''کردار''

''کردار''

شیخ سعدی حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک بوڑھی عورت نے اپنی تنہا ئی دور کرنے کے لئے بلی پال لی۔ وہ بلی کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آتی اور تھوڑے بہت چھیچھڑے روزانہ اس بلی کے آگے ڈالتی تھی' مگر وہ بلی تھوڑے پر راضی نہیں تھی اور شکم سیر ہونا چاہتی تھی۔ ایک روز بلی زیادہ کھانے کی حرص میں کسی رئیس کے گھر میں جاگھسی۔ وہ رئیس بہت ظالم تھا۔ اس نے ڈنڈا اٹھایا اور بے دردی سے بلی کو پیٹنا شروع کر دیا۔ بلی بڑی مشکل سے جان بچا کر اپنی مالکن کے گھر اس عالم میں پہنچی کہ اس کی ہڈی پسلی ایک ہوچکی تھی اور جسم سے بے تحاشا خون بہہ رہا تھا۔ اس دن کے بعد بلی نے کبھی اپنے ٹھکانے سے قدم باہر نہ نکالا اور مالکن سے ملنے والی غذا پر ہی قناعت کرنے لگی۔ بے شک ' اگر انسان اپنی حرص کوکم اور اپنی ضروریات کومحدود کرلے تو بڑی مصیبتوں سے بچ جاتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ قناعت آرام کی کنجی ہے۔ انسان اگر قناعت کا دامن ہاتھ میں تھام لے تو گنتی کی چند ضروری اشیاء ہی اس کے گزر اوقات کے لئے کافی ہیں اور اگر زیادتی پر اتر آئے تو دنیا کی تمام تعیشات بھی اسے مطمئن نہیں کرسکتیں۔ رسول اکرمۖ کا ارشاد گرامی ہے کہ انسان کا بنیادی حق صرف اتنا ہے کہ اس کے لئے ایک مکان ہو جس میں وہ رہ سکے۔ کپڑے ہوں جن سے وہ اپنا تن ڈھانپ سکے۔

کھانے کے لئے روٹی اور پینے کے لئے پانی ہو۔ خود آقا کریم ۖ کی حیات اقدس سادگی اور وقار کا بہترین نمونہ ہے۔ جامع ترمذی میں سیدہ عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ کبھی آپۖ کا کوئی کپڑا تہہ کرکے نہیں رکھا گیا۔ یعنی صرف ایک جوڑا کپڑا ہوتا تھا دوسرا نہیں ہوتا تھا جو تہہ کرکے رکھا جاسکتا۔نواز شریف فیملی کے پاس کس چیز کی کمی تھی۔سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے اگر حرص نہ کرتے تو آج عزت سے حکمرانی کر رہے ہوتے۔عدالت کیا فیصلہ صادر کرتی ہے یہ تو خدا ہی کو معلوم ہے لیکن جو رسوائی ہو رہی ہے اس کا مداوا کبھی نہیں ہو سکے گا کہ انسان کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہو سکتی ہے کہ اسے اپنا ہی نہیں اپنی نسلوں کا بھی حساب دینا پڑے۔نواز شریف کے ایک بھائی عباس شریف بھی ہیں۔ شاید نئی نسل کے لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں کہ شہباز شریف کے علاوہ بھی ان کے بھائی ہیں۔ عباس شریف طویل عرصے سے تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں اور خود کو مال و زر کی آلائشوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کو کبھی کسی نے برے نام و لقب سے نہیں پکارا۔ظاہر ہے وہ بھی میاں شریف کی جائیداد میں حصہ رکھتے ہیں اس لئے ان کا شمار بھی دولت مندوں میں ہوتا ہے سو یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ دولت مند ہونا کوئی بری بات نہیں، دولت کی ہوس میں مبتلا ہو کر اپنا آپ تباہ کر لینا افسوسناک ہے۔کچھ لو گوں کو دولت کی ہوس ہوتی ہے کچھ کوطاقت و اقتدار کا نشہ ہوتا ہے۔کرنل قذافی ایک زمانے میں اسلامی دنیا کے ہیرو سمجھے جاتے تھے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ دس ،پندرہ یا بیس سال حکمرانی کر کے کسی اور کے لئے جگہ خالی کر دیتے لیکن انہوں نے گمان کیا کہ کوئی طاقت ان کو اقتدار سے الگ نہیں کر سکتی، اللہ نے ہزاروں میل دور واقع امریکہ کے ذریعے ان کا اور ان کی رعونت کا خاتمہ کر دیا۔ صدام حسین نے بھی خود کو ناقابل تسخیر تصور کر لیا تو اللہ نے اس کو بھی امریکہ کے ذریعے فنا کر دیا۔ شام کے حافظ الاسد ان بڑے اسلامی راہنمائوں میں شامل تھے جو ١٩٧٤ء میں بڑی آن بان اور شان سے اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے لاہور تشریف لائے تھے۔
برسوں تک ان کا نام پاکستانیوں کی زبان پر رہا لیکن وہ دنیا سے گئے تو ان کا صاحبزادہ بشار الاسد باپ کے تخت پر بیٹھ گیا اور اپنی نا اہلی کے باوصف پورے شام کو کھنڈر بنا بیٹھا۔ حالانکہ اقتدار چھوڑ دیتا تو لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے نہ جاتے۔ ان کے مقابلے میں مہاتیر محمد کا کردار دیکھئے کہ عین اس وقت جب ملائشیا کی ترقی دنیا کے لئے مثال بن چکی تھی اس نے اقتدار چھوڑ دیا۔اللہ غریق رحمت کرے شاہ فیصل شہید کو جن کو خدا نے دولت، عزت اور اقتدار تینوں سے خوب نوازا لیکن وہ کبھی دنیا کی ان لذتوں کے اسیر نہ ہوئے۔ جس زمانے میں ان کی زیر قیادت اسلامی بلاک کی تھیوری آگے بڑھ رہی تھی،امریکہ ان کی جان کا دشمن بنا ہوا تھا۔ ہنری کسنجر امریکہ کا وزیر خارجہ تھا۔شاہ فیصل کو دھمکانے سعودی عرب کے دورے پر آرہاتھا۔شاہ فیصل نے اس کے آنے سے پہلے صحرا میں خیمہ لگوایا،،خیمے میں کھجور کی چٹائی بچھوائی اور مہمان کی'' تواضع '' کے لئے جو کے ستو رکھوائے۔'' مہمان'' کو سرکاری پروٹوکول شاہی محل کی بجائے صحرا لے گیا تو وہ ہکا بکا رہ گیا۔ تھری پیس سوٹ کے ساتھ چٹائی پر بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔شاہ فیصل نے طنزیہ انداز میں دیکھا اور کہا۔مسٹر کسنجر تم زیادہ سے زیادہ اپنی طاقت استعمال کر کے ہمارے ملک کو کھنڈر بنا سکتے ہو تو کر کے دیکھ لو یہ جسارت بھی۔ہم صحرا کے بیٹے ہیں۔خیمے لگا لیں گے۔ کھانے کو کھجور اور ستو کی کوئی کمی نہیں،اسی پر گزارہ کر لیں گے۔کھجور کی چھال سے چٹائی بنانا ہمیں آتا ہے۔اسی پر سو رہیں گے۔مگر تم بتائو اگر ہم نے تمہارا تیل بند کر دیا توتمہارے ملک کا کیا حال ہوگا؟کسنجر دھمکی دینے آیا تھا،دھمکی سن کر الٹے پائوں واپس ہوا۔کردار میں ہی عظمت ہے۔ جو صاحب کردار ہیں دیکھیں ہم نے انہیں کن الفاط میں یاد کیا اور جواس وصف سے عاری ہیںان کے حصے میں کیا آیا؟

متعلقہ خبریں