اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

قارئین کرام کے اس قسم کے ردعمل کا اندازہ نہ تھا اب تک اولین کالم کے جواب میں ارسال کردہ مراسلہ جات ہی شامل اشاعت ہو سکے ہیں۔ کوشش رہے گی کہ زیادہ سے زیادہ مراسلہ جات اختصار کے ساتھ شامل اشاعت کئے جاسکیں۔ متعلقہ حکام سے صرف گزارش یہ کرنی ہے کہ ان کا عوام کے مسائل سے باخبر ہونے کے باوجود لاتعلقی کا رویہ ایک بڑا مسئلہ ہے اگر یہ مسئلہ نہ رہے تو لوگوں کے شکایات میں بھی کمی آنا فطری امر ہوگا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ حکومتی وسائل صرف ہو رہے ہوتے ہیں مگر ان کو عوام کے مسائل و مشکلات میں کمی لانے کیلئے اخلاص اور ایمانداری کے ساتھ بروئے کار نہیں لایا جاتا کاش کہ ہمارے ارباب حل وعقد اپنی اصلاح کریں۔

ایک اندازے کے مطابق ماضی قریب میں سخت حالات سے گزرنے والی قبائلی ایجنسی جنوبی وزیرستان سے موصول شدہ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جنوبی وزیرستان ایجنسی میں 72 میڈیکل آفیسرز اور دس بارہ سپیشلسٹ تعینات ہیں مگر ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا حال یہ ہے کہیہاں پر جانور پھر رہے ہوتے ہیں۔ ہر بی ایچ یو میں ایل ایچ وی اور ایل ایچ ڈبلیو کی پوسٹ پر تنخواہ لی تو جاتی ہے مگر ڈیوٹی کوئی نہیں کرتا۔ دوائی ٹرک بھر کے آتی ہے اور منظور نظر افراد میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یونیسیف کی مدد سے لیبر روم مکمل طور پر فعال کرایاگیا ہے۔ امراض چشم کے شعبہ میں سوائے او پی ڈی کے کبھی سال میں ایک موتیا کا آپریشن نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صبح 10بجے سے 12بجے تک او پی ڈی باقی وقت پرائیویٹ کلینک میں گزارتے ہیں‘ ہر محکمے کا یہی حال ہے۔پوری ایجنسی میں ایک بھی لڑکیوں کا سکول فعال نہیں۔ میری نظر میں ان سب مسائل کا ذمہ دار یہاں کا ایف سی آر قانون کے علاوہ بعض علماء ہیں جو علاقے میں اثرورسوخ کے حامل ہیں‘ علاوہ ازیں سچی بات تو یہ ہے کہ بہت کچھ ان عناصر، علاقے کے عمائدین اورپی اے‘ اے پی اے کی ملی بھگت کے ساتھ ہوتا ہے۔
اگلے مراسلے میں اس امر کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل سائنسز کوہاٹ کے فیکلٹی ممبران اور خیبرپختونخوا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے فیکلٹی ممبران کی تنخواہوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ مذکورہ بالا میڈیکل اور ڈینٹل کالج کوہاٹ میں ایک پروفیسر) Clinical) کی تنخواہ ایک میڈیکل افسر کی تنخواہ سے بھی کم ہے یعنی گریڈ اکیس کی تنخواہ گریڈ سترہ سے کم ہے۔ کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کوہاٹ اور کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل سائنسز کوہاٹ میں گزشتہ دو سالوں سے میڈیکل اور ڈینٹل کالج میں کام کرنیوالے فیکلٹی ممبران کو ہیلتھ پروفیشنل الائونس سے بھی محروم کیاجارہا ہے۔ اس کے علاوہ کوہاٹ میں ہائوس جاب کرنیوالے ڈاکٹرز چاہے ان کا تعلق میڈیکل سے یا ڈینٹل شعبے سے ہوں ان کی رہائش کے لئے سرکاری سطح پر کے ایم یو کی طرف سے کوئی انتظام نہیں۔ بی ڈی ایس کے ہائوس جاب ڈاکٹروں کو ماہانہ وظیفہ بھی نہیں مل رہاجبکہ گزشتہ تین مہینوں سے ڈپٹی کمشنر و کمشنر کوہاٹ‘ وائس چانسلر کے ایم یو‘ ایم ایس کوہاٹ ہسپتال اور چیف ایگزیکٹو کوہاٹ آفس کے درجن چکر کاٹ کر بھی مسئلہ جوں کاتوں ہے۔
بانڈہ داؤد شاہ کرک سے نوجوانوں کی تنظیم کے جنرل سیکرٹری جاوید کو بھی دوسرے نوجوانوں کی طرح غم روزگار کا سامنا ہے۔ ان کی یہ شکایت جائز ہے کہ کرک میں ملٹی نیشنل کمپنیاں قدرتی وسائل تیل وگیس اور معدنیات نکالتی ہیں مگر علاقے کے مقامی نوجوانوں کو تجربے اور استعداد کے باوجود بھرتی نہیں کیا جا رہا۔ اصولی طور پر ان کا مطالبہ درست ہے متعلقہ کمپنیوں کو مقامی نوجوانوں کو ملازمتیں دینی چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو اس ضمن میں مداخلت کرنی چاہئے تاکہ احساس محرومی پیدا نہ ہو اور آئے روز لوگوں کے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کا سلسلہ کم ہو جائے۔ حقداروں کو حق ملنا چاہئے اور اسے یقینی بنانا ان کمپنیوں کے انتظامیہ اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے جس میں غفلت فساد کا باعث ہوگا۔
باڑہ خیبر ایجنسی کے بلال احمد نے سوال اٹھایا ہے کہ جب لوگوں میں شعور کی کمی ہو تو جمہوریت کا کیا فائدہ؟ بقول شاعر مشرق علامہ محمد اقبال جمہوریت اک طرز حکومت ہے جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ جمہوریت میں اہلیت ماپنے کا پیمانہ ہی نہیں بس لوگ شمار کئے جاتے ہیں۔ لوگوں میں شعور کی کمی اس نظام کو مزید بدتر بنانے کا باعث بن رہا ہے۔
ایک اور قاری کی تمنا ہے کہ کاش ہر پاکستانی کی سوچ حیات آباد کی رہنے والی اس خاتون خانہ کی طرح ہو جائے جس کی جانب سے گزشتہ کالم میں فاضل اراضی کو سرکاری طور پر ذریعہ آمدن بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔جس طرح کے مسائل اور مشکلات کا تذکرہ مراسلہ جات میں ملتا ہے حکومتی وسائل کو دیکھتے ہوئے ان کا مکمل حل کرنا ممکن نظر نہیں آتا لیکن حکومتی ادارے اتنے بھی بے بس نہیں کہ بہتری لانے میں ان کے ہاتھ بندھے ہوں ۔
نوٹ: قارئین کرام اپنے مراسلہ جات روزنامہ مشرق بلال ٹائون جی ٹی روڈ پشاورکے پتے پر ارسال کریں یا 03379750639پر مسیج یا واٹس اپ کریں۔

متعلقہ خبریں