آصف زرداری کا انتخابی اصلاحات کا مطالبہ

آصف زرداری کا انتخابی اصلاحات کا مطالبہ

حکمران مسلم لیگ (ن )کے سربراہ وزیراعظم نواز شریف ملک بھرمیں جگہ جگہ جلسوں سے خطاب کررہے ہیں' اپنی حکومت کی کارگزاری بیان کررہے ہیں۔ عوام سے لوڈشیڈنگ سے نجات کے دعوے کررہے ہیں بڑے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کررہے ہیں اور جلسوں میں خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں وہ خالی جیب نہیں آئے اور بھاری گرانٹس کے اعلانات کررہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف جسے متعدد مبصرین ملک کی واحد اپویشن جماعت قرار دیتے ہیں اس کے چیئرمین بھی ملک میں جگہ جگہ جلسے کررہے ہیں اور حکمران مسلم لیگ کو خراب حکمرانی اور کرپشن کی سرپرستی کامرتکب ٹھہراتے ہیں۔ مسلم لیگی رہنمائوں کے وہ وعدے یاد دلاتے ہیں جوپورے نہ ہوسکے۔ صاف نظرآرہا ہے کہ آئندہ سال متوقع عام انتخابات کی تیاری ہو رہی ہے اس ماحول میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا یہ ''الٹی میٹم'' اگرچہ اسے انتباہ کہنا کافی ہوگا اس کے باوجود وزن رکھتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت اور عوامی مقبولیت کے بارے میں سکہ بند مبصرین کی رائے بہت ارفع نہیں ہے۔ آصف زرداری نے حکومت سے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کیلئے انتخابی اصلاحات لائی جائیں۔ یہ انتخابی اصلاحات کیا ہونی چاہئیں یہ ایک اہم سوال ہے اوراس وقت سے سیاسی فضا میں موجودہے جب تحریک انصاف نے 2013 ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 126 دن کا دھرنا دیاتھا۔ دھرنے کے بارے میں جوڈیشل کمیشن نے جو فیصلہ دیا تھا اس کے مطابق دھاندلی تو ہوئی تھی لیکن اس پیمانے کی نہیں کہ اس کی وجہ سے سارے انتخابی عمل کو غلط قرار دیا جاسکتا۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ عیاں ہو جاتی ہے کہ انتخابی نظام میں ایسی گنجائش ہے جن کے باعث دھاندلی ہوسکتی ہے۔ انتخابی اصلاحات طے کرنے کیلئے قومی اسمبلی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جس کی سفارشات کا ابھی انتظار ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 2013 ء کے انتخابات میں ریٹرننگ افسروں کاکردار کلیدی تھا جو عدلیہ سے لئے جاتے ہیں۔آصف زرداری نے انتخابی اصلاحات لانے کے حوالے سے حکومت کو محض ایک ہفتہ دیا ہے حالانکہ حکومت کے پاس اگر انتخابی اصلاحات کاکوئی فارمولا موجود بھی ہو تو اسے جاری کرکے اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ دوسرے آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر حکومت انتخابی اصلاحات ایک ہفتہ میں پیش نہیں کرتی تو وہ عدالت میں جائیں گے۔ حالانکہ بالعموم تاثر یہ ہے کہ عدالتوں میں جانے والے معاملات ایک مدت تک طے نہیں ہوتے کیونکہ عدالتوں کا طریقہ کار معاملے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ اور تمام فریقوں کی رائے معلوم کرنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنا ہوتا ہے۔ اول تو آصف زرداری کو تمام سیاسی جماعتوںسے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ دوسرے تمام سیاسی جماعتوں کی سفارشات حاصل کرنے کے بعد اصلاحات کاکوئی مسودہ جاری کرنا چاہیے تھا تاکہ انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات پر سب سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل ہوسکے۔ وہ یہ بھی مطالبہ کرسکتے تھے کہ قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی کو فعال کیا جائے اور اس کی سفارشات عام کی جائیں تاکہ انہیں قانونی شکل دینے کیلئے کارروائی کی جاسکے۔ اس حوالے سے انتخابی اصلاحات ایک عرصہ تک تحریک انصاف کااہم ترین مطالبہ رہا ہے اس سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی۔ اگر انہوں نے یہ سب کچھ نہیں کیا تو حکمران مسلم لیگ کو دیگر سیاسی جماعتوں کے مشورے سے امتحانی اصلاحات جاری کر دینی چاہئیں تاکہ آصف زرداری کے عدالت میں جانے سے پہلے اصلاحات پر سیاسی اتفاق رائے ہو جائے اور عام انتخابات2018 ء میں ہی منعقدہوں۔

متعلقہ خبریں