرصہ گزرگیا اور میں ان سے بہت زیادہ مانوس ہوگیا تو ایک مرتبہ میںنے ہمت کر کے ان سے پوچھا : ''حضور ! آپ کے ساتھ سب سے پہلے کو ن سا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا ؟'' یہ سن کر آپ نے جواب دیا : '' میں ایام جوانی میں خوب لہو ولعب کی محفلوں میں مگن رہتا اور دنیا کی رنگینیوں نے میری آنکھوں پر غفلت کا پردہ ڈال رکھا تھا ، پھر خدا عزوجل نے مجھے توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور میں تمام معاملات چھوڑ کر حج کے ارادے سے ساحل سمندر پر آیا ، وہاں میں نے ایک بحری جہاز پایا ، جس میںمصری تاجر سوار تھے ، میں بھی ان کے ساتھ جا ملا ۔
اس جہاز میں ہمارے ساتھ ایک نہایت حسین و جمیل نو جوان بھی تھا ، جس کی پیشانی سے سجدوں کا نور جھلک رہاتھا۔ جب ہمارا جہاز کافی فاصلہ طے کر چکا اور وسط سمندر میں آگیا تو جہاز کے مالک کی رقم سے بھری تھیلی گم ہوگئی ۔لہٰذا اس نے سب سواروں کو جمع کیا اور سب کی تلاشی لینا شروع کردی ، لیکن تھیلی کسی کے پاس نہ ملی ۔ بالآخر جب تلاشی لینے والا اس نوجوان کے پاس آیا تو اس نوجوان نے اچانک جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگادی ۔ یہ دیکھ کر میں حیرت میں ڈوب گیا کہ سمندر کی موجوں نے اسے نہ ڈبو یا ، بلکہ وہ نوجوان لہروں پر اس طرح بیٹھ گیا ، جس طرح کوئی تخت پر بیٹھا ہے ، ہم سب مسافر بڑی حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے ، پھر اس نوجوان نے کہا : ''اے میرے پاک پر وردگار عزوجل ! ان لوگوں نے مجھ پر چوری کا تہمت لگایا ہے ۔
اے میرے دل کے محبوب عزوجل ! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو سمند ر کے تمام جانوروں کو حکم فرما کہ وہ اپنے اپنے مونہوں میں ہیرے جواہرات لے کر ظاہر ہو جائیں ۔ ''حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں کہ ابھی اس عظیم نوجوان کا کلام مکمل بھی نہ ہونے پایا تھا کہ جہاز کی چاروں جانب سمندری جانور ظاہر ہوگئے ، سب کے موہنو ں میں اتنے زیادہ ہیرے جواہرات تھے کہ ان کی چمک سے سارا سمندر روشن ہوگیا اور ہماری آنکھیں چند ھیانے لگیں ، پھر اس نوجوان نے پانی کی موجوں سے چھلانگ لگائی اور لہروں پر چلتا ہوا ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ، وہ عظیم نوجوان سورہ فاتح کی یہ آیت تلاوت کرتا جارہا تھا : ترجمہ : ہم تیری ہی عباد ت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں : یہی وہ پہلا واقعہ ہے ، جس کی وجہ سے مجھے سیر و سیاحت کا شوق ہوا ، کیونکہ سیرت و سیاحت میں اکثر اولیائے کرام سے ملاقات ہوتی ہے اور حضور کریم ۖ کا فرمان عظیم ہے : '' میری امت میں ہمیشہ 30مرد ایسے رہیں گے ، جن کے دل حضرت ابراہیم کے دل پر ہوں گے ، جب ان میں سے کوئی ایک مرجائے گا تو خدا عزو جل اس کی جگہ دوسرا بدل دے گا ۔ '' (مسند امام احمد ابن حنبل ، حدیث عبادة بن الصامت )

متعلقہ خبریں