نیم حکیم خطرہ جان

نیم حکیم خطرہ جان

یہ عام مشاہدہ ہے کہ جب بھی کسی محفل میں کوئی اپنی بیماری کا تذکرہ کرتا ہے تو وہاں بیٹھا ہوا ہر شخص اپنی عقل و دانش کے مطابق ایک مجرب نسخہ اس کے گوش گزار کرتا ہے۔ ایسے ایسے تیر بہدف نسخے سامنے لائے جاتے ہیں کہ بیمار شخص کے چاروں طبق روشن ہوجاتے ہیںوہ اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اب اتنے ڈھیر سارے نسخوں میں سے کس کا انتخاب کروں؟ویسے بیماری کی کہانی بھی عجیب ہوتی ہے ہر بندہ اپنے انداز سے بیماری کا مقابلہ کرتا ہے اور اس میں لائف سٹائل کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے اگر کوئی کسی موذی بیماری میں مبتلا ہوجائے تو وہ سب سے پہلے کسی اچھے ڈاکٹر ہی کے پاس جاتا ہے سب سے پہلے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے صحیح تشخیص کو مریض کی بہت بڑی خوش قسمتی سمجھنا چاہیے اس کے بعد علاج شروع ہوجاتا ہے۔ اب آتے ہیں لائف سٹائل کی طرف!اس حوالے سے ہم آپ کے سامنے شوگر کے تین مریضوں کا کیس رکھتے ہیں تینوں کا مرض ایک ہے ڈاکٹروں کی تشخیص بھی صحیح ہے اور علاج بھی زبردست ہے لیکن لائف سٹائل مختلف ہونے کی وجہ سے تینوں مریض اپنے اپنے انداز سے شوگر کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک مریض پچھلے دس سالوں سے شوگر کے مرض میں مبتلا ہے اور انسولین پر ہے وہ چونکہ بچپن سے اچھے خاصے خوش خوراک رہے ہیں اس لیے اب بھی انسولین لینے کے باوجود صبح ناشتے میں تین گھر کے کچن میں تیار شدہ پراٹھے نوش جان کرتے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ تین پراٹھے کھانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے دوپہر کا کھانا نہ بھی کھائوں تو ہیوی ویٹ قسم کے ناشتے کی وجہ سے شام تک میرا شوگر لیول ڈائون نہیں ہوتا۔ دوسرے صاحب بھی شوگر کے مریض ہیں اور انسولین پر ہیں جب پھیکی چائے میں انہوں نے چینی کے دو چمچ بھر کر ڈالے اور سامنے پلیٹ میں موجود کیک کے ساتھ بھی پورا پورا انصاف کیا تو اب ہمارے لیے خاموش رہنا مشکل تھا کیونکہ ہمیں اپنے دوست کی صحت عزیز ہے۔ ہمارے احتجاج کے جواب میں انہوں نے بڑے عالمانہ انداز میں کہا کہ چونکہ میں انسولین لیتا ہوں اس لیے تھوڑا بہت میٹھا میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ اب تیسرے پیارے دوست بھی شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں بقول ان کے وہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کوئی دوائی استعمال نہیں کرتے بس صرف پرہیز کرتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے! وہ اس حوالے سے اپنا لائف سٹائل مکمل طور پر تبدیل کر چکے ہیں چینی سے ہر حال میں پرہیز، پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھانا، چاولوں سے مکمل پرہیز، سفید آٹے کی بجائے سرخ آٹے کی روٹی کا استعمال، رات کو کھانے کے بعد لمبی واک ، اور سونے سے پہلے شوگر کا لیول ضرور چیک کرنا۔بیماریوں کی بات تو ایک طرف رہی ہمارے یہاں دوسرے مسائل کے لیے بھی یا ر لوگوں نے بڑے تیر بہدف نسخے ایجاد کر رکھے ہیں جو بغیر کسی تحقیق کے سینہ در سینہ دو چار نسلوں سے منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں ان پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا کوئی نکتہ اعتراض سامنے نہیں آتا۔ بہت سے لوگ ان پر عمل کیے چلے جاتے ہیں۔نہ صرف ان پر عمل کرتے ہیں بلکہ انہیں مختلف حوالوں سے خاص طور پر سوشل میڈیا پریہ سوچ کر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے اس طرح مخلوق خدا کا بھلا ہوگا مثلاًہمارے معاشرے میں یہ نسخہ بڑا عام ہے کہ معدے کی ننانوے فی صد بیماریوں کا علاج چھلکا اسپغول میں چھپا ہوا ہے ! اگر ٹی وی ریموٹ کے ختم شدہ سیل کو زبردست قسم کی مارپیٹ کے عمل سے گزارا جائے تو وہ سیدھے راستے پر چل پڑتا ہے اور کام شروع کردیتا ہے اگر برقی آلات میں کوئی خرابی ہو تو انہیں تھوڑی دیر بند کرکے پھر چلایا جائے تو وہ خو د بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں اسی طرح گیس والی سیون اپ میں نمک ملا کر زیادہ گیس بنا کر پینے سے پیٹ کی گیس ختم ہوجاتی ہے امتحانی پرچہ جات کے آغاز میں 786 لکھنے سے غیبی ذرائع سے امداد ملنے لگتی ہے اور ذہن میں بھولے ہوئے سوالات پھر سے تازہ ہوجاتے ہیں۔ آٹو رکشہ کے پیچھے ماں کی دعا جنت کی ہو ا لکھنے سے رکشہ ہر قسم کے حادثے سے محفوظ رہتا ہے۔ اس طرح کی باتوں کو توہمات میں ہی شمار کیا جاسکتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا چلیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کے توہمات تقریباً ہر معاشرے میں کسی نہ کسی درجے میں پائے جاتے ہیں لیکن کم از کم اس قسم کا رویہ بیماریوں کے حوالے سے تو نہیں ہونا چاہیے۔ میڈیکل سائنس اللہ پاک کی بہت بڑی عنایت اور انسان کی شب وروز محنت کا حاصل ہے جب ٹی بی ملیریا وغیرہ کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا تو ہزاروں لوگ ہر سال ان بیماریوں کی وجہ سے دنیائے فانی سے کوچ کر جایا کرتے تھے۔ اسی طرح دوسری بہت سی بیماریوں کا علاج آج بطور احسن کیا جارہا ہے ڈاکٹرز ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں ان پر اعتماد کرنا چاہیے سادہ سے سادہ الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ خود نیم حکیم بننے سے بہتر ہے کہ ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کیا جائے اچھی صحت اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کیجیے!۔

متعلقہ خبریں