عالمی طاقتیں اور افغانستان کا مستقبل

عالمی طاقتیں اور افغانستان کا مستقبل

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان میں آئے ہوئے پندرہ سال ہو چکے ہیں اور ان پندرہ سالوں میں امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی طرف سے افغانستان میںاربوں ڈالر خرچ کئے جاچکے ہیں لیکن آج بھی افغانستان مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جن میں بیرونی خطرات سمیت اندرونی خلفشار بھی شامل ہیں۔ افغانستان کی تعمیرِ نو کے بلند وبانگ دعوے اب قصہِ پارینہ بن چکے ہیں اور افغان اربابِ اختیار اس وقت اختیارات اور وسائل کی جنگ میں الجھے نظر آتے ہیں۔ افغانستان میں مغربی طاقتوں کی دلچسپی کم ہونے کی وجہ سے ہمسایہ ممالک سمیت بہت سے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کوافغانستان میں اپنے اپنے ایجنڈے پر کام کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ ان حالات میں اگر امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے چلے جاتے ہیں تو افغانستان کے ہمسایہ ممالک اپنے اپنے غیر ریاستی عناصر کے ذریعے ملک میں دہشت گردی کا بازار گرم کردیں گے اور کوئی بھی حکومت افغانستان میں طویل عرصے کے لئے امن قائم نہیں کرپائے گی۔افغانستان میں ہونے والی حالیہ پیش رفتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 2001ء سے لے کر آج تک بننے والی تما م افغان حکومتیں ملکی معیشت کی ترقی میں ناکام رہی ہیں جس سے نہ صرف بیرونی امداد پر انحصار کم کرنے میں مدد ملتی بلکہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی، خصوصاً نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے۔ اس وقت قائم اتحادی افغان حکومت معیشت ، سیاست اور سیکورٹی جیسے اہم امور پر بالکل ناکام نظر آتی ہے۔بے روزگاری، سرکاری اداروں میں کرپشن، بد انتظامی اور امیر طبقے اور غریبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کی وجہ سے نوجوانوں کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے طالبان اور داعش جیسی شدت پسند تنظیموں کو افغان معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ سیاسی صورتحال کے بارے میں بات کی جائے تو نیشنل یونٹی گورنمنٹ ( این یو جی ) میں صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات تمام حکومتی اداروں کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے افغان معاشرے کی بے چینی اور بے اطمینانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔جنگجو سردار، مافیا چیف، کرپٹ سرکاری افسران اور ممبرانِ پارلیمنٹ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اس لسانی تفریق میں اضافہ ہوا ہے جو روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد ہونے والے خانہ جنگی کے زمانے میں شروع ہوئی تھی اور جس میں طالبان کے دورِ حکومت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا۔حال ہی میںپہلے سے کشیدہ سیاسی صورتحا ل میں اس وقت مزید خراب ہوگئی تھی جب صدر اشرف غنی اور نائب صدر عبدا لرشید دوستم کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جس کی وجہ عبد الرشید دوستم پر ان کے ازبک مخالف احمد ایسچی کی طرف سے لگائے جانے والے تشدد اور ریپ کے الزامات تھے۔اس خبر کے سامنے آنے کے بعد صدر اشرف غنی نے اس واقعے کی 'مکمل تفتیش ' کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو پولیس اور دیگر سیکورٹی اہلکار وفاقی حکومت کی بجائے مقامی جنگجو سرداروں، وزیروں، اراکینِ پارلیمنٹ اور گورنر کے زیادہ وفادار نظر آتے ہیں۔ اختیارات کی تقسیم دراصل غیر ریاستی عناصر کو نہ صرف پھلنے پھولنے بلکہ اپنے اپنے علاقوں میں اخلاقی فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہونے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ افغانستان کے لئے سیاسی عدم استحکام اور معاشی زوال خطرے کی علامت ہیں لیکن اس وقت افغانستان کے امن اور استحکام کو سب سے زیادہ خطرہ طالبان سے لاحق ہے۔ طالبان نے اپنی کارروائیوں کا رُ خ ملک کے جنوب اور جنوب مشرق سے شمالی علاقوں کی طرف موڑ دیا ہے جو دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ پُرامن علاقے سمجھے جاتے ہیں۔اس وقت طالبان کابل کے دروازوں پر کھڑے کسی بھی موقع کی تلاش میں ہیں تاکہ کابل پر قبضہ کرکے پورے افغانستان کو اپنے زیرِ نگیں کر سکیں۔ پچھلے دو سالوں میں صوبہ قندوز میں بھی طالبان صوبائی دارالحکومت قندوز سٹی پر دو مرتبہ قابض ہوچکے ہیں ۔ جنوبی علاقے میں صوبہ ہلمند مسلسل طالبان کے دبائو میں ہے جبکہ ایران کی سرحد سے متصل مغربی صوبوں فرح اور نمروز کے علاوہ ترکمانستان سے متصل صوبے تخار میں بھی طالبان اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان سرگرم ہیں۔ اگر افغانستان کے مشرقی علاقوں کی بات کی جائے توصوبہ ننگرہار کے چار اضلاع میں داعش کا کنٹرول واضح طور پر محسو س کیا جاسکتا ہے ۔

دوسری جانب چین اور روس کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے کردار کے دونوں منفی اور مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ بڑی علاقائی قوتیں اور افغانستان کے ہمسایہ ہونے کے ناطے مذکورہ دونوں ممالک اس جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر روس اور چین صرف امریکہ کی مخالفت میںافغانستان میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں تو اس کے مستقبل میں نہایت خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان جیسے حساس موضوع پر خاموشی اور دیگر مغربی طاقتوں کی افغانستان میں معدوم ہوتی ہوئی دلچسپی ایک خلا پیدا کر رہی ہے جسے روس اور چین پُر کرنے کو کوشش میں مصروف ہیں۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں