انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا

انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا

حدیبیہ پیپر ملز کیس کا بڑا شہرہ تھا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ بار بار یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے رہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کھلے گا تو اس میں سے بہت کچھ نکلے گا۔ اس کیس کا ذکر پاناما کیس کے فیصلے میں بھی آیا۔ یہ سوال اُٹھایا گیا کہ نیب نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اختیار کیوں نہ استعمال کیا یا فرض کیوں نہ نبھایا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کم و بیش سبھی ٹی وی چینلز پر سیاسی مبصرین اور قانونی ماہرین نے بہت سے پروگراموں میں اس کیس کے بارے میں طویل نکتہ آفرین بحثیں کیں۔ معلوم ہوا کہ اس کیس کے ملزم موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وعدہ معاف گواہ ہونا قبول کیا تھا اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ایسی گواہی دی تھی جس میں ان پر منی لانڈرنگ کے الزامات نظر آئے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بعد ازاں اسحاق ڈار نے بتایا کہ ان سے زبردستی بیان لیا گیا تھا اور وہ یہ بیان واپس لیتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے وعدہ معاوف گواہ کی بجائے ملزم ہونا قبول کیا۔ یہ کیس گزشتہ صدی کی نوے کی دہائی میں بنا تھا۔ اس کے بعد یہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں کبھی کھلتا اور کبھی پس منظر میں جاتا رہا ۔ ٹی وی چینلوں میں یہ بھی سنا جاتا رہا کہ نیب کے سابق چیئرمین کے دور میں احتساب ادارے نے اس کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جس کی وجہ سے اب اپیل کا وقت گزر چکا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ اسحاق ڈار اپنے بیان سے منحرف ہو چکے ہیں تاہم جو واقعات اور شواہد انہوں نے وعدہ معاف گواہ کے طور پر بیان کیے تھے ان کے بارے میں تفتیش تو ہونی چاہیے تھی۔ نیب کے موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں جب نیب فعال ہوتا ہوا نظر آتا ہے، تو اس نے حدیبیہ پیپر ملز کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ جو سماعت کے لیے منظور ہو گئی ۔ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ سب سے پہلے سپریم کورٹ میں بحث اس سوال پر ہو گی آیا اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد یہ کیس اب بھی قابلِ سماعت ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ طویل عرصہ سے پاکستان کی سیاسی فضا پر معلق یہ کیس آخر فیصل ہو جائے گا اور کاروبار سیاست اس کیس کے سائے سے آگے نکل سکے گا۔ لیکن سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پہلی ہی پیشی پر اس کیس کی سماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس طرح ان کی سربراہی میں جو بنچ سماعت کے لیے بنا تھا وہ ٹوٹ گیا اور سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گئی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کیس سے علیحدگی اختیار کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار آفس نے شاید پاناما کیس کا فیصلہ نہیں پڑھا۔ جس کے 14پیراگراف انہوں نے خود لکھے تھے اور ان میں حدیبیہ پیپر ملز کیس کھولنے کا بھی ذکر تھا۔ ساری دنیا کے اعلیٰ عدالتوں کے جج ایسے مقدمات کی سماعت سے احتراز کرتے ہیں جن کے بارے میں وہ پہلے رائے دے چکے ہوں۔ رجسٹرار آفس نے شاید غلطی سے کیس ان کی سربراہی میں قائم کیے جانے والے بنچ کے سامنے لگا دیا۔ اس کیس کی سماعت اب کب ہوتی ہے اس سے قطع نظر یہ سوال اہم ہونا چاہیے کہ رجسٹرار آفس نے یہ کیس جسٹس آصف سعید کھوسہ کی عدالت میں غلطی سے لگایا یا جان بوجھ کر لگایا۔ دونوں صورتوں میں یہ بات قابلِ مواخذہ ہے اور انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ مواخذہ بھی ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔ یہ کیس اپنے سیاسی مضمرات کے حوالے سے نہایت اہم ہے اس لیے اس مواخذہ کو بھی اہم ہونا چاہیے۔ خواتین کی حیثیت کے بارے میں قومی کمیشن نے خیبر پختونخوا حکومت کو ایک خط میں کہا ہے کہ گڑھ مٹ ڈیرہ اسماعیل خان کی شریفاں کے مقدمے میں ملزموں کے خلاف دفعہ 354Aتعزیرات پاکستان کے تحت بھی ایف آئی آر درج کی جائے۔ اس ضابطہ کے تحت درج مقدمات کے ملزموں کی نہ ضمانت ہو سکتی ہے اور نہ اس مقدمے میں راضی نامہ ہو سکتا ہے۔ کمیشن کے خط میں کہا گیا ہے کہ بااثر ملزموں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 354، 342، 148اور 149کے تحت تومقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن ایف آئی آر میں دفعہ 354Aشامل نہیں کی گئی جس میں راضی نامہ اور ضمانت کی ممانعت ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس والے مظلومہ شریفاں اور اس کے اہل خانہ پر خاموش ہو جانے کے لیے کیوں دباؤ ڈالتے رہے اور یہ کہ ایف آئی آر درج کرتے ہوئے یہ گنجائش رکھ لی گئی تھی کہ ملزم ضمانت پر رہا ہو جائیں اور مظلوم خاندان کو راضی نامہ پر رضامند کر سکیں۔ اس حوالے سے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ کیا کوئی عدالت از خود اس معاملے کا نوٹس لے گی اور انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا؟ ۔ایک ہی دن کے اخبار میں تیسری خبر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کی گریجویشن کی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ان کی تنخواہ اور الاؤنسز واپس لیے جائیں۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اس الزام کے تحت یاسمین شاہ کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار رضا خان کی سربراہی میں کمیشن کے پانچ رکنی بنچ نے یاسمین شاہ کا بطور سینیٹر نوٹی فکیشن کینسل کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ لیکن گزشتہ پیر کے روز جب کہ یاسمین شاہ 2003ء میں سینیٹر منتخب ہوئی تھیں۔ یعنی منتخب ہونے کے 14سال بعد کمیشن نے فیصلہ کیا کہ انتخاب غلط تھا۔ اس دوران یاسمین شاہ سینیٹ کی کارروائی میں حصہ لیتی رہیں۔ انہوں نے کتنی بار سینیٹ میں ووٹ دیا اس کا حساب سینیٹ سیکرٹریٹ میں ہوگا ، ان کے ووٹ سے جو قوانین منظور ہوئے ان کی حیثیت متاثر ہو گی یا نہیں یہ بھی ایوان بالا کے ارکان جانیں۔ تاہم کیا یہ کافی ہے کہ ان کی تنخواہیں اور مراعات ان سے واپس لے لی جائیں۔ اخبار میں جو خبر شائع ہوئی ہے اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آیا الیکشن کمیشن نے یاسمین شاہ کے خلاف جعلی ڈگری حاصل کرنے‘ اسے الیکشن کمیشن میں پیش کرنے اور ایوان بالا کے ساتھ جو فریب کیا ان الزامات میں مقدمات درج ہوں گے یا نہیں۔کیا اس طرح انصاف ہوتا ہوا نظر آیا؟۔

متعلقہ خبریں