بلوچستان میں دہشت گردی کا ابھار

بلوچستان میں دہشت گردی کا ابھار

بلوچستان میں دہشت گردی کی انتہائی تشویشناک وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ نظر آرہا ہے۔ گزشتہ روز مستونگ میں سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین پروفیسر غفور حیدری کے کاروان پر حملہ ہوا جس میں تادم تحریر تیس افراد کے شہید ہونے کی خبر ہے جبکہ پروفیسر غفور حیدری سمیت ساٹھ کے قریب افرادز خمی ہوئے۔ ابھی اس حملے کی خبر کی بازگشت فضا میں موجود تھی کہ ہفتہ کے روز دہشت گردوںنے سڑک کی تعمیر کا کام کرنے میں مصروف دس مزدوروں کو شہید کر دیا۔ مستونگ سانحہ کی ذمہ داری کہا جارہا ہے کہ داعش نے قبول کرلی ہے اور بلوچستان میں پشکان اور گنت میں مزدوروں کو قطار میں کھڑے کرکے فائرنگ سے شہید کرنے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی کو اسلحہ اور فنڈز کی فراہمی بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے کی جاتی ہے اس کااعتراف بھارت کے گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیونے کیا ہے۔ داعش کے بارے میں یقین سے نہیں کہاجاسکتا کہ اسے کن طاقتوں کی حمایت حاصل ہے تاہم امریکہ' روس' ترکی اور دیگر ملکوں کی مشترکہ یلغار کے باوجود داعش کا نہ صرف فعال رہنا بلکہ افغانستان تک اور مستونگ حملے کے حوالے سے پاکستان تک اپنی کارروائیوں کو وسعت دینا عالمی طاقتوں کی خفیہ سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں شمار کیا جانا مستونگ واقعہ کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ انہی دنوں اسلام آباد میں پاکستان' امریکہ اور افغان افواج کے افسروں کے ایک مشترکہ اجلاس میں داعش کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیارکرنے پر مشاورت ہوئی۔ جو اس بات کا ثبوت سمجھی جانی چاہیے کہ ان تینوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں افغانستان میں داعش کی موجودگی سے واقف ہیں بلکہ خطے میں داعش کو اس حد تک مضبوط سمجھتی ہیں کہ تینوں ملکوں کی افواج کے اعلیٰ افسروں نے اس حوالے سے مشاورت کی ۔ پشکان اور گنت میں مزدوروں' کے قتل کی واردات اس وقت ہوئی ہے جب ایک ہی روز پہلے میڈیا آٹھ فراریوں کے ہتھیار ترک کرنے اور پرامن زندگی کے دھارے میں شامل ہونے کا اعلا ن نشر کررہا تھا۔ ایسے فراریوں کے اعلانات وقفہ وقفہ سے آتے رہتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت کی فراریوں کو پرامن زندگی میں شامل کرنے کی پالیسی کامیابی سے جاری ہے۔ اس کامیابی کا اندازہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ فراریوں کی تعداد کتنی ہے اور اس تعداد کے کتنے فیصد فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ یہ فراری ازخود اپنی سخت کوش زندگی سے تنگ آکر اور اپنے لیڈروں کی بدعہدیوں سے تنگ آکر ہتھیار ڈال رہے ہیں یاحکومت کی طرف سے قبائلی سرداروں اور بااثر شخصیات کے ذریعے اعتماد دینے کی کوششوں کے باعث پرامن زندگی میں واپس آرہے ہیں اور یہ کہ آیا یہ فراری علیحدگی پسندوں کے اسلحہ کے ذخائر اور ان کے سلیپنگ سیلز کی نشاندہی بھی کررہے ہیں یا نہیں۔ جبکہ کراچی میں آئے روز اسلحہ کے ذخیرے دستیاب ہو رہے ہیں )اگرچہ ان ذخیرے کے نگرانوں اور انہیں چھپانے والوں کے نام سامنے نہیں آرہے(اس سے اندازہ ہوگا کہ آیا فراریوں کو پرامن زندگی کی طرف راغب کرنے کی پالیسی بہتر نتائج دے سکتی ہے یا اس کے ساتھ ساتھ ان کے تعاقب اور سرکوبی کی کارروائی بھی ضروری ہوگی۔ اگر علیحدگی پسندوںکے سلیپنگ سیل کی نشاندہی ہو رہی ہوتی اور ان کے اسلحہ کے خفیہ ذخائر دریافت ہو رہے ہوتے تو موٹر سائیکل سوار آسانی سے پشکان اور گنت کے مزدوروںپر حملہ آور نہ ہوتے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور انکشافات اور فراریوں کی ایک تعداد کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود بلوچستان جنگجوئوںکا بدستور ہدف ہے۔ رواں سال کے اندر صوبے میں 80 بم دھماکے ہوچکے ہیں۔ جنگجو اپنی منصوبہ بندی اور اپنی سہولت کے تحت حملہ آور ہوتے ہیں۔ سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین پر حملے کے بعد ان جنگجوئوں میں داعش کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ ہوں۔ ان میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مشترکہ مقصد کیلئے کسی سطح تک تعاون کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا یہ سمجھنا سراسر غلط نہیںہوگا کہ بلوچستان میں اب ایک محاذ داعش کی طرف سے کھولا جارہا ہے جس کے بارے میں یہ اندازہ نہیں کہ اسے کن طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے اور اس کا منطقی ایجنڈا کیاہے۔ دوسرا محاذ پہلے ہی کھلا ہواہے اس کا ایجنڈا بھی معلوم ہے اور اس کی سرپرست بھارتی ایجنسی را کے بارے میں بھی معلومات ہیں۔ یہ جنگ محض چیک پوسٹیں بناکر 'انٹیلی جنس کی بنیادپر کارروائیاں کرکے نہیں جیتی جاسکتی۔ یہ گوریلا کارروائی ہے اور اس کے خلاف جنگ عوام کے تعاون سے ہی جیتی جاسکتی ہے۔ گوریلا جن میں گھل مل جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سوال بے جا نہ ہوگا کہ جو فراری ہتھیار ڈالتے ہیں اور گوریلا طرزز ندگی ترک کرتے ہیں ان سے معاشرے میں کیا سلوک کیا جارہا ہے۔ جس پرامن زندگی کیلئے وہ ہتھیار ڈالتے ہیں وہ پرامن زندگی انہیں کتنااعتماد اور اطمینان دیتی ہے یا ان کیلئے باعزت روزگار کے کتنے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔ پرامن زندگی گزارنے کیلئے انہیں ذریعہ روزگار کیا فراہم کیا جاتا ہے جس کے باعث وہ اور ان کے اہل خانہ اطمینان کی زندگی بسر کرسکیں۔پشکان اور گنت میں جو مزدور شہیدہوئے وہ سندھ میں کنڈیارو سے آئے تھے۔ وہ اپنے گھر سے دور رہ کر بھی اس مزدوری سے اتناکماتے تھے کہ اپنی گزراوقات بھی کرسکیں اور اپنے اہل خانہ کیلئے بھی کچھ بھجوا سکیں یا جمع کرسکیں۔ یہ مزدوری مقامی بلوچوں کو کیوں حاصل نہ ہوسکی؟ کیا مقامی بلوچ اس کیلئے تیارنہ تھے اگر ایساہے تو اس کی وجوہ کیاتھیں۔ لوگوں کو اپنے معاشروں سے بدظن کرکے انہیںجنگجو' علیحدگی پسندی' شرپسندی یا کسی نظریے کے تابع کرنے والوںکے پاس ایک ہی ہتھیار ہوتاہے کہ معاشرہ عام آدمی کو عدل اور انسانی وقاردینے میں ناکام ہے۔ بلوچستان میں بالخصوص اور پاکستان بھر میں بالعموم دہشت گردی سے مستقل نجات اسی صورت میں مل سکتی ہے جب معاشرہ افراد کو عدل فراہم کرے بصورت دیگر دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات کا کم یا زیادہ ہونا معمول بن سکتاہے اور اس سے معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہوسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں