پولیو کی غیر اعلانیہ اضافی مہم کی ضرورت؟

پولیو کی غیر اعلانیہ اضافی مہم کی ضرورت؟

صوبے کے چار پسماندہ اضلاع میں انسداد پولیو مہم میں پانچ سال سے کم عمر چھ لاکھ چھیاسٹھ ہزار بچوں کو قطرے پلانے کی مہم خوش آئند اور انسداد پولیو کی ضرورت ہے۔ جن علاقوں میں سرکاری طور پر باقاعدہ پروگرام کے تحت پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں ان کا سرکاری اعلان بھی ہوتا ہے اس کی اطلاع بھی دی جاتی ہے اور پولیو ٹیموں کی حفاظت کا بھی بندوبست ہوتا ہے مگر بعض علاقوں میں جن میں حیات آباد بھی شامل بتایا جاتا ہے جہاں اعلانیہ سرکاری مہم کے ساتھ ساتھ مختلف این جی اوز کی جانب سے بار بار پولیو کے قطرے پلانے پر اصرار کیا جاتا ہے یوں بچوں کو ایک باقاعدہ سرکاری مہم میں پولیو کے قطرے پینے کے علاوہ اضافی طور پر دو تین مزید خوراکیں دی جاتی ہیں ایسا کسی پروگرام کے تحت کیا جاتا ہے۔ اس کا سرکاری اداروں کو علم ہے یا نہیں اس کی ضرورت ہے' یہ اضافی خوراک بلکہ خوراکیں کیا بچوں کے لئے ضروری ہیں۔ کہیں یہ اضافی مہم کسی ایجنڈے کا حصہ تو نہیں اور آیا یہ بچوں کے لئے مفید ہے یا ضرر رساں ایسا کیوں کیاجاتا ہے اور اس کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے۔ اگر اس طرح کی مہم قبائلی علاقوں اور پاک افغان سرحد کے قریب چلائی جاتی تو اس کو احتیاط کی مد میں بھی شمار کیا جاسکتا تھا مگر ایسے علاقوں میں جہاں پولیو کے مرض کا سرے سے وجود نہ ہو وہاں معمول کی مہم کے علاوہ بار بار پولیو قطرے پلانے پر اصرار شکوک و شبہات کاباعث بن رہا ہے اور عملے کی تنہا خاتون کی حفاظت کا بھی کوئی بندوبست نہیں۔ اگر اس مہم کی سرکار سے اجازت لی گئی ہے تو علاقہ پولیس ان کی حفاظت کی ذمہ داری سے غافل کیوں ہے؟ اس طرح کے بہت سے سوالات کے باعث اب بعض علاقوں میں عوام اس مہم پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ اس ضمن میں متعلقہ حکام کو وضاحت اور اس کی افادیت کے حوالے سے عوام کے ذہنوں پر موجود سوالات کا جواب دینا چاہئے اور شعور اجاگر کیا جانا چاہئے۔ جن علاقوں میں سرکاری طور پر اور باقاعدہ پروگرام کے تحت پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں اس میں عوام کو اعتماد کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں تردد نہیں کرنا چاہئے۔
یوم آزادی کاجذبہ ماند نہ پڑ جائے
یوم آزادی کے بابرکت دن ملک میں ہر مکتبہ فکر اور خاص طور پر نوجوانوں میں وطن سے اظہار محبت کے جو مناظر اور جذبات سامنے آئے وہ ایک گونہ اطمینان اور باعث مسرت و انبساط ہے جس قوم میں اتنا جوش وجذبہ اور اپنے وطن سے اتنی عقیدت اور محبت ہواس وطن پرکیوں کوئی آنچ آئے لیکن اس مثبت جذبے کااظہار ایک دن کرنا کافی نہیں اور نہ ہی صرف آزادی کے دن کا جشن کافی ہے۔ وطن کی تعمیر و ترقی ایک تسلسل کے ساتھ انجام دینے کا حامل معاملہ ہے جس کااظہار ہمارے روز مرہ زندگی اور معمولات میں بھی اسی طرح ہونا چاہئے جس کا مظاہرہ ہم یوم آزادی پر کرتے ہیں۔ وطن سے محبت ایمانداری اور اپنے فرائض منصبی خلوص اور دیانت سے ادائیگی کا متقاضی ہے۔وطن کی ترقی ایمانداری اور دیانتداری میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں من حیث القوم اس امر کا عملی مظاہرہ جاری رکھنا چاہئے اور اپنے قوم کو ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں نمایاں کرنیکی منزل حاصل کرنے کی جدوجہد شبانہ روز کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں