افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف پھر استعمال

افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف پھر استعمال

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو تیز رفتار' بے رحم اور کامیاب جواب دینا واحد آپشن ہے۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل باجوہ نے اس امر کا عندیہ دیا ہے کہ آپریشن مزید تیز کیا جائے گا۔ دریں اثناء تحریک انصاف کے چیئر مین نے نکتہ اٹھایا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوتا تو دہشت گردی کاخاتمہ ہوچکا ہوتا۔ انہوں نے استفسار کیا ہے کہ کراچی میں رینجرز آپریشن ہوسکتاہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں بھی رینجرز آپریشن کرایا جائے۔ ابھی جبکہ گزشتہ روز کے تین واقعات کی تحقیقات اور تطہیری آپریشن جاری ہے مہمند ایجنسی کے ہیڈکوارٹر غلنئی میں سرکاری ملازمین کی کالونی میں گھس کر دہشت گردی کی کوشش بروقت انٹیلی جنس اطلاعات اور موقع پر موجود سیکورٹی اہلکاروں کی جانفشانی و جانبازی نے ناکام بنادی۔ افغانستان سے دہشت گردوں کے داخلے کی اطلاع تھی۔ لاہور کے واقعے کی تحقیقات میں بھی افغان شہری سمیت دیگر ملزموں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ گزشتہ روز بلوچستان کے واقعے میں بھی افغانستان سے آمدہ دہشت گردوں کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیاگیا تھا جس دہشت گرد گروپ کی جانب سے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی جا رہی ہے اس کے ڈانڈے بھی سرحد پار ہی ملتے ہیں۔ دہشت گردی کی اس تازہ ترین لہر میں ایک مرتبہ پھر افغان سر زمین کے استعمال کے شواہد مل رہے ہیں۔ گو کہ گزشتہ روز کے واقعے پر افغان صدر اشرف غنی نے وزیر اعظم نواز شریف کو فون کرکے اظہار افسوس کرکے اچھی ہمسائیگی کا اظہار ضرور کیا تھا لیکن پاکستان کے خلاف ایک مرتبہ پھر افغان سر زمین کا استعمال ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے تقریباً تمام بڑے واقعات کی منصوبہ بندی سرحد پار ہونے اور دہشت گردوں کی افغانستان سے آمد گو کہ پہلی مرتبہ کاواقعہ نہیں لیکن کافی عرصے سے دہشت گردی کی لہر میں کمی آنے کے باعث دونوں ملکوں میں جس طرح قدرے سکھ کا سانس لیا جانے لگا تھا اب ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے بادل منڈ لانے سے دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں بڑھنے کا امکان ہے۔ بعض غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق طالبان کے دو بڑے گروپوں کے ادغام کے بعد دہشت گردی کی دم توڑتی صورتحال میں جان پڑ گئی ہے۔ لیکن فی الوقت بر سر زمین ایسے حقائق سامنے نہیں آئے کہ ان دہشت گرد گروپوں کی جانب سے کوئی کارروائی کی گئی ہو جس گروپ کی جانب سے اب تک دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی جا رہی ہے اس گروپ کی جانب سے بھی محولہ صورتحال کا عندیہ نہیں دیا گیا۔ بہر حال دہشت گردوں کے گروہ خواہ مل جائیں یا انفرادی کارروائیاں کریں ہمارے نزدیک وہ دہشت گرد ہیں۔ اگر کوئی ممکنہ ادغام ہوا ہے تو اس سے بھی ہمارے تحفظ و سلامتی کے ادارے بے خبر نہیں ہوں گے۔ تازہ ترین حالات و واقعات کے تناظر میں ایک مرتبہ پھر افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد ایک مرتبہ پھر بڑا اور سنگین مسئلہ ہے جس کی روک تھام دونوں حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر افغان حکومت اور افغانستان کی قومی فوج پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سر زمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستان کی جانب سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو سال رواں کے آخر تک مزید قیام کی مہلت دے دی گئی ہے افغانستان کی سرزمین سے مداخلت کی کارروائیاں ملک بھر میں مقیم افغان شہریوں کے لئے بلا وجہ مشکلات اور پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔ جس کی ذمہ داری افغان حکومت پر عائدہوگی۔ پاکستان میں اس وقت ملک بھر میں مردم شماری کا آغاز ہوا چاہتاہے۔ عام انتخابات کی بھی کسی حد تک تیاریاں اور سر گرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ فاٹا میں اصلاحات کا مجوزہ عمل حقیقت کا روپ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر اٹھنے سے ان معاملات کا پس منظر میں چلے جانا اور حکومت کی ساری توجہ دہشت گردی کے انسداد کی طرف ہونا فطری امر ہے۔ مردم شماری کے لئے فوج کی دستیابی کی بھی ضرورت ہے۔ کئی اہم قومی و ملکی معاملات ہی نہیں اس طرح کے واقعات کے نتیجے میں پورے ملک کے عوام کی روز مرہ زندگی تک میں تبدیلی اور غیر یقینی آجاتی ہے اور وطن عزیز میں کاروبار ' روز گار اور ترقی کے مواقع پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ شاید دشمنوں کا مقصد بھی یہی ہے۔ اسی طرح کے حالات میں کسی مخصوص صوبے میں آپریشن نہ ہونے کا اعتراض جذباتی اور سیاسی ضرور لگتا ہے لیکن بہر حال یہ ایک سنجیدہ سوال اور اعتراض ہے کہ پنجاب میں رینجرز سے آپریشن کروانے میں قباحت کیا ہے۔ آخر ہم پنجاب میں بھی آپریشن کرکے اس امر کی تسلی کیوں نہیں کرتے کہ پنجاب میں کوئی خفتہ سیل موجود نہیں جب تک ہم اندرونی طور پر دہشت گردی کے خاتمے کی ہر ایک تجویز کو پرکھ نہیں لیتے اور ملک میں من حیث المجموع اس حوالے سے یکسوئی کی فضا نہیں بنتی خدشات جنم لیتے رہیں گے جس کا فائدہ ملک دشمن عناصر ہی اٹھائیں گے۔

متعلقہ خبریں