انقلاب کے جدید ایڈیشن

انقلاب کے جدید ایڈیشن

آج کل وطن عزیز کی سیاست میں انقلاب کے جدید ایڈیشن لانچ کئے جارہے ہیں۔ ان میں سے ایک اسلام آباد تا لاہور جمہوریت کے تعاقب میں نکالی گئی ریلی کے دوران پیش کیا گیا۔ اس جلوس میں عجیب و غریب نعروں اور تجدید عہد اقتدار کے لئے پرانے وعدوں کو نئے رنگ بھی دئیے گئے۔ جلوس کے آخری پڑائو پرجو پرکشش نعرہ لگایاگیا وہ انقلاب کا تھا۔ کہا گیا اگر عوام نے ہمارا ساتھ دیا تو ایک بار پھر ملک میں شہد اور دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ یہ وہ انقلاب ہوگا جس میں مور بے مایہ ہمدوش سلیمان بن جائے گا۔ انصاف عوام کی دہلیز پر ملے گا وغیرہ وغیرہ۔ خواب دیکھنے پر تو قدغن نہیں لگائی جاسکتی چلئے یہ ایک نیا خواب بھی سہی۔ یقین جانئے ہمیں انقلاب برپا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر ہمارے ملک میں جس فورم سے بھی انقلاب لانے کے نعرے لگائے جاتے ہیں تاریخ میں ایسے نعروں سے بھی کوئی انقلاب نہیں آیا۔ لشکارے مارتی' بیش قیمت چمچماتی گاڑیوں کے جلوس میں سے جب انقلاب کا نعرہ سنائی دیتا ہے تو ہم اسے ایک لطیفے سے زیادہ کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں جبکہ ہر پڑائو پر آپ کو انواع و اقسام کے کھانے بھی پیش کئے جائیں۔ یہ وہ کھانے ہیں جن کی فہرست دیکھ کر ہم جیسے کمزور معدہ افراد کو بد ہضمی ہو جاتی ہے۔ دال گوشت' آلو گوشت ' پائے' مٹن قورمہ' دیسی مرغی' چڑے' باربی کیو' دم پخت کھیر' کسٹرڈ کیا یہ سب کچھ کھانے کے بعد کسی کے ہوش ٹھکانے رہ سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں انقلاب پر کیا اعتبار کیا جاسکتاہے۔ ہم نے تو سیانوں سے سن رکھا ہے کہ انقلاب انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں یکسر تبدیلی کو کہتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہوتاہے جب عوام پوری قوت کے ساتھ بر سر اقتدار ٹولے کے خلاف علم بغاوت بلند کردے۔ ایک ہم نے انقلاب فرانس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ ایک شہزادے کے رتھ تلے ایک بچہ کچلا گیا تو شہزادے نے لاش پر چند سکے پھینکے اور ہاتھ ہلاتے ہوئے گزر گیا۔ شنید ہے کہ یہی سانحہ انقلاب فرانس کا نکتہ آغاز ثابت ہوا جو کم و بیش دس سال تک جاری رہا۔ یاد رہے کہ اس انقلاب میں ساڑھے سولہ ہزار افراد مارے گئے جن میں صرف پیرس میں مرنے والوں کی تعداد ڈھائی ہزار بتائی جاتی ہے۔ چینیوں نے ماوزے تنگ کی قیادت میں چار ہزار کلو میٹر صعوبتوں سے پُر لانگ مارچ کیا تھا۔ یہ سفر 370دنوں پر محیط تھا۔ اس طویل سفر میں کسی نے ماوزے تنگ کو مرغ و ماہی کے کھانے پیش نہیں کئے تھے۔ ان کے پائوں میں تو جوتے تک نہ تھے۔ اب کچھ انقلاب ایران کا ذکر ہو جائے جو اسلامی انقلاب کے عنوان سے ڈھائی ہزار سال سے قائم آمریت کے خاتمے کے لئے بر پا ہوا۔ اس انقلاب میں 60ہزار سے زیادہ افراد نے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ آخر کار ایران کے شہنشاہ کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ یہ وہ آمر تھا جس کی گھڑی میں نقص پیدا ہونے کی وجہ سے سارے ملک کی گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کردی گئی تھیں۔ اس شہنشاہ کے خلاف جب انقلاب برپا ہوا تو اسے کسی بھی دوست ملک نے پناہ دینے سے انکار کردیا اور اسے ایک اذیت ناک بیماری کے بعد بمشکل دفن کے لئے مصر میں ڈیڑھ گز زمین نصیب ہوئی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بلٹ پروف شیشے کے کیبن سے انقلاب کا نعرہ تو بڑی آسانی سے لگایا جاسکتا ہے 'یہ نعرہ کسی دیر پا انقلاب کا پیش خیمہ نہیں بن سکتا۔ فیڈرل کاسترو نے انقلاب برپا کیا اور ساری زندگی دو کمروں کے مکان میں رہائش اختیار کی۔ مرنے پر اس نے کفن میں نہ لپیٹنے کی وصیت کردی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کپڑے کی مردے سے زیادہ زندہ انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔ جلسے جلوسوں میں اسلحہ بدست محافظوں کے حصار میں کھڑے ہو کر انقلاب کا نعرہ بے معنی ہوتا ہے۔ حامد میر نے بجا طور پر کہا ہے انقلاب کا ذکر نواز شریف کریں یا عمران خان' آصف زرداری کریں یا ڈاکٹر طاہر القادری صرف انقلاب کا ذکر کرنے سے کوئی انقلابی نہیں بن جاتا ہر انقلاب کے پیچھے ایک نظریہ ہوتا ہے اور اس نظرئیے پر عمل درآمد اوپر سے نیچے نہیں نیچے سے ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ انقلابی نظرئیے کی علامت چی گویرا تو بن سکتا ہے لیکن شہنشاہ ایران معزولی کے بعد انقلاب کا نعرہ بلند کردے تو اس پر کون یقین کرے گا۔ بلا شبہ فرانس' روس' چین اور ایران کے انقلابات آراستہ و پیراستہ سٹیج پر بلٹ پروف شیشے کے کیبنوں سے تقریروں کے ذریعے نہیں لائے گئے اس کے لئے ان کے قائدین کی لازوال جدوجہد تاریخ کے اوراق پر د رج ہیں۔ اس لئے تو ہم انقلاب کے ان جدید ایڈیشنوں پر کچھ زیادہ یقین نہیں رکھتے۔

متعلقہ خبریں