دہشت گردوں کی تلاش

دہشت گردوں کی تلاش

لاہور میں بم دھماکے کے اگلے ہی روز لاہور کور کے ہیڈ کوارٹر میں فوجی قیادت کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کئی سال میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دہشت گردوں اور ان کے غیر ملکی سہولت کاروں کے خلاف آپریشن تیز تر کیا جائے گا۔ ان کے اس اعلان کے ساتھ ہی آپریشن شروع بھی ہوا اور انہوں نے بتایا کہ کچھ مشتبہ لوگ گرفتار بھی کیے گئے ہیں جن میں کچھ غیر ملکی شامل ہیں۔ یہ خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ لاہور میں یہ خود کش واردات اس لیے کی گئی کہ پاکستان سوپر لیگ کا فائنل کرکٹ میچ لاہور میں نہ منعقد ہو سکے جس میں غیر ملکی کھلاڑی بھی حصہ لے رہے ہیں ۔اس امکان کی طرف اشارہ کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس خود کش واردات کے پیچھے بھارت کی خفیہ کار ایجنسی ''را'' کا ہاتھ ہے۔ آرمی چیف کی ہدایت پر نہ صرف دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کو ملک کے ہر کونے میں تلاش کرنے کی کارروائی شروع ہو چکی بلکہ انہوں نے یقین دلایا کہ لاہور میں سوپر لیگ کے فائنل کے انعقاد کے لیے فوج بھرپور تعاون کرے گی۔ اسی روز وزیر اعظم نواز شریف کے زیر صدارت لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری رہے گی اور ان کے خلاف تیز تر اور بے رحمانہ آپریشن کیا جائے گا۔اجلاس میں کومبنگ اینڈ سرچ آپریشن تیز تر کرنے پر غور بھی کیا گیا۔ لاہور کی خود کش واردات کے فوراً بعد اس ردعمل سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت دہشت گردی کے خلاف متفق ہیں۔ اور یہ کہ فوج نے دہشت گردوں کی تلاش اور گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے جب کہ سیاسی قیادت نے پنجاب میں کومبنگ آپریشن کے حوالے سے غور کیا ہے۔ لاہور میں خود کش حملے کے مقاصد کے بارے میں حکمران مسلم لیگ کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے رائے دی ہے کہ اس کا ہدف اسی روز پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے زیر صدارت منعقد ہونے والا اجلاس تھا جب کہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے ہڑتال کرنے والے دوا فروشوں اور دوا سازوں کے نمائندوں سے گفتگو کرنے والے دو سینئر پولیس افسروں کو نشانہ بنایا جو شہید ہو گئے۔ اس واردات کی ذمہ داری فوری طور پر تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس گروپ نے حملہ آور کی ایک تصویر بھی جاری کی ہے۔ اس سے پہلے اس گروپ نے گلشن اقبال لاہور میں بم دھماکہ کرنے والے خود کش بمبار کی تصویر بھی جاری کی تھی۔ جماعت الاحرار کا نام اڑھائی تین سال پہلے خبروں میں آیا تھا جب تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی کا اعلان کیا تھا۔ جماعت الاحرار نے مذاکرات سے اختلاف کیا تھا۔ اوراس اختلاف کا اعلان ایک خط کے ذریعے کیا تھا جس کے مندرجات کا مفہوم جہاں تک یاد پڑتا ہے کچھ یوں تھا کہ تحریک طالبان پاکستان اگر جنگ بندی کر بھی لیتی ہے تو جماعت الاحرار کامیابی سے مزاحمت جاری رکھ سکتی ہے۔ اور یہ کہ جماعت کے کارکنوں کی اکثریت پنجاب کے پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس تنظیم کے پاس پنجاب میں اس قدر اسلحہ کے ذخائر ہیں کہ حکومت کے اہل کار ان کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ یہ دعوے محض دھاک بٹھانے کے لیے تھے یا بیان میں حقیقت کتنی تھی اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت الاحرار نے جو تصویر جاری کی ہے وہ واقعی خود کش بمبار کی ہے یا کسی اور کی اس کے بارے میں بھی ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ، پولیس کا اعلان ہے کہ خود کش بمبار کے اعضاء تلاش کر لیے گئے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ آرمی چیف نے جس آپریشن کا ذکر ہے جس کے تحت کچھ افراد گرفتار بھی کیے گئے ہیں جن میں افغان بھی شامل ہیں وہ ان کے اپنے قول کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی ہے۔ انٹیلی جنس کے تربیت یافتہ اہل کاروں کی تعداد اتنی نہیں تصور کی جا سکتی ہے کہ وہ سارے ملک کا احاطہ کر سکیں۔ اس لیے اس کے کچھ محدودات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ کارروائی بھارت کی خفیہ ایجنسی کی ہے اس رائے کا اظہار مولانا فضل الرحمان خلیل نے کیا ہے ۔ تاہم جماعت الاحرار نے اس وادارت کی ذمہ داری قبول کی ہے اور وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب میں کومبنگ اینڈ سرچ آپریشن شروع کرنے پر غور کیا گیا ہے۔ دریں اثناء ایک الرٹ جاری کی گئی ہے کہ لاہور میں مزید دہشت گرد حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردوں کے محرکین خواہ کوئی بھی ہوں ان کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا اور پاکستان کی ریاست اور حکومت کو نقصان پہنچانا ہے۔ خفیہ کاری پر مبنی کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں، اب اگر ان کارروائیوں کو تیز تر کیا گیا ہے تو گرفتاریوں کی تعداد میں اضافہ نظر آنے لگا ہے جن میں کارندے تو گرفت میں ممکن ہے آ جائیں، ان کے محرکین تک رسائی ہو سکے گی یا انہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کراچی ' فاٹا اور بلوچستان میں کارروائی ایک عرصہ سے ہو رہی ہے۔ پنجاب میں کومبنگ آپریشن کی بات کچھ عرصہ پہلے چھوٹو گینگ کے ہتھیار ڈالنے کے دنوں میں ہوئی پھر اس بارے میں خاموشی ہی سامنے آئی۔ کومبنگ آپریشن اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب مقامی آبادی قانون نافذ کرنے والوں کا ساتھ دے۔اس لیے یہ ضروری ہو گا کہ محض پولیس کی معلومات پر انحصار کرنے کی بجائے عام لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ مقامی بلدیاتی نمائندے اس مہم میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا عام لوگوں کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے۔ وہ ان کے طرز زندگی ، ان کے خیالات سے بالعموم واقف ہوتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ کس کے معیار زندگی میں ایسی تبدیلی آئی ہے جس کی وجوہ واضح نہیں ہوتیں۔ 

متعلقہ خبریں