جنگِ عظیم اول میں مسلمان فوجیوں کی قربانیاں

جنگِ عظیم اول میں مسلمان فوجیوں کی قربانیاں

یہ فرانس کا قومی جنگی قبرستان نوٹرے ڈیم ڈی لورٹ ہے جو کہ440 میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس قبرستان میں زیادہ تر ان لوگوں کے مقبرے ہیں جنہوں نے اتحادیوں کی جانب سے پہلی جنگِ عظیم کے دوران مغربی فرنٹ پر جنگ لڑی تھی۔ارآس کے قصبے کے قریب شمالی فرانس کے اس حصے میں 1.5 بلین آرٹلری شیل داغے گئے تھے جس کی وجہ سے فوجیوں نے اس علاقے کو ’’ شمال کاجہنم ‘‘ یا ’’ قبرستان‘‘ کا نام دے دیا گیاتھا۔لیکن اس جنگ کے دوران جن سپاہیوں نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی وہ مسلمان فوجی تھے جو اتحادیوں کی جانب سے جنگ لڑ رہے تھے۔دنیا کے شدید گرم اور گرم مرطوب خطوں سے جانے والے ان مسلمان فوجیوں کے ساتھ ایک پیش امام بھی تعینات کیا جاتا تھا جس کے فرائض میں مسلمان فوجیوں کو باجماعت نماز ادا کروانا اور کسی مرتے ہوئے فوجی کے کان میں اذان دینا بھی شامل تھا۔ مسلمان فوجیوں کے نماز ادا کرنے کے لئے بھی فرنچ ہائی کمانڈ کی جانب سے خصوصی احکامات جاری کئے گئے تھے جن کے مطابق اگر لڑائی کی شدت زیادہ ہو تو مسلمان فوجی اپنے سر اور جسم کی جنبش سے نماز ادا کرسکتے تھے اور امن کے وقفے میں مکمل نماز ادا کرنے کی اجازت تھی۔ ان فوجیوں کے ساتھ آئے ہوئے باورچیوں کے ہاتھوں کے بنے ہوئے حلال کھانے بھی مسلمان فوجیوں کو روزانہ کی بنیاد پر فراہم کئے جاتے تھے۔ جب لڑائی کے دوران دوائیاں اور میڈیکل کا دوسرا سامان ختم ہو جاتا تھا تو یہ لوگ اپنے علاقوں سے لائی ہوئی جڑی بوٹیوں سے اپنے عقائد کے مطابق زخمیوں اور بیماروں کاعلاج خود کرتے تھے۔ایک دوسرے کا حوصلہ بلند رکھنے کے لئے یہ سپاہی اپنی مقامی زبانوں میں ایک دوسرے کو مقامی نغمے بھی سناتے رہتے تھے۔نوٹرے ڈیم ڈی لورٹ میںجہاں مغربی فرنٹ پر ہلاک ہونے والے 40,000فرانسیسی سپاہیوں کی قبریں موجود ہیں وہیں پرایک کونے میں ان مسلمان سپاہیوںکو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ اس قبرستان میں مسلمان سپاہیوں کی قبروںکو ان کے کتبوں کی وجہ سے پہچانا جاسکتا ہے جن پر قرآنی آیات لکھی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کتبوں کا رخ بھی مکہ مکرمہ کی جانب ہے۔ ان کتبوں کا ڈیزائن فرانسیسی پینٹر ایٹائن ڈینٹ نے بنایا تھا جو کہ1908ء میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ آرمسٹس ڈے کی یادگاری تقریبات کے دوران برطانوی مسلمانوں کی طرف سے شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان فوجیوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی گئی تھی ۔ تحقیق کے مطابق جنگِ عظیم اول کے دوران تقریبا ً 25 لاکھ مسلمانوں نے الائیڈ فورسز کی جانب سے بطور فوجی یا مزدور حصہ لیا تھا۔ یہ وہ اعدادوشمار ہیںجو کہ تاریخ میں پہلی دفعہ فارگاٹن ہیروز 14-19 فائونڈیشن کی انتھک کوششوں کی وجہ سے سامنے لائے جاسکے۔ ان مسلمان فوجیوں کا تعلق افریقہ، انڈیا، مشرقِ وسطیٰ ، روس اور حتیٰ کہ امریکہ سے بھی تھا جنہوں نے عیسائی اور یہودی فوجیوں کے ساتھ مل کر ناصرف بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ فریئر اور ان کی ٹیم کے مطابق تاریخ کے اس باب کو دنیا کے سامنے لانے سے اس حوالے سے یورپ میں موجود مسائل کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ ان دستاویزات میں ایسے واقعات بھی درج ہیں جن میں مسلم اماموں، عیسائی راہبوں اور یہودی ربِیوں نے ایک دوسر ے کی آخری رسومات سیکھیں تاکہ ایک دوسرے کے فوجیوں کو دفن کرنے میں آسانی رہے۔ ایسے بھی بہت سے واقعات موجود ہیں جب مسلمان فوجیوں نے بھوکے سویلینز کو اپنا کھانا دے دیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجی جرمن قیدیوں کے ساتھ مسلمانوں کے ہمدردانہ رویئے سے بھی بے حد متاثر ہوئے تھے۔ فریئر ، جو کہ خود مسلمان نہیں ہیں ، کا کہنا ہے کہ پورے یورپ میں اس وقت اسلامو فوبیا پھیل رہا ہے جس پر قابو پانے کے لئے ہمارا پراجیکٹ انتہائی اہم ہے جس سے لوگوں کومشترکہ تاریخ کے بارے میں بتاتے ہوئے ہم آہنگی فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ دائیں بازو کی جماعتوں کی وجہ سے ایسا ظاہر کیا جاتا ہے کہ مسلمان یورپ میں ابھی داخل ہوئے ہیں اور انہوں نے یورپ کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا لیکن ہم اس پراجیکٹ کے ذریعے ان کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں نے یورپ کو آزاد کروانے کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے بڑے مقاصد میں آج کی نوجوان نسل کو ان کے درمیان رہنے والی مسلمان کمیونٹیز کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دینا ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت نہ صرف سکول کے بچوں کو جنگ عظیم اول کے ہیروز اور مسلمانوں کی قربانیوںکے بارے میں بتایا جاتا ہے بلکہ غیر مسلموں کو بھی مساجد میں آکر اس تحقیق کے بارے میں جاننے اور مسلمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ’فارگاٹن ہیروز 14-19 فائونڈیشن‘کی تحقیق کو پوری دنیا میں سراہایا گیا ہے اورپچھلے مہینے فریئر نے اس حوالے سے ہارورڈ یونیورسٹی کے تاریخ دانوں کو اس موضوع پر لیکچر دیا ہے ۔اس کے علاوہ فائونڈیشن کی جانب سے اس موضوع پر اقوام ِ متحدہ میں مقالہ بھی پیش کیا گیاہے ۔ لیوک فریئر اور ان کی فائونڈیشن جنگِ عظیم اول میں مسلمان فوجیوں اور مزدوروں کی قربانیوں کو دنیا کے سامنے لا کر یورپ سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے میں مصروف ہے تاکہ آنے والی نسلیں ایک پُرامن دنیا میں سانس لے سکیں۔ 

(بشکریہ: دی گارڈین،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں