پاکستان کے مضافات میں

پاکستان کے مضافات میں

اسلامی معاشرے کے استحکام اور عوام کی ترقی کے لئے ان کے درمیان محبت و اخوت اور اتحاد و یکجہتی کا ہونا لازمی امر ہے۔ مسلمان معاشروے کے افراد کے درمیان بہترین تعلق کے لئے قرآن و سنت کی جو تعلیمات ہیں ان پر عمل درآمد کرتے توآج اسلامی ملکوں میں عوامی سطح پر اور ان کے درمیان بحیثیت پڑوسیوں کے انتشار و افراتفری نہ ہوتی۔ہمارے معاشرے کی بنیادی اکائی گھر اور خاندان سے لے کر اڑوس پڑوس، گلی محلے اور علاقے میں بہت کم خاندان ایسے ہوں گے جن کے درمیان رشتہ داری اور بھائی چارے کے مثالی نہ سہی عام روا داری کے تعلقات استوار ہوں۔ ساس بہو' بھائی بھائی اور دیگر رشتہ داروں میں سے کسی کے پاس بیٹھ کر حال احوال پوچھیں تو جواب ملے گا بس یار کیا بتائوں دامن اٹھائوں تو اپنی ہی بے پردگی کا سبب بنتا ہے۔ پھر گلہ و شکایت، بے وفائی و جفا کاری حسد و انتقام' چغلی و غیبت' الزامات و بہتان کی وہ پٹاریاں کھول دی جاتی ہیں کہ انسان پنڈورہ باکس بھول ہی جاتا ہے۔گائوں کی سیاست و معاشرتی و سماجی معاملات سے ذراہٹ کر وطن عزیز کے چار صوبوں کے حالات پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ ان کے درمیان ایک ہی ملک کے صوبے ہونے کے سبب کوئی ربط و ضبط ہے ہی نہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تو چلیں چھوڑئیے آپس میں ایک ہی صوبے کے حالات دیکھنے ہوں تو صوبائی اسمبلیوں میں ''عوام کے منتخب'' اراکین اسمبلی کی زبان و بیان جو وہ اسمبلی کے فلور پر ''قوم'' کے مسائل حل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو اس کی مثال علامہ محمد اقبال کے الفاظ میں یہی ہے کہ کسی بت کدے میں بیان کروں تو صنم بھی کہے ہری ہری غضب خدا! اسمبلی کے فلورپر عوام کے منتخب اراکین ایک دوسرے کو گالیوں سے ''نوازتے'' ہیں یہاں تک کہ خواتین کی موجودگی میں بھی نا گفتہ بہ اور قابل اعتراض زبان و الفاظ کااستعمال دھڑلے کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہی حال قومی اسمبلی کا ہے اور بعض اوقات تو یوں بھی ہوتا ہے کہ خواتین کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو کسی طور پر کسی مہذب قوم کے عام افراد کے بھی شایان شان نہیں ہوسکتے۔ بھارت تو شاید ازل سے پاکستان کا مخالف اور دشمن رہا ہے کہ ہزار کوششوں کے باوجود ظالم پاکستان اور پاکستانیوں کو نقصان وزک پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا۔ متعصب اور تنگ نظر اتنا کہ بھارتی فلم کی شوٹنگ کے لئے پاکستان کے شہروں کے نام تک کارڈ بورڈ پرلکھے ہوئے برداشت نہیں کرسکتا۔ پاکستانی بچوں تک کو معاف نہیں کیا ۔ لیکن اس کے باوجود الزام ہم پر لگاتا ہے۔ بین الاقوامی ٹھیکیدار اور خاص طور پر امریکہ اور یو این او اور یورپ اپنا ''سودا'' بیچنے کے لئے بھارت کی وسیع سرزمین پر کارخانے لگانے اور اربوں کی آبادی میں اپنی مصنوعات کی کھپت کے لئے کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ ان ہی کی آشیرباد اور خاموشی اور اپنے ہاں کے انتشار سے شہ پاکر بھارت مشرقی سرحد کو گرم رکھنے کے ساتھ اب ہماری مغربی سرحدوں پر گرمی پیدا کرنے میں کامیاب دکھائی دکھا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو صورتحال ہے اس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کوتاہ بینی کاہاتھ بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا لیکن اس میںبڑا کردار عالمی طاقتوں اور بھارت کاہے۔ ہماری نا لائقی اپنی جگہ کہ اربوں ڈالر اور ہزاروں لاکھوں جانوں کا نقصان برداشت کرکے بھی افغانستان کو ہم اپنا بھائی' دوست یا کم از کم ہم نوا نہ بنا سکے اگرچہ اس میں ان افغان پالیسی میکرز کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو پاکستان کا مال کھاپی کر بھی اس پاک مٹی سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں۔ اور اب تازہ معاملہ ایران کابھی قابل غور ہے پاکستان میں مقیم ایرانی سفیر دوستی اور برادری کا راگ الاپتے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ جو بہت معاملہ فہم شخصیت کے طور پر معروف ہیں پاکستان کے ساتھ اخوت کااعلان کئے دو دن بھی نہیں گزرے ہیں لیکن ادھر سے ایرانی چیف آف سٹاف جنرل حسین باقری وہی زبان بولنے لگے ہیں جو بھارت کبھی کبھی ''ترنگ'' میں آکر بولتا ہے۔ ایران کے ساتھ اگرچہ پاکستان کے اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن وہ شاہ رضا شاہ پہلوی کا زمانہ تھا۔ انقلاب ایران کے بعد پاک ایران تعلقات اچھے رہے ہیں لیکن خوشگوار اور برادرانہ کبھی نہیں رہے۔ ہاں زبانی کلامی بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے ورنہ جب کوئی نازک موقع آیا ہے ایران نے کبھی صبر و تحمل کامظاہرہ نہیں کیا ہے بلکہ سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو انڈراسٹمیمٹ لینے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے لئے یہ حالات کسی بھی لحاظ سے اچھے نہیں ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی بھرپور کوشش ہونی چاہئے کہ ا ن دونوں مسلمان برادر ملکوں (ایران و افغانستان) کے ساتھ اسلامی اخوت پر مبنی تعلقات استوار ہوں تاکہ تینوں اسلامی ملکوں میں امنٔ' سلامتی سکون اور ترقی کی راہیں ہموار ہوسکیں۔ لیکن اگر یہ دونوں ممالک کسی ''اور'' کی شہ پر وطن عزیز کے مفادات کے خلاف وقتاً فوقتاً حالات کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو سمجھانا چاہئے کہ پاکستان کوئی ترنوالہ نہیں ہے کہ کوئی اسے آسانی سے نگل لے گا۔ اگر ان دونوں ہمسایہ ملکوں کو پاکستان کے تعاون' تعلق' تجارت اور ہمسائیگی کی ضرورت نہیں ہے تو نہ سہی لیکن کم از کم ہمسائیگی کا یہ حق ضرور یاد رکھیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور اسی طرح پاکستان کی سرزمین ان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

متعلقہ خبریں