انکاری والدین سے سختی نہیںنرمی کا مظاہرہ بہتر ہوگا

انکاری والدین سے سختی نہیںنرمی کا مظاہرہ بہتر ہوگا

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پولیو ٹیکے لگوانے سے انکاری والدین کی تعداد آٹھ ہزار سے تجاوز کرنا تشویش ناک امر ہے۔ انتظامیہ کا اس طرح کے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کس حد تک کامیاب ہوگا اس کا درست اندازہ انتظامیہ ہی کو ہوگا۔ کیا انتظامیہ آٹھ ہزار والدین کو گرفتار کرسکتی ہے اور آٹھ ہزار خاندانوں کے افراد کا احتجاج سنبھال سکتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر یوں سختی کا مظاہرہ کیا گیا تو آٹھ ہزار خاندانوں کے آٹھ ہزار مزید حامی بھی سامنے آسکتے ہیں۔ یوں رد عمل کے طور پر پولیو مہم کے خلاف ایک فضا ہموار ہوگی۔ پولیو قطرے پلانے کی آڑ میں جاسوسی کے ارتکاب کا طوق ابھی اس مہم کے گلے سے نہیں اترا اور نہ ہی باڑہ میں حالیہ پولیو مہم کے دوران قطرے پینے والے بچوں کی ہلاکت کوئی راز کی بات ہے۔ انتظامیہ پہلے ہی پولیو قطرے پلانے سے انکاری والدین کی گرفتاری اور پولیس گھروں پر بھیجنے کے تجربات کرچکی ہے۔ اگر اس سے والدین خوفزدہ ہو کر بچوں کو قطرے پلانے پر آمادہ ہوتے تو صرف صوبائی دارالحکومت پشاور میں آٹھ ہزار گھرانے بچوں کو قطرے پلوانے سے انکار نہ کرتے۔ ہمارے تئیں یہ زبردستی کا معاملہ نہیں بلکہ ترغیب اور شعور دے کر آمادہ کرنے کا معاملہ ہے جس پر پولیو مہم کے دوران کام ہوتے رہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے اس حوالے سے کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ علمائے کرام' اساتذہ' آئمہ ' میڈیا اور انتظامی مشینری سبھی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مہم کے حوالے سے مثبت کردار ادا کریں۔ انتظامیہ اگر گرفتاری اور ہراساں کرنے کا حربہ استعمال کرنے کی بجائے علاقہ عمائدین اور مقامی علمائے کرام سے رجوع کرے تو اس اقدام کا مثبت اثر ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ انتظامیہ حکومتی رٹ کااستعمال اور سماج دشمن عناصر کے خلاف موثر مہم شروع کرے اور جہاں طاقت کی بجائے اصلاح و نرمی سے بہتر نتائج کا حصول ممکن ہو وہاں خواہ مخواہ کے انتظامی ہتھکنڈوں سے گریز کیا جائے۔
ہیپاٹائٹس کا پھیلتا مرض
ہیپاٹائٹس کی بیماری میں آئے روز اضافے کا رجحان خطرناک حد کو چھونے لگا ہے۔ یہ مرض دیہی اور شہری علاقوں میں جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس کی وجوہات اور ذمہ دار ہم خود ' ہماری طرز زندگی اورعدم احتیاط ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے اس موذی مرض کے علاج کے حوالے سے کافی پیش رفت کی گئی ہے جہاں پر موبائل سنٹرز کے ذریعے پنجاب کے ہر ضلع کے ایک ایک گائوں میں ہر شخص کا طبی معائنہ اور خون وغیرہ کے ٹیسٹ ہوں گے۔ خیبر پختونخوا میں اس مرض کا سروے کیا جائے تو آدھی آبادی اس موذی مرض کا شکار نکلنے کا اندیشہ ہے۔ اس مرض کے حوالے سے درست اعداد و شمار کا معلوم ہونا ضروری ہے جس کے لئے اگر فوری طور پر کوئی پروگرام شروع کرنا ممکن نہیں تو کم از کم مریضوں کی تعداد کا درست سروے تو ممکن ہے۔ اس مرض کا علم ہو جائے تو صحت کارڈ کے حاملین کو ویسے ہی مفت علاج کی سہولت میسر آرہی ہے جبکہ باقی ماندہ افراد علم ہونے پر اس کے علاج کی طرف بروقت متوجہ ہوں گے اورجو استطاعت رکھ سکتے ہوں وہ از خود علاج کراسکتے ہیں اور جو استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کا سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کا بندوبست کیاجائے۔
شہرخموشاں کے مکین فریاد بھی نہیں کرسکتے
صوبائی دارالحکومت پشاور میں محکمہ آثار قدیمہ اورمقامی انتظامیہ کی جانب سے ارتکاب غفلت کااس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ شہر بھر میں قبرستانوں کی اراضی پر قبضہ کر کے قبریں مسمار کر تے ہوئے پلازے کھڑے کئے جا رہے ہیں مگر ان خدا نا ترس افراد کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اداکاروں کے آبائی گھرانوں کے تحفظ بارے صوبے میں سول سوسائٹی کافی متحرک ہے لیکن مشاہیرکے مقبروں کی طرف توجہ کم ہی دی جاتی ہے ۔ محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت کے باعث پشاور کے کئی تاریخی مقبروں کے آثار مٹ رہے ہیں۔ اگر دیکھاجائے تو یہ صرف محکمہ آثار قدیمہ ہی کی غفلت اور ذمہ داری نہیں بلکہ پشاور کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کی بھی پشاورکی تاریخ وثقافت سے بے اعتنائی ہے کہ تاریخ پشاور کے اہم کرداروں کے آثار وباقیات کے تحفظ میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔جن جن علاقوں میں قبرستانوں کی اراضی پر قبضہ ہوچکا ہے ان کو واگزار کرانے کا مشورہ دینا عبث ہی سمجھا جائے گا۔ شہر کے باسی قبرستانوں پر قبضہ کرنے والے مافیا کے خلاف باقاعدہ احتجاج کرتے کرتے تھک ہار کر بیٹھ چکے ہیں۔ انتظامیہ اور پولیس کی ملی بھگت کے بغیر قبرستان کی اراضی پر قبضہ ممکن ہی نہیں ۔ محافظین ہی اگر قابضین سے مل جائیں یا پھر محافظین ہی قابضین کی صفوں میں شامل ہونے لگیں تو پھر فریاد کس سے کی جائے۔

متعلقہ خبریں