تاریخ کے بٹوارے سے گریز کیجئے

تاریخ کے بٹوارے سے گریز کیجئے

تھوڑی سی دیر کے لئے غور کرنے کی زحمت کیجئے۔ ستر برس ہوتے ہیں ریاست کو امریکہ کی تابعداری کرتے ہوئے۔ ان ستر برسوں کے دوران فقط ایک بار ذوالفقار علی بھٹو نے امریکی کیمپ سے نکلنے کی شعوری کوشش کی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ جھوٹا مقدمہ' نظریہ ضرورت' پھانسی گھاٹ' چلیں اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ 20یا 22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں بھارت' اسرائیل' ایران' سعودی عرب' برطانیہ' افغانستان کے ایجنٹ بستے ہیں یا کافر و مشرک۔ پاکستانی فقط وہ پالیسی ساز ہیں جنہوں نے کبھی پاکستان کے مفاد کو مد نظر نہیں رکھا اور مسلمان ان پالیسی سازوں کے ساجھے دار تین لفظی بات عرض کروں اگر جان کی امان ہو۔ پنگے لے ریاست' مال کھائیں مچھندر اور حب الوطنی کے نعرے ماریں ہم؟ کیوں بھئی' مکرر عرض ہے تاریخ بٹواروں کا ذکر کرتی ہے۔ کبھی اگر کوئی تاریخ کا بٹوارہ کرنے لگے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہمارے ہاں قدم قدم پر دیکھنے میں آرہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس سر زمین کے اہل دانش نے اپنے حقیقی فرائض ادا کرنے میں ہمیشہ تامل کیا۔ ان کا فرض تھا کہ لوگوں کو بتاتے کہ فتوے بازوں کا رزق کہاں سے آتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے اہل دانش کو خواندگی اور شعور کے پھیلائو کے لئے آواز بلند کرنی چاہئے تھی۔ کیا جمہوریت کے نام پر بادشاہتوں اور جرنیلی جمہوریتوں کو دوام نہیں ملا اس ملک میں۔ آخر بٹوارے کی آگ سرد کیوں نہیں ہوتی؟ معاف کیجئے گا تالی دونوں ہاتھوں سے بجائی جا رہی ہے۔ انتہا پسندی اور عدم برداشت واہگہ کے دو اور موجود ہے۔ گنگا نہائے وہ نہیں تو دودھ کے دھلے ہم بھی نہیں ہیں۔ سات دہائیوں میں جتنے وسائل فوجی ساز و سامان پر پھونکے گئے یہ انسانی آبادیوں کو گل و گلزار بنانے' انسان سازی' علم اور تحقیق پر اٹھتے تو سارا کرہ ارض پاک و ہند کی سمت دیکھ رہا ہوتا۔ چلیں جو وقت گزر گیا سو گزر گیا آ گے کی سوچیں۔ اس بیس بائیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں خط غربت سے نیچے جیتے لوگوں کی تعداد 59 فیصد ہے۔ جبر' بہلاوئوں اور خوابوں کی تجارت سے کب تک بے وقوف بنا پائیں گے۔ زر پرستوں کا دور دورہ ہے' عام آدمی کی زندگی ا جیرن ہوچکی۔ عدم توازن ہے زندگی کے ہر شعبہ میں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ کیا یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ رعایا کبھی عوام نہیں بن پائے گی؟

