سول بالادستی کے لئے جدوجہد کا آغاز

سول بالادستی کے لئے جدوجہد کا آغاز

12اکتوبر1999میںطویل کشمکش کے بعد جب پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت گرائی تھی تو ان کے ووٹروں کی غالب اکثریت کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ منتخب وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان اصل اختلاف کیا تھے لیکن آج دو ہزار سترہ میں ان کے ووٹروں کی غالب اکثریت جانتی ہے کہ اس ملک کی حاکمیت کس کے پاس ہے۔انہیں خوب پتہ ہے کہ ان کا قائد کس کو للکار رہا ہے اور یہ بھی کہ ایک عرصے سے نواز شریف حکومت کے خاتمے کی جو کوششیں کی جا رہی تھیں اس کے پیچھے کون تھا۔میں برسوں اپنی تحریروں میں یہ واضح کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ جب تک سیاسی جماعتوں کی اصل قوت یعنی عوام کو یہ سمجھ نہیں آئے گی کہ سول بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کون ہے اس وقت تک سیاسی جماعتیں جتنا مرضی زور لگا لیں سول بالادستی کی منزل کو حاصل نہیں کر سکتیں۔شائد نواز شریف نے بھی اسی خیال کے تحت گذشتہ چار سالوں میں بہت محتاط انداز میں اپنے ووٹروں کی ذہن سازی کی سعی کی اور اس حد تک کامیابی حاصل کر لی کہ اب ان کا ووٹر کنفیوز نہیں ہے۔ جب اس ووٹر کو مخاطب کر کے نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ میں کال دوں گا تو نکلو گے؟ تو ووٹر ہاں کہتے ہوئے یکسو ہوتا ہے کہ وہ کس مقصدکے لئے نکلے گا۔ جب نواز شریف اس ووٹر سے انقلاب کی بات کرتا ہے تو اس ووٹر کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کا قائد کس انقلاب کی بات کرتا ہے۔تکنیکی اعتبار سے یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے کہ سب کچھ اشاروں ہی اشاروں میں طے ہو گیا۔نواز شریف نے کسی بھی شخص یا ادارے کا نام لئے بغیر قو م کے غالب حصے کو یہ سمجھا دیا کہ پاکستان کے ساتھ اصل مسئلہ کیا ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ ن وہ دوسری جماعت ہے جس کے و رکر کو یہ پتہ ہے کہ اس کی جدوجہد کا اصل محورا ور مقصد کیا ہوگا۔ اس وقت نواز شریف پورے سیاسی قبیلے میں وہ واحد سیاستدان ہیں جو سول بالا دستی کے لئے یکسو بھی ہیں اور اس کے لئے کسی بھی انتہا پر جانے کو تیار بھی۔مسلسل چار روز تک ہجوم کے درمیان رہ کر انہوں نے جان کو خطرے میں ڈال کر جو بے مثال تاریخ رقم کی،اس سے صرف ن لیگ کے ووٹروں، سپورٹروں کو ہی نہیں ،پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی ترقی پسند جماعتوں کے ووٹروں ،سپورٹروں کو بھی بڑا حوصلہ ملا۔ نواز شریف کی جدوجہد کو ان کا پنجابی ہونا ایک خاص زاوئیے سے تقویت دیتا ہے۔تین چھوٹے صوبوں کی ساری ترقی پسند جماعتیں مل کر بھی سول بالا دستی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ فیصلہ کن حیثیت ہمیشہ پنجاب کوحاصل رہی ہے اور اس وقت پنجاب کی سب سے بڑی اور موثر جماعت مسلم لیگ ن ہے جس کے قائد اسٹیبلشمنٹ کو عوامی اجتماعات میں بری طرح للکار رہے ہیں۔اس سفر میں ان کی ہم سفر وہ جماعتیں ہیں جو قابل اعتماد ہیں۔پنجاب میں انہیں جمعیت اہل حدیث کی مکمل حمایت حاصل ہے اور حاصل رہے گی۔سندھ میں وہ اسٹیبلشمنٹ کی ڈسی ہوئی ایم کیو ایم کوساتھ ملانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔بلوچستان نیشنل پارٹی ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کے کھڑی ہے۔ مولانا فضل الرحمان بھی ان کے ساتھ ہیں اور ممکن ہے اے این پی بھی ان سے کسی مرحلے پر آن ملے۔اب کسی مرحلے پر پیپلز پارٹی بھی ان سے اتحاد کر لے گی کیونکہ اس جماعت کے عمائدین اسٹیبلشمنٹ کے ڈیزائن کو خوب سمجھتے ہیں۔انہیں پتہ ہے کہ اگر وہ مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو جس قوت نے نواز شریف کے پورے خاندان کو لپیٹ میں لیا اس کا اگلا ہدف زرداری اور بھٹو خاندان ہوگا۔پاکستان میں دو فلسفے یا نکتہ ہائے نظر ستر سالوں سے سیاست میں کارفرما رہے ہیں۔دائیں بازو او ربائیں بازو کے دو متحارب دھڑے مسلسل ایک دوسرے سے برسر پیکار رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سے دائیں بازو کا بازو بنی رہی ہے اور پنجاب دائیں بازو کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ پنجاب کی دائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹھنی ہے اور دائیں بازو کی یہ جماعت عملی اعتبار سے بائیں بازو والے کردار کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔اسٹیبلشمنٹ کی مٹھی میں تحریک انصاف کی صورت سٹیٹس کو کی ایک جماعت موجود ہے جو پنجاب میں اچھی خاصی نمائندگی رکھتی ہے لیکن مسلم لیگ ن کا پنجاب میں اثر رسوخ تحریک انصاف سے بہت زیادہ ہے اس لئے اب نواز شریف کی صورت جس جدوجہد کا آغاز پنجاب سے ہوا ہے اس کا توڑ خاصا مشکل ہوگا اور کچھ ایسے مقام بھی آئیں گے جہاں اسٹیبلشمنٹ کو سمجھوتے کرنے پڑیں گے۔بہت سارا فرق پڑا ہے ،بہت سارا فرق پڑے گا۔کیا یہ معمولی بات ہے کہ کل تک چوہدری نثار جس ایم کیو ایم کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اسی ایم کیو ایم سے نئے وزیر داخلہ اور نواز شریف کے معتمد خاص احسن اقبال وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ مل کر مذاکرات کر رہے تھے۔آئین میں بڑی بڑی ترامیم ہونے جا رہی ہیں اور یہ ترامیم ہو گئیں تو سول بالادستی کا آدھے سے زیادہ مقصد حاصل ہو جائے گا لہٰذا جو لوگ خوش ہیں کہ نواز شریف سے جان چھوٹ گئی ان کی یہ خوشی جلد کافور ہو جائے گی کہ وزارت عظمیٰ کی کرسی سے بندھا نواز شریف مجبور تھا ،اب وہ کلی طور پر آزاد ہے۔چند روز بعد یہ نواز شریف مسلسل سڑکوں پر ہوگا اور سول بالادستی کے قیام تک نہ خود چین سے بیٹھے گا اور نہ کسی اور کو چین سے بیٹھنے دے گا۔

متعلقہ خبریں