خوابوں کو تعبیر دیجئے کہ یہی واحد حل ہے

خوابوں کو تعبیر دیجئے کہ یہی واحد حل ہے

70برسوں کاحساب سارا صاف سامنے ہے۔ بٹوارے کے ہنگام میں لاکھوں مرد وزن کھیت ہوئے۔ ان کے خواب تعبیروں سے پہلے چوری'4بار جرنیل شاہی اس ملک کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوئی۔ قائد اعظم خراب ایمبولینس میں دم توڑ گئے۔ لیاقت علی خان کو لیاقت باغ میں گولی لگی۔ حسین شہید سہروردی دیار غیر کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے۔ بھٹو پھانسی چڑھے' نواز شریف کا تختہ جنرل پرویز مشرف نے الٹا۔ پر وہ معافی نامے کے عوض جلا وطنی خرید کر جدہ چلے گئے۔ بے نظیر بھٹو لیاقت باغ کے باہر کھلی سڑک پر مار دیں گئیں۔ نواز شریف اب نا اہل ہوئے۔ ان سارے قصوں کے بیچوں بیچ 16دسمبر1971ء کو پاکستان دو لخت بھی ہوا۔ ساعت بھر کے لئے رکئے 12 اگست 1948ء کو سانحہ بابڑہ بھی ہوا تھا۔ نقد 75ارب ڈالر کے 22کروڑ لوگ مقروض ہیں۔ یہ سی پیک کے قرضوں کے علاوہ ہے۔ جان کی امان رہے تو عرض کروں ایک قومی جمہوری فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو پایا۔ جناح صاحب کہتے تھے '' ریاست کو آپ کے مذہب و عقیدے' ذات پات اور رنگ و نسل سے کوئی لینا دینا نہیں آپ سبھی اس ریاست کے مساوی حقوق والے شہری ہیں''۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ جو ہوا اس کے نتائج ہمارے گلے پڑے ہوئے ہیں۔ داخلی تضادات آسمان کو چھو رہے ہیں۔ پڑوسیوں سے ہماری نہیں بنتی۔ پڑوسی اچھے نہیں کہ ہم میں کوئی کج ہے؟ اس سوال پر مٹی ڈالیں۔ جواب تلاش کرکے حب الوطنی مشکوک نہ بنائیں۔ اس ملک میں فتوئوں کی صنعت سب سے منفعت بخش تھی اور ہے کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم ایک غدار' ایک کافر اور پسندیدہ مظلوم کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔ انتہائوں میں تقسیم معاشرے میں چراغ محبت روشن کیسے ہو۔ محبت جو فاتح عالم ہے ۔ گولڈن جوبلی 20سال قبل منائی تھی پلاٹینم جوبلی پانچ سال بعد ہوگی۔ مگر حساب کیا ہے؟ بٹوارے کے ہنگام میں جو رزق خاک ہوئے وہ ایک فلاحی جمہوری مملکت کاخواب آنکھوں میں بسائے ہوئے تھے۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے بٹوارے پر موجود ساری آراء کو آراء رکھنے والوں کا حق سمجھتا ہوں۔ یہ ملک قائم ہوا ' ہوگیا' اسے رہنا چاہئے ۔ معاف کیجئے گا ایسے تو لوگ مہمان نہیں رکھتے جیسے یہ ملک رکھا گیا۔ دستور ہے بھی اور نہیں بھی۔ قانون موم کی ناک ہے۔ وسائل پر بالا دست طبقات کی اجارہ داری ہے۔ 7سے10 فیصد لوگ معلوم طبقات کی پشت پناہی سے ہر چیز پر قابض ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم تاریخ کے حوالے پدرم سلطان بود کے طور پر دیتے ہیں۔ تاریخ سے سیکھا جاتا ہے۔ پر ہم تو سیکھے سکھائے لوگ ہیں۔ ہمارے چار اور کیا ہو رہا ہے۔ بے خبری کاعالم یہ ہے کہ کچھ نہیں جانتے۔ کبھی کبھی ان لوگوں پر ترس آتا ہے جو فرماتے ہیں ضرورت سے زیادہ جان کر کیا کریں گے۔ آگے بڑھنے سے قبل عرض کروں ہمیں بھارت میں ہندو توا اور تعصب کے زہر سے بھری قوم پرستی پر ناک چڑھانے کی بجائے اپنی ادائوں پر بھی غور کرلینا چاہئے۔ تالی ایک نہیں دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ بال ٹھاکرے' مودی' رام سینا فقط باڈر کے اس پار نہیں ہیں ادھر بھی بہت ہیں۔ سادہ سا سوال ہے ہم نے محبت کب کاشت کی؟ پڑوسیوں کو چھوڑیں خود اس ملک کی جغرافیائی حدود میں آباد قومیتوں کے درمیان اعتماد سازی پر توجہ نہیں دی گئی۔ فرد کی غلطی پر پوری قومیت کو طعنہ مارتے ہیں۔ در گزر تو ہمیں مرغوب ہی نہیں۔ متحدہ ہندوستان کی تحریک آزادی ہو یا قیام پاکستان کی جدوجہد ان میں پر عزم جدو جہد کرنے والے سارے بزرگ مرد و زن آخر ہمارے لئے قابل احترام کیوں نہیں۔ یہاں کتنے لوگوں کو علم ہے کہ مہاتما گاندھی کو جب گولی ماری گئی تو وہ بھارتی حکومت کے پاکستان دشمن رویوں اور پاکستان کے مالی حصے کو دبالینے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ بھوک ہڑتال پر تھے؟ جناح صاحب نے 11اگست 1947ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں جو تقریر کی تھی اس کے مندر جات کو دستور سازی کی روح بنانے کی بجائے بائیس نکات سر نامہ کلام کیوں ٹھہرے؟ تقسیم المیہ ہوتی ہے ہمیشہ سے مگر المیوں کی مجاوری کی بجائے زندہ سماج کی تشکیل اہم ہوتی ہے،۔ بد قسمتی سے زندہ سماج تشکیل دینے کی ضرورت سے صرف نظر ہوا' بہت ادب سے کہوں آنے والی نسلوں کے ہم سبھی مجرم ہیں۔ اپنے اپنے حصے کاکردار اداکرتے رہنا چاہئے تھا۔ یہاں ہوا کیا۔ ایک لمبی روداد ہے۔ دکھوں سے بھری کہانی سطر سطر لہو۔ اب جو سوال منہ چڑھا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ہماری آئندہ نسلیں اسی طبقاتی نظام اور تعصبات کی غلام رہیں گی؟ خلق خدا کا راج کب قائم ہوگا۔ ساعت بھر کے لئے رکئے۔ میں عرض کئے دیتا ہوں۔ تجربوں کے شوق' جھوٹی تاریخ' پدرم سلطان بود کے زعم اشرافیہ کے چند صد خاندانوں کی سیاسی و مذہبی غلامی ہمیں ان سب سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ ہمیں میاں افتخار حسین جیسے جوان مرد سیاست دانوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بطور سیاسی جماعت احیاء کی۔ جمہوریت تبھی پروان چڑھ پائے گی۔ ووٹ کی طاقت کو سمجھنا ہوگا۔ پارلیمان کے تقدس کو اور نظام کی حقیقت کو بھی' یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سارے جبر و استحصال کی زنجیروں کو توڑنے اور طبقاتی و ادارہ جاتی بالا دستی کے خاتمے کے لئے متحدہوں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سب کچھ بدلنا تو چاہتے ہیں مگر خود کو بدلنے پر تیار نہیں۔ آج کی ضرورت یہ ہے کہ انصاف ہو' وسائل مساوی طور پر تقسیم ہوں۔ ادارے دستور میں وضع کردہ حدود میں رہیں۔ قانون کی سر بلندی ہو۔ یہ اس طور ممکن ہے کہ اپنے حصے کا سچ وقت پر بولا جائے۔ سمجھ لیا جائے کہ یہ ملک بائیس کروڑ لوگوں کا ہے۔ عقل کل کوئی نہیں۔ اختلاف رائے معاشرتی زندگی کی سند ہے۔ یہاں اختلاف رائے ذاتی دشمنی کی صورت لے لیتا ہے۔ اداروں اور شخصیات سے لاکھ اختلاف کے باوجود یہ ہم سب کا ملک ہے اسے عوامی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کی ذمہ داری بھی ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ آگے بڑھئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیجئے کہ یہ ملک مال غنیمت نہیں وطن عزیز ہے۔

متعلقہ خبریں