فرانس اور ایران کے انقلابوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ قبل اس کے کہ رعایا گلے پڑے راستہ دیجئے اسے عوامی شعور کی منزل تک رسائی اور حق حکمرانی کے حصول کا۔ اس زمین' وسائل اور حکمرانی کے اصل مالک یہی زمین زادے ہیں جن کی خواہشوں کا قتل عام بالا دست طبقات کرتے چلے آرہے ہیں۔ انقلاب کاشت ہوتا ہے نہ بازار کی جنس ہے۔ دلوں میں پنپتا ہے' پنپ رہا ہے' آگ سلگ رہی ہے' کوشش کیجئے کہ آپ دیکھ سکیں' محسوس کر پائیں۔ مساوات کے ابدی اصول سے انحراف اور وسائل پر چند ہزار یا چند لاکھ خاندانوں کا قبضہ شدید ترین رد عمل کو دعوت عام دیتا ہے۔ رد عمل کی آگ سب جلا کر خاکستر کردیتی ہے۔ اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو ٹھنڈے دل سے کسی دن دستور پاکستان کی ان شقوں پر طائرانہ نگاہ ڈال لینی چاہئے جو شہری حقوق' تحفظ اور توقیر کے حوالے سے ہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل عرض کردوں کہ آئندہ بجٹ میں مالدار طبقوں کی دلجوئی کی بجائے عام آدمی کا خیال رکھیئے۔ بہت کھلواڑ ہو لیا سادہ لوگوں کے ساتھ۔ ماچس کی ڈبیا خریدنے پر بھی ٹیکس دیتا ہے عام آدمی اور وسائل کی بندر بانٹ چند طبقوں کے لئے۔ ریاست کا فرض ہے تعلیم' طبی سہولتیں' روز گار' چھت اور انصاف و تحفظ فراہم کرنا۔ افسوس کہ اس بارے سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ پچھلے برس بجٹ سیشن کے دوران قومی اسمبلی میں شور اٹھا۔ مہنگائی بہت ہے' لوگ سبزی اور دال بھی نہیں خرید پا رہے۔ وزیر خزانہ نے منہ بھر کے جواب دیا۔ سبزیاں اور دالیں اگر مہنگی ہیں تو لوگ برائلر مرغی کا گوشت کھائیں۔ سادہ عوام کو کیا پتہ تھا کہ برائلر مرغی کا سب سے بڑا بیو پاری وزیر اعلیٰ پنجاب کا صاحبزادہ حمزہ شہباز شریف ہے اور وفاقی وزیر خزانہ قومی اسمبلی کے ایوان میں اس کے کاروبار کی مشہوری فرما رہے ہیں۔ یہ حوالہ زمینی حقائق اور صورتحال کو مد نظر رکھ کر دینا پڑا۔ ذرائع ابلاغ کے اشتہارات جلسوں اور لچھے دار تقریروں سے فاقہ مستوں کے دن نہیں بدلتے۔ ملک کے اندر عجیب سی بے اطمینانی اور عدم تحفظ کا احساس دو چند ہوتا جا رہا ہے۔ آمدنی کے مقابلہ میں قوت خرید دم توڑ رہی ہے۔ اگر بیس پچیس ہزار روپے ماہوار آمدنی ہو تب بھی سادگی سے گزر اوقات مشکل ہے۔ بجٹ سازی میں بڑے طبقات کے لئے نہیں عام آدمی کے لئے سوچنے اور کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ بار دیگر عرض کئے دیتا ہوں۔ جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا سو اڑوس پڑوس کے ملکوں سے تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کیجئے۔ ہم سب کو اس جغرافیے میں رہنا ہے ' پورا ملک اٹھا کر کوئی نہیں جا رہا۔ اپنے تحفظات پڑوسیوں کے سامنے رکھیں ان کے تحفظات پر غور کریں۔ممالک کے تعلقات مذاہب و عقیدوں پر استوار نہیں ہوتے دو طرفہ مفادات پر تعمیر ہوتے ہیں۔ مسائل ہیں اور یقینا ہیں مگر مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ منتخب پارلیمان ہو نظام حکومت چلانے والے یا ریاستی ادارے آئین میں سب کی حدود طے ہیں کردار لکھا ہے۔ اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیجئے ' تو تکار بہت ہولی۔ اس بد قسمت قوم پر رحم کیجئے جس کی اپنی تاریخ تک اس سے چھین لی گئی ہے۔ حرف آخر یہ ہے کہ پشتون ہوں' سرائیکی' سندھی ہوں یا پنجابی' بلوچ ہوں یا اردو بولنے والے' مذہب اور مسلک کوئی بھی ہو ہم سب کو یہیں رہنا ہے۔ تو کیوں نہ ہم باہمی محبتوں کو فروغ دیں۔ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔ جانے دیجئے دور کی محبتوں کو ہم ہی ایک دوسرے کی غمی خوشی کے ساجھے دار ہیں۔ اس لئے سب کو سمجھنا ہوگا صدیوں کے رشتے برقرار رہنے میں عافیت ہے۔

متعلقہ خبریں