مقررہ وقت پر عام انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں

مقررہ وقت پر عام انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں

وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ڈیڈ لاک کے خاتمے کے بعد انتخابات کے مقررہ وقت پر ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔اجلاس میں صوبہ سندھ کی جانب سے مردم شماری کے نتائج کے حوالے سے تحفظات دور کرنے کیلئے وفاقی حکومت کی کچھ آبادی کے بلاک میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ قومی اہمیت کا حامل اور غلط فہمیوں کے ازالے کی ایک سنجیدہ سعی ہے ۔ امید کی جاتی ہے کہ تمام جماعتوں کے آئینی ترمیم پر متفق ہونے کے بعدقومی اسمبلی کے اجلاس میں آئینی ترمیم کی منظوری مل جائے گی ۔واضح رہے کہ حلقہ بندیوں کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی)کو اس آئینی ترمیم کی ضرورت تھی تاکہ وہ آئندہ سال اگست میں نئی حلقہ بندیوں کے تحت انتخابات منعقد کرا سکے۔اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی، مردم شماری کی روشنی میں پارلیمانی رہنمائوں کو آئینی ترمیم پر متفق کرنے میں ناکام رہے تھے۔ جس سے اس امر کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ انتخابات کا بروقت انعقاد نہ ہو سکے گا ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی اجازت کے بغیر آئینی ترمیم سے انکار کے بعد اسپیکر اسمبلی نے یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بھیج دیا تھا۔قومی رہنمائوں کے اجلاس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری نے اجلاس کے شرکا کو نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو درپیش رکاوٹوں کے بارے میںآگاہ کیا۔ جس کے بعد شرکائے اجلاس میں اتفاق رائے ممکن ہو سکا۔ بتایا جاتا ہے کہ مردم شماری کا حتمی نتیجہ اپریل 2018ء تک متوقع ہے۔اس صورتحال میں قباحت یہ تھی کہ اگر اپریل میں نتائج جاری ہوتے تو آخری مردم شماری کے مطابق آئین کے آرٹیکل 51(5)کے تحت سیٹوں کی تقسیم کی پیروی کرتے ہوئے نئی حلقہ بندیاں ممکن نہیںتھیں اور یوں یا تو انتخابات کے التواء کا خطرہ تھا جس کی گنجائش ہی نہ تھی یا پھر پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابات کرائے جاتے جس سے چھوٹے صوبوں خاص طور پر خیبر پختونخوا کی نشستیں نہ بڑھنے سے یہاں کے عوام کی حق تلفی ہوتی جس کے باعث آئینی دفعات پر سمجھوتہ کیے بغیر مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کی راہ تلاش کرنے کی ضرورت تھی جس کیلئے چاروں صوبوں کا متفق ہونا ضروری تھا ۔طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن کو انتخاب سے چار ماہ قبل انتخابی پلان کے اعلان کے لیے نئے انتخابی قوانین کی ضرورت ہوتی ہے اور الیکشن کمیشن کو گھر گھر ووٹروں کی تصدیق مکمل کرنا ہوتی ہے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ نے انتخابات مقررہ وقت پر کرانے پر زور دیا، اجلاس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ1998ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی کا 56فیصد حصہ پنجاب سے تھا، جو اب کم ہو کر52فیصد رہ گیا ہے، جس کا مطلب پنجاب میں مقررہ نشستوں کی تعداد میں کمی ہونی چاہیے۔اجلاس میں صرف وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے صوبوں کے مردم شماری نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ دیگر صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔اس پیش رفت کے بعد آج پارلیمانی رہنمائوں کا اجلاس ہورہا ہے جس میں2نومبر کو وزیر قانون زاہد حامد کی جانب سے پیش کی گئی آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے بات چیت ہو گی۔جس کے بعد دیگر معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا ۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ نئی انتخابی حلقہ بندیوں کیلئے ضروری قانون سازی اور آئینی ترمیم کا معاملہ سیاسی جماعتوں کے اختلافات کے باعث انتخابات میں تعطل آنے کے جو خدشات پیدا ہوگئے تھے اسے وزیر اعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میںطے کرلیا گیا ہے جس سے انتخابات کی نئی حلقہ بندیوں کے مطابق انعقاد کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور ایک متوقع بحران کی نوبت نہیں آئی ۔ ہمارے تئیں حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کے سربراہوں کی جانب سے اس سلسلے میں ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا جس سے اتفاق رائے ممکن ہوا ۔آئینی ترمیم اور ضرور ی قانون سازی کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جو ذمہ داری تفویض ہوگی اس کیلئے مناسب وقت بھی موجود ہے اور الیکشن کمیشن اس کیلئے تیا ربھی ہے۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو درکار حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا اعتماد بھی ملے گا اور حلقہ بندیوں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت اور اعتراضات سے اجتناب کیا جائے گا اس ضمن میں ضرورت پڑنے پر مزید مشاورت میں حرج نہ ہوگا محولہ تمام جدوجہد کا ثمریہ سامنے آنا چاہیئے کہ وطن عزیز میں حلقہ بندیوں کے تنازعے کے بغیر صاف اور شفاف انتخابات کا بروقت اور خوش اسلوبی سے انعقاد یقینی بن جائے الیکشن کمیشن جہاں بہتر انتظامات کرنے کی ذمہ دار ہے وہاں سیاسی جماعتوں کا الیکشن قوانین کی پابندی اور انتخابی ضابطہ کار کا احترام بھی بنیادی امر ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں ایک دوسرے کیلئے خواہ مخواہ کی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے اپنے طرز عمل سے تعاون اور مفاہمت کا رویہ اختیار کریں تو بہت سارے مسائل سے بچنا ممکن ہوگا جن سے پولنگ کے دوران واسطہ پڑتا ہے ۔

متعلقہ خبریں