جنگ مسئلے کا حل نہیں

جنگ مسئلے کا حل نہیں

پاکستان اور افغانستان ،شام کی طرح جُغرافیائی حیثیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن بارڈر پر لڑائی بھی ہوئی۔ جبکہ ایران نے بھی پاکستان کو جنگ کی دھمکی دی ہے۔افغا نستان اور پاکستان وسطی ایشیائی ریا ستوں ،بر صغیر اور مشرق وسطیٰ کے لئے ایک روٹ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اور محل وقوع کی وجہ سے یہ دونوں ممالک عالمی میدان جنگ بنے رہے ۔ اور دنیا کی ساری طاقتیں اس خطے پر اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لئے پاکستان اور افغانستان میں پراکسی وار لڑ رہی ہیں۔ بھارت کی را، امریکہ کی سی آئی اے، اور افغانستان کی این ڈی ایس کی کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مُستحکم کیا جائے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کائو کمارنے تو 1968 میں پاکستان کو توڑنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔حال ہی میںٹی ٹی پی کے سابق تر جمان احسان اللہ احسان کے مطابق تحریک طالبان پاکستان بھارت کی را، اور افغانستان کی این ڈی ایس کے ساتھ پاکستانی فوجیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔مزید بر آں نوجوانوں کو جہاد اور اسلام کے نام پر گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اوراب بھارت کی کو شش ہے کہ باقی پاکستان کو غیر مستحکم کر کے توڑا جائے۔ علاوہ ازیںدنیا کے ترقی یا فتہ ممالک مثلاً امریکہ بر طانیہ ، بھارت چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی اور سی پیک سے خائف ہیں ۔ اگر ہم امریکہ، بر طانیہ، ، فرانس اور جرمنی کی اقتصادی ترقی پر نظر ڈالیں تو ان سب کی اقتصادی ترقی 1.3فی صدہے جبکہ اسکے بر عکس چین کی اقتصادی ترقی 7 فی صد ہے جبکہ امریکہ چین کا 1200 ارب ڈالر مقروض ہے اور چین، امریکہ کو 400ارب ڈالر کی مختلف اشیاء ایکسپورٹ کرتا ہے۔ جس سے امریکہ کو بیلنس آف ٹریڈ میں نُقصان ہے۔ امریکہ یہ گوارہ نہیں کر سکتا کہ چین مزید ترقی کرے کیوں کہ اس سے امریکہ، یو رپی یو نین ، نیٹو کے اقتصادیات مزید تنزلی کا شکار ہوںگی۔لہٰذا امریکہ اور بھارت کسی صورت سی پیک کوپایہ تکمیل تک پہنچنادیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ اس طرح سے پاکستان اور بالخصوص چین دونوں کئی ممالک تک رسائی حا صل کر لیں گے۔بھارت، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے افغانستان کے عوام کوقریب لانے کے لئے وہاں تقریباً 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اور افغان بھائیوں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان ہمارے نام پر ڈالر لے رہا ہے حالانکہ پاکستان 9/11کے بعد دہشت گر دی کی جنگ میں 118 ارب ڈالر کانُقصان اور 80ہزارپاکستانیوں کی قُربانی دے چکاہے۔ لاکھوں افغان مہا جرین گزشتہ 35 سال سے پاکستان میں مقیم ہیں جس سے پاکستان کی معیشت کو بے تحا شا نُقصان پہنچا۔مگر بد قسمتی سے بھارتی حکمران اپنے پروپیگنڈے اور بھارت کی افغانستان کو زیادہ امدادکی وجہ سے افغان بھائیوں کوپاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ امریکہ اور بھارت کی کو شش ہے کہ پختون اور افغا نستان کی دوسری قوموں کو آپس میں لڑا اور تقسیم کرکے افغانستان کو لساخی اور مسلکوں بنیادوں پر تقسیم کیا جائے اور پاکستان کے خلاف استعمال کیاجائے ۔ ریٹا ئرڈ میجر جنرل سعد خٹک کا کہنا ہے کہ افغانستان اور ایران میں بھارت کے قونصلیٹ پاکستانی سر حدوں کے قریب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ ہمیں اقوام متحدہ ، امریکہ اور یو رپی یونین کو بتانا چاہئے کہ یہ علاقہ اب نیو کلیئرفلیش پوائنٹ ہے۔ اگرہو ش کے ناخن نہیں لئے گئے تو اس سے پورے خطے بلکہ دنیا کا امن خراب ہوجائے گا۔ جہاں تک پاک افغان خراب تعلقات اور بد اعتمادی کا تعلق ہے تو پاکستانی حکومت نے اب تک ایسے کوئی اقدامات نہیں کیے ۔ جس سے بد اعتمادی میں کمی ہو۔ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیابھی پاک افغان تعلقات کو نظر انداز کر رہا ہے ۔ افغان بھائیوں کے لئے ریڈیو پاکستان اسلام آبادسے پشتو اور دری زبان میں پروگرام نشر ہوتے تھے جو مواد اس میں نشر کئے جاتے تھے اسکا تعلق افغا نستان سے نہیں ہوتا۔ اس وقت افغانستان میں پاکستان کا کوئی صحافی نہیں جبکہ بھارت کے 200 سے زیادہ صحافی افغانستان میں ہیں۔ لہٰذااب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں فی ا لفور وزیر خارجہ کی تعیناتی کرنی چاہئے ۔ اسکے علاوہ پختون رہنمائوں کے جر گوں کو افغانستان بھیجنا چاہئے ۔ اس میں افغانستان کے حالات سے واقف سکالروں ، صحافیوں اور تاجروں کو شامل کرنا چاہئے۔ افغانستان کی امداد ڈبل کرنی چاہئے۔ قبائلی علاقوں کو ترقی دینی چاہئے ۔ ان کو فی الفور خیبر پختون خوا میں شامل اور ایف سی آر کا خاتمہ کرنا چاہئے۔افغانستان کے طا لبعلمو ںکو یونیورسٹیوںاورکالجوںمیںداخلے دینا چاہئے۔ تاکہ پڑوس ممالک میں اعتماد ، اخوت اور بھائی چارے کو فروع دیاجا سکے۔ کیونکہ عوام کی حمایت اور تائید کے بغیر کسی قسم کی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ افغانستان ایک خود دار ملک ہے وہ کسی کی ڈیکٹیشن قبول نہیں کرتا۔لہٰذاافغانستان اور ایران کے ساتھ سارے مسائل بات چیت اور پیار سے حل کرنے ہونگے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان ٹینشن اُس وقت زیادہ ہوگئی ہے جس وقت سے راحیل شریف کو اسلامی فوج کا کمانڈر ان چیف بنایا گیا ہے۔پاکستان، ایران اور افغانستان کو سارے مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئے اور بھارت سے بھی استد عا ہے کہ وہ شیطا نیاں چھوڑ دیں اور جنگوں کے بجائے اپنے وسائل اپنے عوام کے فلاح و بہبود پر خرچ کرے ۔ کیونکہ لڑائیوں اور سازشوں سے مسائل کبھی حل نہیں ہوئے۔

متعلقہ خبریں