سیاسی کیمپ ایک خوش گوار روایت کا آغاز

سیاسی کیمپ ایک خوش گوار روایت کا آغاز

سول اور ملٹری پاکستان کے پاور سٹرکچر کی دو حقیقتیں ہیں ۔دونوں کے درمیان طاقت کی کشمکش بھی اتنی ہی پرانی ہے کہ جتنا پاکستان خود ہے۔کھیل چونکہ طاقت کا ہوتا ہے تو اکثر اس کھیل میں طاقت کا پلڑا ہی بھاری رہتا ہے ۔فوج سیاسی قوتوں سے طاقتو راور بارسوخ ہوتی ہے اور بھاری ہونا اسی کے پلڑے کا مقدر ٹھہرتا ہے ۔طاقت کے اس کھیل میں سویلین قوتیں اپنی سپیس بڑھانے کے بیرونی سہارے تلاش کرنے پر مجبور ہوتی ہیں ۔بیرونی سہاروں کی ضرورت فوجی حکمرانوں کو بھی رہتی ہے مگر ان کی اصل طاقت کمانڈ اسٹک میں ہی پنہاں ہوتی ہے ۔سرد جنگ کے دور میں جب امریکہ کو پاکستان میں سریع الحرکت اور شخصی فیصلوں کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ فوجی جرنیلوں کو سبز بتی جلا کر ''گو اے ہیڈ'' کا پیغام دیتا تھا اور اس کے ساتھ ہی پاکستانیوں کی سماعتوں سے ''عزیز ہم وطنو السلام علیکم '' کی مدھر آواز ٹکرانے لگتی تھی اور یوں دس برس گزر جاتے تھے ۔اس کے بعد فوجی نظام کے خیمے میں سویلین کا اونٹ داخل کیا جاتا تھا اور یوں ایک کشمکش چلتی رہتی تھی۔ ٹام اور جیری کے اس کھیل میں سیاسی خیمہ ہمیشہ سے بیرونی قوتوں بالخصوص امریکہ سے بنائے رکھتا ہے ۔اس ''کار خیر ''میں فوجی حکمران بھی پیچھے نہیں رہتے مگر سیاست دان اپنی کمزوری اور ناتوانی کے باعث امریکہ پر زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں ۔وہ حکمران ہوں توامریکہ کی گڈ بک میں رہنے کے لئے ہر وقت امریکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی خواہشات کی تکمیل کے لئے تیا ررہتے ہیں ۔امریکہ اور یورپ کے دورے اور ویزے تو سیاسی کلاس کی کمزور ی ہی بن کر رہ گئے تھے۔اس ماحول میں سیاسی کیمپ سے ایک خوش گوار اور حیرت انگیز خبر سامنے آئی ہے ۔یہ ہے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی طرف سے سینیٹروں کے وفد کو دورۂ امریکہ سے روکنے کا فیصلہ ہے ۔اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں ہونے والی ایک پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کے لئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی قیادت میں امریکہ جانے کا خواہش مند تھا ۔امریکہ نے مولانا عبدالغفور حیدری کو ویزہ دینے میں تاخیر سے کام لیا جو انکار کا ہی انداز تھا ۔جس کے ردعمل میں میاں رضاربانی نے وفد کا دورہ ہی منسوخ کردیا ۔یہی نہیں بلکہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے وضاحت آنے تک سینیٹ کا کوئی بھی وفد امریکہ کا دورہ نہیں کرے گا۔نہ ہی سرکاری سطح پر کسی امریکی رکن کانگریس یا سفارت کار کا خیر مقدم کیا جائے گا ۔یہ معاملہ سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں بھی اُٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔کہاجاتا ہے کہ امریکی سفارت خانے نے اس کی وضاحت دینے سے انکار کیا ہے ۔ سینیٹ آف پاکستان ملک کا ایوان بالا کہلاتا ہے ۔

یہ آئین کے تحت سب سے برتر سیاسی ایوان ہے ۔اس ایوان کی ساخت میں بندوں کو گننے کی بجائے تولنے کی سوچ حاوی ہوتی ہے ۔اسمبلی میں ہر شخص عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہو کر آتا ہے جبکہ سینیٹ میں سیاسی جماعتوں کو صاحب بصیرت اور اہل دانش وبینش کو آگے لانا پڑتا ہے ۔سینیٹ کے چیئرمین رضاربانی ایک کہنہ مشق اور اصول پسند سیاست دان کی پہچان رکھتے ہیں۔پاکستان کے سیاسی ایوان کی طرف سے امریکہ کے ناروا رویے کے خلاف موثر احتجاج ایک حیرت انگیز مگر خوش کن روایت کا آغاز ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے سیاسی ایوانوں اور اداروں میں بھی اب خودی اور خوداعتمادی کی خُو بحال ہو رہی ہے ۔اس سے یہ تاثر بڑی حد تک دور ہوگا کہ پاکستان کے سیاست دان امریکی ویزوں اور امریکہ یاترا کے لئے مرے جا رہے ہیں ۔عمومی تاثر یہی ہے کہ مولانا غفور حیدری کو ویزے سے انکار کا تعلق سات ملکوں کے باشندوں پر پابندی کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے سے ہے ۔شاید امریکی پاکستان کا ردعمل دیکھنا چاہتے ہوں ۔چیئرمین سینیٹ کی طرف سے اس اشارے کا زیادہ کھلے لفظوں میں اور درست جواب دیا گیا۔باوقار قوموں کے لئے سیلف رسپیکٹ کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔
اسی سیلف ریسپکٹ کو اقبال نے ''تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن '' کہا ہے ۔جوقوم اپنی عزت کرانا نہیں جانتی دنیا اس کی عزت نہیں کرتی ۔فوج نے سلالہ جیسے واقعات ، ڈرون حملوں اورریمنڈ ڈیوس ٹائپ حادثات کے بعد یہ سبق پڑھ لیا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اور معاشرے میں اپنے پیروں پر کھڑا رہنے اور اپنی دستار سلامت رکھنے کے لئے اپنی عزت اور ساکھ بنانا ضروری ہے مگر مقبول مرکزی سیاسی کیمپ میں مجموعی طور پر ایسی سوچ کی موجودگی کے آثار کم ہی نظر آتے تھے ۔انہیں چونکہ فوج کا دھڑکا لگا رہتا تھا اس لئے وہ عالمی اداروں اور قوتوں سے بہت کمزور شرائط پر معاہدے کرتے رہے ہیں جس میںیہ سوچ غالب ہوتی رہی ہے کہ کسی مشکل گھڑی میں انہیں فوج کی یلغار سے بچانے میں مدد مل جائے گی ۔فوج نے کسی حد تک امریکہ کے مقابل اپنی ساکھ اور عزت بحال کی ہے اب سیاسی ایوانوں کی طرف سے اس جانب پیش رفت کا آغاز ہو گیا ہے جس سے یہ موہوم امید بندھ چلی ہے کہ اب پاکستان بطور قوم اور ملک خود داری اور وقار کی راہوں پر چل پڑے گا ۔

متعلقہ خبریں