میاں نواز شریف کے مغالطے

میاں نواز شریف کے مغالطے

سابق وزیر اعظم نواز شریف ڈرا رہے ہیں کہ ووٹ کا احترام نہ کرنے سے ملک کو ڈر ہے کہ نیا حادثہ درپیش نہ ہو جائے۔ وہ آج کی صورت حال، (جب ایک متفقہ آئین کے تحت قائم عدالت عظمیٰ نے انہیں آئین کے تقاضوں کے مطابق عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا) اور 1970ء کی صورت حال میں (جب ایسی اسمبلی کا انتخاب کیا گیا تھا جس نے ملک کا آئین بھی بنایا تھا )مماثل قرار دے کر ایک مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج پاکستان میں ایک متفقہ آئین ہے ، سپریم کورٹ ہے اسمبلیاں ہیں اور تمام ادارے کام کر رہے ہیں۔ 1970ء میں جو عام انتخابات ہوئے ان میں منتخب ہونے والی اسمبلی محض قانون ساز اسمبلی نہ تھی بلکہ آئین ساز اسمبلی تھی۔ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے اکثریتی ووٹ حاصل کیا اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے اکثریتی ووٹ حاصل کیا تھا۔ عوامی لیگ ملک کے ایک حصے میں اکثریت حاصل ہونے کی بنا پر اپنے چھ نکات کے مطابق سادہ اکثریت سے ایسا آئین بنانا چاہتی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان ایک ریاست کی بجائے پانچ ریاستوں پر مشتمل کنفڈریشن بن جاتی۔ وفاقی حکومت کے اختیارات صرف دو شعبوں تک محدود کر دیے جائیں۔ اگرچہ دفاع مرکزی حکومت کی ذمہ داری کے طور پر قبول کی گئی تھی تاہم صوبوں کو اپنی فوج رکھنے کی بھی اجازت تھی۔ پیپلز پارٹی نے طے کیا کہ اس پانچ پاکستان بنانے کے ایجنڈے کو قبول نہ کیا جائے۔ اس وقت عوامی لیگ کے سوا کوئی بھی جماعت بشمول مسلم لیگ ، عوامی لیگ کے چھ نکات کی حمایت پر رضامند نہ تھی۔ کسی نے اس کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان نہیں کیا۔جس میں مقصود یہی تھا کہ ایک صوبے کی اکثریتی پارٹی کو باقی پانچ صوبوں کی تقدیر بدلنے کا اختیار دے دیا جائے۔ آج میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ اکثریتی ووٹ کا احترام نہیں کیاگیا۔ تو کیا مسلم لیگ نے اس وقت یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ووٹ کا احترام کرتے ہوئے پاکستان کو ایک متحدہ ملک کی بجائے پانچ ملکوں یا نیم آزادصوبوں کی کنفڈریشن بنادیا جائے۔ آج میاں صاحب بھی کہتے ہیں اور ان کے علاوہ بعض لوگ اور بھی کہتے ہیں کہ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کے اکثریتی ووٹ کی بالادستی تسلیم نہیں کی گئی جو اکثریتی پارٹی تو تھی لیکن صرف ایک صوبے کی۔ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں میں عوامی لیگ کا شاید صرف ایک رکن قومی اسمبلی تھا۔ کیا چاروں صوبوں کو ایک صوبے کی اکثریتی پارٹی کی بالادستی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا؟ اگریہ آج صحیح ہے تو آج کی سیاسی پارٹیوں کو اس دور کی قیادت نے اس کو صحیح تسلیم نہیں کیا تھا۔خود میاں صاحب 1970ء میں عاقل و بالغ تھے کیا انہوں نے عوامی لیگ کی حمایت کا اعلان کیا تھا؟ میاں صاحب کو چاہیے کہ اس دور کے مغربی پاکستان کے صوبوں کی سیاسی قیادت سے حساب لیں۔ اور آج کی صورت حال کو 1970ء کی صورت حال کے مماثل قرار نہ دیں۔ 1970ء میں آئین بنانا مقصود تھا ' آج پاکستان میں ایک آئین ہے ، آزاد عدلیہ ہے اور جمہوری ادارے کام کررہے ہیں۔ میاں صاحب ایک اور مغالطہ ووٹ کے احترام کی اصطلاح کا غلط استعمال کرکے پیدا کر رہے ہیں۔ ووٹ کا احترام یقینا ہونا چاہیے لیکن یہ فریضہ سب سے پہلے ان افراد کا ہے جن کو ووٹ دیاجاتا ہے یا جو ووٹ حاصل کرتے ہیں اور نمائندگی کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ امیدوار ووٹ کے لئے اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اس منشور پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ ان باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ذاتی مفادات ، قبیلہ اور برادری کے تعلقات کے حوالے سے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کی پارٹیاں حکومت بناتی ہیں۔ تو ووٹ کا احترام یعنی اپنے وعدوں کا پاس ووٹ لینے والوں پر واجب ہوتا ہے۔ میاں صاحب نے اپنے ووٹروں کا احترام کیا یا نہیں جب وہ ملک کے آئین اور اس کے تحت بنے ہوئے قوانین میں ناکام رہے ۔ کیا انہوں نے منتخب نمائندہ ہوتے ہوئے پاکستان کے عوام کے فخر اور سربلندی کے لیے دوبئی میں اقامہ حاصل کیا؟ منتخب نمائندہ ہوتے ہوئے ایک غیر ملک میں منعفت بخش ملازمت حاصل کی اور انتخابی گوشواروں میں اس ملازمت کو ظاہر نہیں کیا۔حالانکہ وہ ایک عرصے سے سیاست میں تھے ' آئین سے واقف تھے' آئین کے تحت بار بار حلف اُٹھا چکے تھے۔ تو ایک طرف ووٹ کا احترام کرنا خود ان کی ذمہ داری تھی دوسری طرف آئین کی پاسداری ان کی ذمہ داری تھی جو انہوں نے نہیں نبھائی۔ 

ایک اور مغالطہ وہ یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں کہ بیس کروڑ عوام کے مینڈیٹ کے حامل نوازشریف کو پانچ ججوں نے چلتا کردیا۔ وہ اپنے ووٹروں کی اکثریت کا ججوں کی تعداد سے موازنہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کیا اسے ان کا بھولپن سمجھا جائے۔ فیصلہ قانون نے کیا ہے اور سپریم کورٹ نے جاری کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ انہیں بیس کروڑ عوام کا مینڈیٹ حاصل تھا۔ 2013ء کے انتخابات میں ان کی پارٹی کو کل ووٹوں کے 32فیصد ملے تھے۔ باقی 58فیصد ووٹ دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو پڑے تھے۔ وہ اسے 20کروڑ عوام کا مینڈیٹ قرار دے رہے ہیں۔ اس 32فیصد ووٹ کے باوجود اسی آئین کے تحت انہیں وزارت عظمیٰ ملی جسے وہ بدلنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اس 32فیصد ووٹ لینے والے پارٹی کی حکومت آج بھی قائم ہے۔ میاں نواز شریف اس حکومت میں شامل نہیں کیوں کہ وہ آئین اور اس کے تحت بننے والے قانون کی خلاف ورزی کے مجرم پائے گئے ہیں اور عوامی عہدوں کے لیے نااہل۔ کیا یہی ان کی منطق ہے کہ جب تک وہ خود وزیر اعظم رہیں ، جب وہ وزارت عظمیٰ سے الگ ہو جائیں تو آئین میں ترمیم بھی واجب ہو جاتی ہے اور خدانخواستہ ملک کو کسی حادثے کے پیش آنے کا خطرہ بھی انہیں نظر آنے لگتا ہے۔

متعلقہ خبریں