مشرقیات

مشرقیات

145ھ میں مظلوم سادات میں سے محمد نفس ذکیہ اور اس کے بھائی ابراہیم نے یکے بعد دیگرے علم خلافت بلند کیا۔ بڑے بڑے پیشوایان مذہب حتیٰ کہ امام مالک نے فتویٰ دے دیا کہ منصور نے جبراً بیعت لی ہے۔ خلافت نفس ذکیہ کا حق ہے۔ نفس ذکیہ کے قتل کے بعد ابراہیم خلافت کا مدعی ہوا۔ منصور اور ابو مسلم خراسانی نے (جو مظالم کے بانی تھے) بڑے بڑے لوگ قتل کرا دئیے۔
جب ابراہیم بھی مارا گیا تو منصور ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوا جنہوں نے ابراہیم کا ساتھ دیا۔ حضرت امام ابو حنیفہ بھی انہی میں سے تھے۔ جب ان کو بلایا اور وہ دربار میں حاضر ہوئے تو ان کے لئے قضاء کا عہدہ تجویز کیا۔ امام ابو حنیفہ نے انکار کیا اور کہا کہ میں اس کی قابلیت نہیں رکھتا۔
منصور نے برہم ہو کر کہا کہ تم جھوٹے ہو۔ امام نے کہا اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ دعویٰ ضرور سچا ہے کہ میں عہدہ قضاء کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹا شخص قاضی مقرر نہیں ہوسکتا۔منصور نے نہیں مانا اور قسم کھا کر کہا: تم کو قبول کرنا ہوگا۔ حضرت امام ابو حنیفہ نے بھی قسم کھائی اور کہا میں ہر گز قبول نہ کروں گا۔ اس جرأت اور بے باکی پر تمام دربار حیرت زدہ تھا۔ جب منصور نے زیادہ جبر کیا تو مجبوراً دارالقضاء میں جا بیٹھے لیکن پھر آکر کہہ دیا کہ مجھ سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔ اس پر حکم ہوا کہ قید خانہ میں بھیجی جائے جس سے وفات کے بعد ہی چھٹکارہ ملا۔
بغداد کی علمی جماعت امام صاحب کے ساتھ نہایت خلوص رکھتی تھی۔ ان باتوں کا یہ اثر ہوا کہ منصور نے گو ان کو قید میں ڈال رکھا تھا لیکن کوئی امران کے ادب اور تعظیم کے خلدف نہ کرسکتا تھا کیونکہ عوام کے بھڑک اٹھنے کا اندیشہ تھا۔ امام صاحب جو علوم و فنون کاخزانہ تھے اور عوام کا رخ اپنی طرف کثرت اور شدت سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے نظر بندی کی حالت میں بھی سلسلہ تعلیم برابر جاری رکھا اور اکثر لوگوں نے فیض حاصل کیا۔ منصور بظاہر تو مخلوق کے خوف سے کچھ نہ کر سکتا تھا لیکن امام صاحب کی یہ مقبولیت دیکھ کر دل ہی دل میں متفکر رہتا تھا۔ آخر اس نے امام صاحب کو زہر دے دیا جو ان کی موت کا باعث ہوا۔ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کا یہی قید خانہ جس میں انہوں نے چار برس گزارے اور جہاں سے قید ہستی سے رہا ہونے پر ہی رہائی پائی۔ امام محمد کا مدرسہ تھا۔
امر حق کے اظہار میں امام ابو حنیفہ کو کسی سے باک نہیں ہوتا تھا اور کوئی چیز ان کی آزادی کو دبا نہ سکتی تھی۔ ایک مرتبہ ہبیرہ نے جو کوفہ کا گورنر تھا آپ سے کہا کبھی کبھی قدم رنجہ فرمایا کریں تو مجھ پر احسان ہوگا۔ فرمایا تم سے مل کر کیا کروں گا' مہربانی سے پیش آئو گے تو خوف سے کہیں تمہارے دام میں آجائوں۔ عتاب کرو گے تو میری ذلت ہے۔ تمہارے پاس جو زر و مال ہے مجھ کو اس کی حاجت نہیں۔ میرے پاس جو دولت (علم) ہے اس کو کوئی شخص چھین نہیں سکتا۔
(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں