آئین پر عملدرآمد کے اپنے اپنے معانی

آئین پر عملدرآمد کے اپنے اپنے معانی

پانامہ کیس میں عدالت سے نا اہل ہونے کی سزا پانے والے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنی نا اہلی کا سیاسی استعمال کافی کامیابی سے کر رہے ہیں۔ سیاسی اجتماعات کے انعقاد اور سیاسی بیان بازی سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا ۔ سابق وزیر اعظم نے مختف اداروں کے درمیان مکالمہ شروع کرنے کی ضرورت بھی کامیابی سے اجاگر کی ہے لیکن سابق وزیر اعظم بعض اوقات اس قسم کے بھی بیانات دینے لگے ہیں جن کی کسی طور گنجائش نہیں اور نہ ہی یہ مناسب ہیں۔ قبل ازیں ملک کے چھوٹے صوبوں سے محرومی اور نا انصافی کی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں اور وفاق سے شکایات کو اس درجے تک لے جانے کی مثالیں موجود ہیں کہ تصادم کی نوبت آئے۔ ان شکایات کا تعلق ملک کے بڑے صوبے سے متعلق ہوتے اور حکومت و ا قتدار پر ان کے تسلط کو صوبوں کی احساس محرومی کاسبب گردانا جاتا مگر اب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے اور ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے ایک وفاقی سیاسی جماعت کے قائد کی جانب سے محرومیوں اور نا انصافیوں کی داستانیں سنانا اور تاریخ سے ایسی مثالیں دینا جس میں ملک کے دو لخت ہونے کی نوبت کے آنے کی مثال کی شمولیت کے ساتھ عساکر کے کردار و عمل کو بھی موضوع سخن بنانا خطرناک اور کسی طور قابل قبول امر نہیں۔ اگر یہی کچھ اس وقت کسی چھوٹے صوبے سے اٹھنے والا شخص کر گزرتا تو اس کا سخت رد عمل آچکا ہوتا۔ ماضی میں تو اس طرح کے عناصر کو غدار کا لقب دئیے جانے کا وتیرہ رہاہے۔ گو کہ اب ایسا تو شاید نہ ہوتا مگر بہر حال اس کا رد عمل ضرور مختلف ہوتا۔ سابق وزیر اعظم کے بعض خیالات اور ان کے اداروں سے اختلاف کے ہونے اور نہ ہونے کی گنجائش موجود ہے لیکن ایسے تاثرات پر مبنی رد عمل کی کسی طور گنجائش نہیں جو تضادات اور عوام کے لئے ذہنی صدمے اور احساسات کو مجروح کرنے کا باعث بنیں۔ سابق وزیر اعظم کو جذباتیت سے گریز کرتے ہوئے ماضی کے ان کرداروں کے انجام پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو اپنی منافرت اور احساسات سے ملک کے حوالے سے منفی نتائج کے متمنی تھے۔ اس سے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ کچھ ایسے حالات تھے جو ملک کی سلامتی کے لئے خطرناک ثابت ہوئے۔ قوم کو ان کے کرداروں کا بھی علم ہے اور ان کی ناکامیوں سے بھی قوم واقف ہے ۔ ان کو دہرانے کی حاجت نہیں البتہ ان واقعات سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ سابق وزیر اعظم کا ایک ایسے واضح ایجنڈے کے ساتھ آگے آنا ان کی سیاست کے لئے مستحسن ہوگا جس میں شکوک و شبہات اور الزامات کی بجائے ایک واضح راہ عمل کا تعین ہو۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ جمہوریت عوام کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کا نام ہے جس کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں ہر صورت ووٹ کے تقدس اور عوامی رائے کو برقرار رکھنا ہوگا۔نواز شریف نے کہا کہ ہمیں اس ملک کو قائدِاعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس پر قائم نہیں رہے بلکہ اِدھر ادھر بھٹکتے رہے اور ہمارے 70سال ایسے ہی گزر گئے اور اگر اسی طرح چلتا رہا تو پاکستان پھر کسی ایسے بڑے حادثے کا شکار ہوسکتا ہے جس کا یہ متحمل نہیں ہو سکتا۔نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین چند لوگوں کی نہیں بلکہ 20کروڑ عوام کی ملکیت ہے، اگر یہاں چند لوگوں کے پاس گھر ہیں تو کروڑوں عوام کے پاس بھی(پاکستان میں)ان کے گھر موجود ہیں۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو وزارت عظمی کے عہدے سے نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد نواز شریف وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد نواز شریف نے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور آنے کا فیصلہ کیا، اور دوران سفر انہوں نے مختلف مقامات پر قیام کیا اور استقبالیہ کیمپوں سے خطاب بھی کیا۔اپنے تمام خطبات میں سابق وزیر اعظم نے اپنی نا اہلی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بار بار ووٹ کے تقدس کا خیال رکھنے پر زور دیا۔ایک ایسے شخص سے جو یہ سمجھتا ہے کہ اس سے اقتدار تیسری مرتبہ چھینا گیا ہے محرومیوں کا گلہ اور آئندہ کے لئے اس طرز عمل کے تدارک کے عزم کااظہار تو فطری امر ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے ایک خاص حد کو پار کرنے سے اجتناب بہتر ہوگا۔ ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی چالبازیوں اور نا کامیوں کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو ہمارے سیاستدانوں کے حصے میں بھی کوئی خاص کامیابی دکھائی نہیں دیتی۔ خود سیاستدانوں کو بھی اپنے کردار و عمل کا جائزہ لینا ہوگا اور سب سے بڑھ کر اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اقتدار کے اچھے دنوں میں ان کو محرومیوں کے خاتمے اور وطن عزیز میں اداروں کو مضبوط کرنے اور اس ضمن میں ضروری اقتدامات کا کبھی خیال آیا۔ ہر سیاسی جماعت جب اقتدار میں ہوتی ہے تو ان کا موقف مختلف ہوتاہے اور جب اقتدار چھن جاتا ہے توان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ ان کو عوام سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ آئین پر عملدرآمد کا عزم یاد آتا ہے۔ یہی کام اگر وہ کرسی اقتدار پر بیٹھ کر کرنا چاہتے تو اولاً ان کو آسانی ہوتی اور دوم یہ کہ ان کو تقریباً سو فیصد عوام کی حمایت حاصل ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز کا مفاد اسی میں ہے کہ اس طرح کے معاملات کے تمام فریق اور کردار اپنے اپنے طرز عمل اور قول و فعل کا جائزہ لیں اور معاملات کو انتہا کی طرف لے جانے کی بجائے اعتدال اور خیر خواہی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ملک کو بحرانوں سے دو چار کرنے کے حامل رویے پر نظر ثانی کریں۔ آئین میں ترمیم سیاستدانوں کاحق ہے لیکن جو آئین موجود ہو اس پر عملدرآمد کے تقاضوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آئین پر عملدرآمد اقتدار کے دنوں میں زیادہ موثر اور قابل تعریف کردار کا حامل فعل قرار پائے گا۔ ہمارے تئیں اگر آئین پر عملدرآمد ' ایوان کو مضبوط بنانے اور ہر ادارے کو اس کے آئینی کردار کی ادائیگی کا پابند بنانا مقصود ہے تو اس وقت بھی ایسا کرنا ممکن ہے اور اگر آئین میں ترمیم مقصود ہو تو ایسا کرنے کا پارلیمنٹ کو حق حاصل ہے مگر صرف آئین میں ایک دستاویز شامل کرنے اور ایک دستاویز نکالنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل بات عملدرآمد کرنا اور کروانا ہے جس میں ہماری سیاسی قیادت ہمیشہ سے مصلحت پسندی اور گنجائش پیدا کرنے کی عادی رہی ہے۔ اس عادت سے چھٹکارا پائے بغیر آئینی اداروں کی مضبوطی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہوگا۔

متعلقہ خبریں