آسمان صحافت کے درخشندہ ستارے حبیب الرحمن کاسانحہ ارتحال

آسمان صحافت کے درخشندہ ستارے حبیب الرحمن کاسانحہ ارتحال

ممتاز صحافی، کالم نگار، آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی علامت حبیب الرحمن کا سانحہ ارتحال قومی سطح پر اور خاص طور پر خیبر پختونخوا میں صحافت اور اہل صحافت کیلئے ناقابل تلافی نقصان اور صدمے کا باعث ہے ۔ خیبر پختونخوا میں عامل صحافیوں میں بہت کم ایسے ہوں گے جنہوں نے استاذالاستاذہ حبیب الرحمن مرحوم سے براہ راست اور بالواسطہ فیض حاصل نہ کیا ہو ۔ حبیب الرحمن جنہوںنے دور جوانی میں منہاج بر نا اور نثار عثمانی کے ساتھ آزادی صحافت کیلئے جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں تو باقی ماندہ وقت مختلف اداروں میں نوجوانوں صحافیوں کی تربیت اور معیاری صحافت کے فروغ کیلئے کوشاں رہے ۔ حبیب الرحمن مرحوم و مغفور سب سے زیادہ عرصہ روزنامہ مشرق پشاور سے وابستہ رہے نیشنل پریس ٹرسٹ سے نجکاری کے بعد روزنامہ مشرق پشاور کا انتظام و انصرام عہد نو کے بانی سید تاج میر شاہ مرحوم و مغفور نے سنبھالا تو اس وقت حبیب الرحمن مرحوم ادارے کے سینئر ترین عہدے پر فائز تھے ۔ آغہ جی کی حبیب صاحب پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ وہ کوئی بھی قدم ان کی مشاورت کے بغیر نہیں اٹھاتے تھے۔ آغہ جی نے مرحوم پر جو اعتماد کیا وہ اس پر بجا طور پر پورے اترے۔ آغہ جی اور حبیب صاحب کی انتھک محنت سے مشرق کے جس شاندار عہد نو کا آغاز ہوا وہ کسی لفظی تشریح کا محتاج نہیں۔ آغہ جی کو قدرت نے زیادہ موقع نہ دیا اور نجکاری کے ابتدائی سالوں میں ہی جنت مکانی ہوگئے جس کے بعد ان کے جوا نسال فرزند ارجمند سید ایاز بادشاہ نے چیف ایڈیٹر کا عہدہ سنبھالا جو اس امر کے بجا طور پر معترف ہیں کہ ’’ حبیب الرحمن صاحب کی پیشہ ورانہ رہنمائی نے ان کا سفر آسان بنایا ان کی خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ‘‘حبیب الرحمن ایک مشفق استاد پیشہ وارانہ معاملات میں سخت گیر اور غصیلے ہونے کے ساتھ کام کے دوران وقت ملنے پر اپنے ہمکاروں اور نوجوان شاگردوں کے ساتھ بذلہ سنجی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔حبیب الرحمن مرحوم نے نیوز روم کا جو ماحول اور معیار قائم کیا تھا وہ ان کے ساتھ ہی رخصت ہوگیا جس کی کمی کا شدت سے محسوس ہونا فطری امر ہے۔ مرحوم معیار اور اخلاقیات کے درس کے ساتھ ساتھ نوواردان صحافت کو اکثر و بیشتر اس امر کی نصیحت کرتے تھے کہ وہ مشکل پیشے میں خود کو دبائو سے نکالنے کیلئے خوش مزاجی اختیار کرنے کی سعی کریں۔ جناب حبیب الرحمن کی سرپرستی اور توجہ کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ پرنٹ میڈیا میں بالخصوص اورالیکٹرانک میڈیا میں بالعموم سینئر عہدوں پر کام کرنے والے ان کے تربیت یافتہ ہیں جو آج ایک شفیق اور مہربان استاد سے محروم ہوگئے ۔ اللہ رب العزت اس مہرباں ،ہمدرد او رشفیق انسان کی بشری خطا ئوں کو اپنے خاص فضل و کرم سے در گزر فرمائے اور مرحوم کو اپنے جواررحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسما ندگان واہل صحافت کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین ۔
ڈیرہ کی مظلوم لڑکی کو انصاف کون دے گا ؟
گائوں گرہ مٹ میں معصوم لڑکی سے زیادتی کے واقعے میں اولاً پولیس کی جانب سے معاملے کو درست طور پر نہ لینے اور دوم اس واقعے کی تحقیقات کے مطالبات اور دبائو کے جواب میں صوبائی حکومت کی خاموشی اور بعض با اثر افراد کے ملوث ہونے کے الزامات کے باعث اس معاملے میں رفع دفع کا فارمولہ ہی اختیار کیا جارہا ہے اگر یہ واقعہ کسی دوسری جگہ پیش آچکا ہوتا تو اس کے عدالتی تحقیقات اور اس ظلم کے خلاف کون پیش پیش ہوتا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں اگر چہ کسی کے گھر جا کر ان کو دلاسہ دینے اورامداد کی پیشکش احسن امر ہے لیکن دبائو بڑھنے اورالزامات لگنے کے بعد اس طرح کا عمل بھی شکوک کا باعث بنتا ہے۔ ہمارے تئیں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مظلوم خاندان کو مطمئن کرنے کیلئے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور مظلوم خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے پولیس کی ابتداہی میں جانبداری کی وجوہات اور اب تک پولیس کی جانب سے مصلحت کا شکار ہونے کی بھی تحقیقات ہونی چاہیئے ۔ اس طرح کی صورتحال کو بعض عناصر کی طرف سے اچھا لنے اور دال میں کچھ کالا ہے قرار دینے کا موقع بھی پولیس اور حکومتی عدم دلچسپی ہی کے باعث مل رہا ہے ۔ واقعہ کی سنگین نوعیت اور اس حوالے سے اٹھنے والے اعتراضات و الزامات کا جواب دینے کا موزوں طریقہ ہی یہ ہے کہ اس معاملے کی صحیح اور غیر جانبدار انہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں ۔ اس قسم کے واقع میں صرف ایک ایس ایچ اوکی معطلی کافی نہیں بلکہ اس سے اوپر کی سطح پر ڈی پی او اور ڈی آئی جی سے جواب طلبی ہونی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں