ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اور پاکستان

ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اور پاکستان

پاکستان اس وقت ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے اعلان کا انتظار کر رہا ہے جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی پاکستان مخالف ہوگی۔ان خدشات کی روشنی میں کیا نئی افغان پالیسی کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات ہمارے لئے حیران کُن ہوں گے ؟ امریکہ کے برعکس، جہاں کسی بھی قومی سطح کی پالیسی سازی کی ذمہ داری نیشنل سیکورٹی کونسل اٹھاتی ہے، پاکستان میں ایسا کوئی فورم یا پلیٹ فارم موجود نہیں جہاں عسکری و سول قیادت مل بیٹھ کر ایک جامع قومی پالیسی وضع کرے یا کسی بھی ملک کی پالیسی کے ردِ عمل میں اپنی جوابی پالیسی بنا سکے۔ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے اعلان سے پہلے ہی اس پالیسی کے پاکستان سے متعلقہ پہلو سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ کی 16 سال سے افغانستان میں جاری جنگ جیتنے کی کوششوں میں پاکستان کی جانب سے ڈالے جانے والی مبینہ رکاوٹوں پر ٹرمپ کوشدید غصہ ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کا کہا جائے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان شدت پسندوں کے خلاف بھی امریکہ کی طرف سے براہِ راست کاروائی کی جائے گی جو پاکستان کے اندر موجود اپنے ٹھکانوں کو افغانستان میں کاروائیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔مجموعی طور پر پاکستان کے حوالے سے نئی افغان پالیسی کا خلاصہ اس طرح پیش کیا جاسکتا ہے ''افغانستان میں مبینہ دہشت گردی کی معاونت بند کریں یا پھر اس پالیسی کے نتائج کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں''۔ ہماری قومی سیکورٹی پر اس وقت گہرے بادل منڈلا رہے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی اپنی دھمکیوں کو عملی جامعہ پہنانے کو تیار نظر آتی ہے لیکن ہماری سیاسی قیادت اس وقت کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہے اورامریکہ کی طرف سے کسی بھی پالیسی کی تبدیلی کی توقع نہیں کررہی۔ اگر کسی بھی سیاسی یا عسکری حلقے میں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا بھی جارہا ہے تو سول اور عسکری قیادت کی جانب سے ایسے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جارہے اور نہ ہی اس حوالے سے عسکری اور سیاسی حلقوں کے درمیان کوئی سنجیدہ گفتگو جاری ہے۔ اگر قومی سیکورٹی ایڈوائزر جنرل ایچ آر میک ماسٹر پاکستان کے ساتھ روایتی رویہ اختیار کرنے کی بجائے پاکستان سے مکمل تابعداری کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا پاکستان اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ؟ جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں سیاسی صورتحال بے یقینی کا شکار ہے اور حکمران جماعت سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی توجہ اندرونی سیاست پر مرکوز ہے ، نئے امریکی مطالبات کا جواب کیسے دیا جائے گا۔نئی کابینہ میں سیکورٹی اور دفاع سے متعلق تین وزارتیں ایسے قائدین کے حوالے کی گئی ہیں جوکہ دفاع یا سیکورٹی کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔ نئے وزیرِ دفاع خرم دستگیر پچھلی کابینہ میں کامرس کے وزیر رہ چکے ہیں اور اپنی زندگی میں کبھی بھی فوج یا سیکورٹی اداروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ اسی طرح پچھلی کابینہ میں پلاننگ اور ڈیویلپمنٹ کا قلم دان رکھنے والے احسن اقبال اگرچہ ایک قابل اور پڑھی لکھی شخصیت ہیں لیکن ان کے پاس بھی سیکورٹی کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔بالکل اسی طرح نئے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف بھی سفارت کاری کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے اور افغانستان کے ساتھ خراب تعلقات کی تناظر میں دیکھا جائے تووہ کیا اقدامات ہوں گے جن کے ذریعے خواجہ آصف افغانستان کے ساتھ ساتھ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری لے آئیں گے۔پاکستان کی سویلین حکومت اس وقت پانامہ پیپرز کے سکینڈل میں وزیرِ اعظم کی نااہلی کے بعد اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں مصروف ہے ۔ ان حالات میں اگر موجودہ حکومت افغان پالیسی یا پاک۔ا مریکہ تعلقات میں بہتری کی کوشش بھی کرتی ہے تو کوئی بھی ان اقدامات کو سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت افغان پالیسی کی باگ ڈور جی ایچ کیو کے پاس ہے ۔امریکہ کی طرف سے آنے والی نئی افغان پالیسی کے ذریعے خطے میں امن قائم ہونا چاہیے نہ کہ نئی پالیسی میں کسی ایک ملک میں امن قائم کرنے کے لئے دوسرے ملک کے خلاف سخت اقدامات ہونے چاہئیں ۔ اگر خطے کی صورتحا ل دیکھی جائے تو پاکستان، بھارت اور افغانستان ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کرنے میں مصروف ہیں اور تینوں ممالک کے پاس خطے میں بدامنی پھیلانے اور ایک دوسرے کی سرحد کے اندر دہشت گرد کاروائیاں کرنے کے ثبوت موجود ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کاحل ڈھونڈنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ خطے کی غیر مستحکم صورتحال کی وجہ سے بہت سے خطرات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے اور ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہوتے ہیں ۔اس خطے کے ممالک ایک طویل عرصے سے براہِ راست جنگ کا حصہ بننے کی بجائے پراکسی وار کے ذریعے ایک دوسرے کے ملک میں کاروائیاں کرکے ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں اگر امریکہ کسی ایک ملک کی حمایت کرتا ہے تو خطے میں موجود عدم استحکام اور شدت پسندی میں اضافہ ہوگا۔اگر امریکہ پاکستان کے ''رویے میں تبدیلی ''چاہتا ہے تو اسے خطے میں محتاط رویہ اپنانا ہوگا ورنہ نئی افغان پالیسی کے ذریعے امن کے قیام کی بجائے مزید بدامنی جنم لے گی۔ 

(بشکریہ:ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں