زندہ تہذیب کا امین شہر

زندہ تہذیب کا امین شہر

پشاور کی تاریخ اور تہذیبی آثار کے بارے میں جاننے کے لئے مردان کا سفر لازمی ٹھہراتھا۔ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے شیراز پراچہ نے پشاور اور اسلام آبادکے کچھ دوستوں کو دعوت دے کر انہیں اس شہر گل کے ماضی میں جھانکنے اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی (ستارہ امتیاز) کی تحقیقات سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔ ہم چند دوست' صحافی' کالم نگار اور پشاور کے تہذیبی اثاثے میں دلچسپی رکھنے والے صبح صبح ہی مردان یونیورسٹی کی گاڑی میں عازم مردان ہوئے۔ بعض دوست اپنے طور پر بھی پہنچے۔ شیراز پراچہ نے تقریب کے آغاز میں ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے پشاور کو امن' تہذیب اور ثقافت کی سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج پشاور میں جس دہشت گردی کے حالات کا ہمیں سامنا ہے۔ یہ حالات یقینا تبدیل ہوں گے اور پشاور میں امن ضرور بحال ہوگا۔ اس ضمن میں چند برس پہلے سانحہ چڑویکوبان (مینا بازار) کے رد عمل کے طور پر ایک مختصر نظم میں نے کہی تھی اس کی چند سطریں صورتحال کی وضاحت کرتی ہیں۔

مرے پشاور!
تمہارے ماتھے پہ خون کی یہ لکیر کیسی ہے؟
یہ کون ہیں جو تمہاری عظمت کو
خاک میں یوں ملا رہے ہیں؟
وہ امن کیسے بحال ہوگا؟
وہ تیرے ماحول میں رچا تھا
وہ پیار اب کہاں ملے گا؟
جو تیری تہذیب میں بسا تھا
مرے پشاور!
خدا تجھے پھر گلاب و سروسمن کا مسکن
بنا کے امن و سکون سے بھر دے
پروفیسر ڈاکٹر احسان علی جو عالمی سطح پر ایک آرکیالوجسٹ کی حیثیت سے اعلیٰ مقام کے حامل ہیں انہوں نے مرحوم ڈاکٹر دانی کے ساتھ مل کر پشاور کے تہذیبی آثار کو کھوجنے میں اہم کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے انہوں نے موہنجوداڑو کو مردہ تہذیب جبکہ پشاور کو ایک زندہ تہذیب کا امین شہر قرار دیا۔ انہوں نے اپنے لیکچر میں کہا کہ موہنجوداڑو کی تہذیب صدیوں پہلے مٹی تلے دب چکی ہے۔ پشاور کے تہذیبی آثار چھٹی صدی قبل مسیح میں زندگی کی سانسیں لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ پشاور میں گورنر ہائوس کی کھدائی کے د وران آریائی تہذیب اور آریائی قوم کے ڈھانچے ملے۔ قبروں سے ملنے والے اوزار اور دیگر اشیاء کا تعلق آریائی تہذیب سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گندھارا کا دارالحکومت چارسدہ تھا جسے تاریخ میں پشکلاوتی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ سکندر اعظم نے 327قبل مسیح میں اس پر حملہ صرف اس لئے کیا کہ گندھارا کے باشندوں نے ایرانیوں کے ساتھ مل کر سکندر اعظم کی فوجوں پر حملہ کیا اور اسے زبردست نقصان پہنچایا۔ یہ وادی ہر حملہ آور کے سامنے مزاحم ہوتی رہی اور کبھی اطاعت قبول نہیں کی۔گندھارا تہذیب کے امین پشاور میں مختلف مقامات پر بلکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں یہ جو بدھ مت کے آثار بکھرے پائے جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہاں کشان خاندان کا اقتدار قائم ہوا تو راجہ کنشک نے بدھ مت قبول کیا اور اس کی وجہ سے بدھ تہذیب افغانستان میں دریائے آمو سے لے کر ٹیکسلا تک پھیلتی چلی گئی اور یہاں پر بدھ مت کی تعلیمات کو پھیلانے کے لئے بڑا کام ہوا۔ اس خطے کے لوگوں نے دنیا کو وسیع القلبی کا سبق دیا جو آج بھی اس خطے کے پختونوں کا طرہ امتیاز ہے۔اس دور میں یہاں کا سفر کرنے والے چینی سیاح فاہیان نے لکھا ہے کہ گندھارا میں بدھ مت کے 8ہزار سے زیادہ تعلیمی ادارے قائم تھے اور یہ جو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بدھ مت کی تعلیمات ہندوستان سے پھیلیں ' یہ تاثر درست نہیں ہے بلکہ بدھ مت کی تعلیمات پشاور سے چین' تھائی لینڈ وغیرہ تک پھیلتی چلی گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک تھائی مقولہ ہے کہ علم سیکھنے کے لئے گندھارا چلو۔ ڈاکٹر احسان علی نے بتایا کہ پانینی موجودہ چھوٹا لاہور( صوابی) کا باشندہ تھا جو پشتو زبان کے گرامر مرتب کرنے میں اہم کردار کا حامل ہے۔ پانینی پہلی صدی قبل مسیح میں گزرا ہے۔ ڈاکٹر احسان علی نے یہ بھی کہا کہ بر صغیر میں اسلام اسی خطے کے ذریعے پھیلا اور یہ جو دعویٰ ہے کہ اس کی ابتداء محمد بن قاسم کی آمد سے ہوئی یہ بھی درست تاثر نہیں ہے بلکہ جب گندھارا کے باشندوں نے من حیث المجموع اسلام قبول کیا تو پھر اسلام کی ترویج کا آغاز ہوا۔بدھ مت کے آثار اور اس کی تعلیمات کوہن قوم نے بہت نقصان پہنچایا۔ جب ہن قوم نے اس خطے پر یلغار کی تو انہوں نے اس ساری تہذیب کو بہت نقصان پہنچایا۔ ان میں ایک تو ''تورامان'' تھا جو پشتو کہانیوں میں تورابان دیو کے نام سے موسوم ہوگیا تھا اور مائیں اپنے بچوں کو تورابان دیو کے قصے بھی سناتی تھیں اور اس کے ظلم و بربریت کی داستانوں کے حوالے سے بچوں کو ڈراتی بھی تھیں۔ دوسرا ''مہرا گلا'' تھا۔ ان دونوں کی وجہ سے گندھارا میں بدھ مت کے آثار کو تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ انہوں نے بدھ سٹوپا کو بڑی تعداد میں نیست و نابود کیا۔ یہاں پشاور میں شاہ جی کی ڈھیریاں کے آثار میں سے بھی ایک بدھ سٹوپا کے آثار دریافت ہوئے تھے اور اسی قسم کے قدیم تہذیبی آثار کی وجہ سے پشاور کو جنوبی ایشیاء کی قدیم زندہ تہذیب کا امین شہر کہا جاتا ہے۔ یعنی بقول نذیر قیصر
جو باقی کچھ کہانی رہ گئی ہے
فقط جادو بیانی رہ گئی ہے
یہ روز و شب کھنڈر ہوتی حویلی
بزرگوں کی نشانی رہ گئی ہے

متعلقہ خبریں