مشرقیات

مشرقیات

سیدنا عمرو بن جموحؓ کا تعلق بنو سلمہ سے تھا۔ یہ مدینہ طیبہ کے نمایاں افراد میں سے تھے۔ ان کے ایک پائوں میں لنگ تھا‘ اس لئے لنگڑا کر چلتے تھے۔ ان کے چار نوجوان بیٹے تھے۔ اس گھرانے کو یہ شرف حاصل ہوا کہ سارا گھرانہ ہی مسلمان ہوگیا۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو حضرت عمرو بن جموحؓ بھی میدان جہاد کے لئے تیار ہوگئے۔
ان کے بیٹوں نے اپنے باپ کو روکا اور کہنے لگے: ابا جان! آپ پائوں سے معذور ہیں‘ آپ پر جہاد فرض نہیں ہے‘اس لئے آپ نہ جائیں۔ حضرت عمروؓ رک گئے اور بدر میں شرکت نہ کرسکے مگر انہیں بدر میں شریک نہ ہونے کا ملال بہت تھا۔ ایک سال کے بعد غزوہ احد کا موقع آیا تو اپنے بیٹوں سے کہنے لگے: میرے بیٹو! تم نے مجھے بدر میں جانے سے روکا تھا اب احد میں جانے سے مجھے روکنے کی کوشش نہ کرنا۔ بیٹوں نے کہا:ابا جان آپ تو شرعی طور پر جنگ سے معذور ہیں۔
قارئین کرام! شہادت کا یہ خواہش مند بزرگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس لنگڑاتا ہوا شکایت لے کر پہنچ گیا۔ کہنے لگا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ! میری اولاد مجھے اس خیر سے روک رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں: آپ کے ساتھ احد میں نہ جائوں۔ پھر ان کے دل کی تمنا زبان پر آگئی۔ کہنے لگے:’’اللہ کی قسم! میری دلی خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید ہو کر اسی طرح لنگڑاتا ہوا جنت میں جائوں۔‘‘اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی انہیں وہی بات فرمائی جو ان کی اولاد ان سے کہہ رہی تھی:’’آپ معذور ہیں‘ اللہ نے آپ کو جنگ سے رخصت عطا کی ہے‘‘۔
حضرت عمروؓ پر جہاد فرق نہیں تھا مگر ان کا ذوق و شوق دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے بیٹوں سے فرمایا:’’آپ لوگ اگر انہیں احد میں جانے کے لئے بلا لیں تو کوئی حرج نہیں۔ ہو سکتا ہے انہیں اللہ تعالیٰ مقام شہادت پر فائز کردے۔‘‘
(سنن الکبریٰ للبیہقی9/24)
حضرت عمرو بن جموحؓ نے اپنی تلوار لی اور احد کے میدان کی طرف نکلنے لگے۔ گھر بار اور گھر والوں کی طرف دیکھا اور پھر اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگے:اے اللہ! مجھے شہادت نصیب فرما اور مجھے میرے خاندان میں واپس نہ لانا۔
قارئین کرام! پھر یہ بزرگ عمروؓ میدان جنگ میں پہنچ جاتا ہے۔ لڑائی ہوتی ہے اور جنگ کے اختتام پر خلعت شہادت پالیتا ہے۔
ان کی تمنا پوری اور دعا قبول ہوگئی۔ ان کی اہلیہ حضرت ہند بنت عمروؓ میدان احد میں پہنچ جاتی ہے۔ ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرامؓ اور حضرت عمرو بن جموحؓ میں گہری دوستی تھی۔ وہ بھی احد میں شہید ہوگئے۔ ان دونوں دوستوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیاگیا۔

متعلقہ خبریں