بندر کے ہاتھ میں استرا؟

بندر کے ہاتھ میں استرا؟

جب کبھی بھی ایسا کوئی وقوعہ پیش آتا تو ہمارے بزرگ دوست ارباب ہدایت اللہ خان جواب ہم میں موجود نہیں فون ضرور کرتے' پوچھتے بھئی کیا ہو رہا ہے۔ جواب میں ہم کہتے سندھ جیسے پر آشوب اور مسائل زدہ صوبے میں آپ پورے 5سال آئی جی رہے ۔ پولیس میں ملازمت کا ایک طویل تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ آپ ہی بتائیں ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کہتے یہ پولیس فورس کی تربیت میں کمی کانتیجہ ہے۔ پولیس کے جوانوں کو اگر عوام سے ڈیل کرنے کی مناسب تربیت دی جاتی۔ اتفاقی حادثات سے نمٹنے کے طریقوں سے آگاہی حاصل کرنے' غیر معمولی واقعات کے دوران اپنے ہوش و حواس بحال رکھنے کا انہیں تجربہ ہوتا تو ایسے سانحے کبھی وقوع پذیر نہ ہوتے۔ ارباب صاحب مرحوم کی یہ ماہرانہ رائے ہمیں مردان کے ایک ٹریفک وارڈن کے ہاتھوں دن دیہاڑے اور سر عام باپ کی آنکھوں کے سامنے اس کے جوانسال بیٹے کے قتل کا واقعہ رونما ہونے پر یاد آیا۔سچ پوچھئے اب تو ہمیں گھر سے باہر نکلتے وقت شدید خوف محسوس ہوتا ہے مجبوری کے تحت بعض اوقات نکلنا ضروری بھی ہو جاتا ہے۔ سودا سلف خریدنے کے لئے نکلتے ہیں' ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے' بچوں کو سکول لانے کا بھی ایک معمول ہے۔ ظاہر ہے ایسے میں پوائنٹ پر کھڑے ٹریفک وارڈن سے بھی سامنا ہو جاتا ہے۔ ہم ان سے آنکھیں ملانے سے گریز کرتے ہیں۔ سیاہ عینک بھی نہیں پہنتے سر پر چادر بھی نہیں رکھتے کہ اس طرح مزید مشکوک ہونے کا شائبہ پیدا ہوتا ہے۔ ٹریفک وارڈن کے موڈ کا کیا معلوم وہ ہماری کسی حرکت پر اشتعال میں آکر ہم کو اپنی بندوق کانشانہ بنا ڈالے۔ 10 مئی کے مشرق میں یہ المناک خبر پڑھی کہ ٹریفک وارڈن نے ایک ذہنی مریض کو جو حافظ قرآن بھی تھا اس کے باپ کے سامنے بڑی بے دردی سے قتل کردیا۔ واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے حوالات میں بند کردیاگیا۔ مردان کے ایک مضافاتی گائوں جمال گڑھی کے رہائشی لعل غنی نے بتایا کہ اس کا بیٹا مرگی کا مریض تھا۔ وقوعے کے روز وہ اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر ایک ماہر نفسیات سے طبی معائنے کے لئے اس کے کلینک لے جا رہا تھا۔ راستے میں جب ٹریفک وارڈن کے اشارے پر موٹرسا ئیکل کھڑی کی تو اس نے اچانک چھلانگ لگا دی اور بھاگ نکلا۔ راستے میں کھڑے ٹریفک وارڈن کو مکا مارا اور دوڑنے لگا۔ وارڈن نے بھی اس کے پیچھے دوڑ لگائی اور پی ٹی سی ایل آفس کے قریب اسے قابو کرلیا۔ پہلے تو اس پر مکے برسائے اور پھر اس پر بندوق تان لی۔ بلال ایک بار پھر اٹھا جس پر پولیس کے سپاہی نے ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ لعل غنی کے مطابق اس نے کانسٹیبل کی بڑی منت سماجت کی اور فائرنگ سے یہ کہتے ہوئے منع کیا کہ میرا بیٹا ذہنی مریض ہے اس کے باوجود اس نے فائرنگ جاری رکھی جس پر بلال زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا۔ میں مسلسل فریاد کرتا رہا کہ میرے بیٹے نے کوئی قصور نہیں کیا بے گناہ ہے' بیمار ہے لیکن کانسٹیبل نے ایک اور گولی مار کر اسے زندگی کی قید سے آزاد کردیا۔ مقامی وکلاء نے اسی وقوعے پر شدید احتجاج کیا اور مقدمہ درج کرنے کے لئے تھانے گئے۔ وہاں مبینہ طور پر پولیس کی مقامی انتظامیہ اور وکلاء کے درمیان کچھ تکرار بھی ہوئی تاہم پولیس کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کوحوالات میں بند کردیاگیا۔ یاد رہے دو ماہ پہلے مردان کچہری کے سامنے ایسا ہی ایک سانحہ ہو چکا ہے اسی روڈ اور کم و بیش اسی جگہ پر پولیس والوں نے ایک نیم پاگل اور بہرے شخص اولس خان کو مشکوک سمجھ کر قتل کردیا تھا۔ اولس خان 8بچوں کا باپ تھا اور سائیکل پر کپڑے رکھ کر گلی کوچوں میں بیچا کرتا تھا۔ بلال اگر مرگی کا مریض تھاتو اولس خان قدرے مجذوب اور مکمل طور پر بہرہ تھا۔ ایک کی ذہنی اور دوسرے کی جسمانی بیماری ان کی موت کا باعث بنیں۔ ہم مانتے ہیں کہ ہمارا صوبہ ایک عرصے سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ سال مردان کی ضلع کچہری پر ایک خود کش حملے میں بے شمار معصوم جانوں کاضیاع ہوا ۔ گیٹ پر کھڑا پولیس کانسٹیبل بھی ان میں شامل تھا۔ اس سے پہلے نادرا کے دفتر میں دہشت گردی کے وقوعے میں سیکورٹی گارڈ کے علاوہ وہاں موجود بے شمارلوگ لقمہ اجل بن گئے۔ مردان شہر میں دہشت گردی کے ان مسلسل واقعات نے یہاں کی پولیس فورس کو کچھ زیادہ حساس اور محتاط بنا دیا ہے لیکن متذکرہ دونوں سانحے جن میں دو معصوم اور بے گناہ افراد لقمہ اجل بنا دئیے گئے۔ پولیس کی ضرورت سے زیادہ احتیاط پسندی اور حساسیت کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے۔ بلال اور اولس خان کے کیس میں اگر پولیس والے موقع محل کے مطابق قدم اٹھاتے اور جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرتے تو ان سانحات کو نظر انداز کیا جاسکتا تھا۔دہشت گردی کی روک تھام کے لئے پختونخوا پولیس کی بے مثال قربانیاں ہمارے سامنے ہیں جن میں عام سپاہی سے لے کر اعلیٰ عہدوں پر فائز پولیس اہلکار شامل ہیں۔ پولیس فورس کی قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پختونخوا کے خصوصی حالات کے پیش نظر یہاں کی پولیس فورس کی بھی خصوصی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ بغیر کسی نفسیاتی دبائو کے اپنے فرائض انجام دے سکیں اور کسی ذہنی مریض کو صرف ایک مکے کے بدلے میں جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑے بلکہ ہمارا تو اس ضمن میں یہ مشورہ ہوگا کہ پولیس کے محکمے میں اس کے اہلکاروں کے نفسیاتی معائنے کے لئے ایک علیحدہ شعبے کاقیام بھی ضروری ہے۔ پولیس فورس کے اہلکاروں کو اس شعبے کے ماہرین سے فرائض کی ادائیگی کے اہل یا نا اہل ہونے کا سرٹیفیکیٹ لینا ضروری قرار دیاجائے ورنہ تو ذہنی دبائو کا شکار سپاہی کا گن بندر کے ہاتھ میں کسی وقت بھی استرا بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں