الیکشن کے لیے نئے اتحاد

الیکشن کے لیے نئے اتحاد

اب جبکہ 2018کے انتخا بات میں تھوڑا عرصہ رہ گیا ہے تمام سیاسی پا رٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ جو ڑ توڑ میں لگی ہوئی ہیں ۔ اور وہ پا رٹیاں اور راہنماء جو ایک دوسرے کا نام سُننا گوارہ نہیں کرتے اب شیر و شکر ہوگئے ہیں۔ایک طر ف اگر کراچی میں ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پا رٹی ، متحدہ مجلس عمل کی اتحاد کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری طر ف پر ویز مشرف کراچی میں 25 سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر نے کے لئے تگ و دوکر رہے ہیں۔جماعت اسلامی کے دفترواقع منصورہ لاہور میں ایم ایم اے کی بحالی میں جن مذہبی پا رٹیوں نے حصہ لیا ہے اُن میں جماعت اسلامی، جمعیت العلمائے اسلام (ف)جمعیت العلمائے اسلام نورانی گروپ، مر کزی جمعیت اہلحدیث اور اسلامی تحریک قابل ذکر سیاسی اور مذہبی پا رٹیاں ہیں۔اگر ہم تجزیہ کر لیں تو ایم کیو ایم پاکستان اور پاکستان سر زمین پا رٹی کے قائدین کے درمیان اتحاد کی باتیں ہورہی تھیں مگر یہ سمجھ نہیں آئی کہ ان دونوں میں بات کیوں نہیں بنی۔ بہرحال یہ دونوں ایسی پا رٹیاں تھیں جو عرصہ دراز سے ایک دوسرے کے خلاف کرپشن ، بد عنوانی، ڈاکہ زنی ،بھتہ خوری کے الزامات لگانے میں مصروف تھیں ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے ان کا ایک دوسرے کے انتہائی قریب آنا معجزے سے کم نہیں ۔ اگر ان دونوں کی بات آج نہیں بنی ،تو کل تو ضرور بنے گی ۔ اگر ہم ایم کیو ایم پاکستان ، پاک سرزمین پا رٹی ، ایم کیو ایم لندن کے ماضی قریب میں پولیس ورینجر ز کے ہاتھوں گرفتاریوں اور پھر، مختلف عدالتوں ، الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بھتہ خوری، کرپشن ، اغوا برائے تاوان کے جرائم کا اعتراف دیکھیں توبندہ شسدررہ جاتا ہے ۔ مگر ایم کیو ایم پاکستان ، ایم کیو ایم لندن او ر پاک سرزمین پا رٹی کے راہنمائوں اورلیڈران کا قانون کی گرفت سے نکلنا اور حکومت کی طرف سے انکے خلاف ایکشن نہ لینا ایک عجیب بات ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ان پا رٹیوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور سب جھوٹ تھا۔ ایم ایم اے میں شامل 6 سیاسی پارٹیوں نے منصورہ میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے بحالی کا اُصولی فیصلہ کیا ہے ۔ جے آئی یو کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر مذہبی سیاسی پا رٹیوں کے راہنمائوں جس میں مولا نا سمیع الحق ، اشاعت تو حید السنۃ کے سربراہ مولانا محمد طیب طا ہری اور اسکے علاوہ دیگر سیاسی پا رٹیوں کے سربراہوں نے الزام لگایا تھا کہ وہ مذہب کے نام پر ذاتی مفاد کی سیاست کرتے ہیں۔صوابی میں جماعت اسلامی کے زیر انتظام جلسے میں، جس میں سراج الحق اور صوبائی امیر مشاق احمد خان اور مولانا طیب طا ہری نے شرکت کی تھی۔ مولانا طیب نے جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کو یقین دہانی کروائی تھی کہ اُسکی پا رٹی جماعت اسلامی کے ساتھ ایک شرط پر اتحاد کرے گی۔ جب سراج الحق اور جماعت اسلامی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمان پر رائے عامہ اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ مولانا صاحب نواز شریف کے ساتھ دوستی نبھانے اور ساتھ دینے میں قومی اسمبلی میں حالیہ ختم نبو تؐ بل بھی بھول گئے تھے۔مو لانا صا حب پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ خود اور انکی پا رٹی ختم نبو تؐ قانون میںحالیہ ترمیم پرقومی اسمبلی میں خا مو ش کیوں رہی۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق اگر جماعت اسلامی کے صاحب زادہ طارق اللہ اور انکی پا رٹی کے دیگر اراکین اور شیخ رشید احمد اگر ایوان میں شور نہ مچاتے تو نواز شریف اور اُنکے دیگر اتحا دیوں نے قومی اسمبلی سے یہ بل منظور کرنا تھا۔ موجودہ حالات میں جب کہ نہ ووٹر کو اس حقیقت کا پتہ ہے کہ اس کے ووٹ کی کیا حیثیت ہے اور نہ ان سیاست دانوں کو کوئی پتہ ہے کہ الیکشن کے بعد اُنکی کیا حکمت عملی ہوگی۔کیا ایسے حالات میں انتخابات کرنا وطن عزیز میں بے روزگاری، مہنگائی ، لاقانونیت ، بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔کیا وطن عزیز میں جو لوگ دو وقت کی روٹی، سوئی گیس، بجلی کنکشن ، سکول کالج میں بچوں کے داخلے ،پٹواری سے زمین کے کا عذات ٹھیک کر وانے، گلی نالی پکی کرنے پر جو ووٹ دیتے ہیں ایسے حالات میں عام انتخا بات سے کوئی تبدیلی آئے گی۔کیا ۲۰۱۸ کا الیکشن گزشتہ انتخابات سے مختلف ہوںگے۔ کیا ۲۰۱۸ کے الیکشن میں کسی سیاسی پا رٹی کے پاس الیکشن سے پہلے کوئی ایسا ایجنڈا اور لائحہ عمل ہے جس میں یہ گا رنٹی ہو کہ اس الیکشن سے کرپشن اقربا پروری صحت ، تعلیم اور دوسرے مسائل حل ہونگے۔ میری ناقص رائے میں آئندہ الیکشن کے بعد بھی ایسے ہی ہونگے جیسے 1971 سے 2013 کے الیکشن کے بعد تھے۔ اس میں بھی کو ئی شک نہیں کہ لمبی ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے پاکستان کے حالات مزید خراب ہوگئے تھے۔ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی سیاسی پا رٹیوں کا ایک اپنا الگ انداز سیاست ہے ایسے وقت میں جب مولانا فضل الرحمان نے ۵ سال تک میاں نواز شریف کے ہر جائز اور ناجائز کو ٹھیک کہا جماعت اسلامی کا جمعیت علمائے اسلام(ف) سے اتحادسمجھ سے بالاتر ہے ۔ میں نے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر اور پارٹی کے ایک اہم عہدیدار مشتا ق احمد خان سے ٹیلی فون پر بات کی اُنکا کہنا تھا کہجمعیت العلمائے اسلام میں اچھی شہرت کے راہنماء اور لیڈر موجود ہیں جسکی وجہ سے جماعت اسلامی ، دوسری سیاسی پا رٹیوں کے ساتھ اتحاد کے لئے کو شاں ہیں ۔بہر حال لگتا تو ایسے ہے کہ ہماری سیای پا رٹیاں کسی مقصد کے لئے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔آئندہ آنے والے وقتوں میں پاکستان کے سیاسی پا رٹیوں کے مزید اتحاد ٹوٹتے اور بنتے رہیں گے مگر یہ اتحاد صرف ان سیاست دانوں کے لیے ہی اچھے ہوں گے عوام کو کچھ نہیں ملے گا ۔

متعلقہ خبریں