مشرقیات

مشرقیات

سیدنا ابن مسعود نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اپنے جسم کو گندھواتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں کافر لوگ ہاتھ پر سوئی سے کالے' نیلے نشان لگوا لیا کرتے تھے۔ اس کو گندھوانا کہتے ہیں۔ جیسے اب اہل ہنود کے اندر ہے اور اس کو کچھ خوبصورتی میں شامل کرتے ہیں۔ تو زمانہ جاہلیت میں کفار و مشرکین اپنے ہاتھ وغیرہ گندھوا لیتے تھے' اسلام میں اس کی ممانعت ہوگئی۔
حضرت ابن مسعود نے اس عورت سے فرمایا یہ تو حرام ہے' تم نے یہ کیسے گدھوایا؟ اس عورت نے کہا اس کا حرام ہونا قرآن میں تو کہیں نہیں آیا ہے' میں نے تو سارا قرآن پڑھا ہے۔ سیدنا ابن مسعود نے فرمایا تو نے قرآن پڑھا ہی نہیں' اگر پڑھتی' سمجھ جاتی' کیا اس میں یہ آیت نہیں ہے:
ترجمہ'' جو رسولۖ تم کو دیں' اس کو لے لو' اختیار کرو' اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تم کو منع کریں اس سے بچو' اس کو مت کرو''۔
اس نے کہا کہ یہ آیت تو ہے' فرمایا جب یہ آیت ہے تو رسول کریمۖ نے گندھوانے سے منع کیا ہے' فرمایا ہے کہ لعنت ہے اس عورت پر جو اپنے جسم کو گندھواتی ہے اور لعنت ہے اس پر بھی جو گودتی ہے۔ تو رسول اکرمۖ نے گندھوانے اور گندھنے والی پر لعنت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ جو رسولۖ دیں' اس کو لے لو' تو یہ حکم قرآن سے ثابت ہوا یا نہیں؟ اس عورت کی سمجھ میں آگیا اور کہنے لگی کہ میں توبہ کرتی ہوں۔(مجالس مسیح الامت)
ایک مال دار شخص صفا اور مروہ کے درمیان گھوڑے پر سوار ہو کر سعی کر رہا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سعی کی جگہ مسجد حرام کے احاطے سے باہر تھی۔ اس کے ارد گرد چھوٹے بڑے غلاموں اور نوکروں کاہجوم تھا جس سے راستہ تنگ پڑ چکا تھا۔ یہ دیکھ کر سعی کرنے والے دیگر لوگوں کو سخت غصہ آیا اور وہ گھور گھور کر اس آدمی کو دیکھنے لگے' وہ خاصا لمبا تڑنگا انسان تھا' اس کی آنکھیں بڑی تھیں۔
اس مالدار نے جس سال حج کیا اسی سال حج کرنے والوں میں سے کسی کی ملاقات چند برسوں بعد اس مالدار سے ہوئی۔ جو بغدادکے پل پر بیٹھ کر لوگوں سے بھیک مانگ رہا تھا۔ حاجی نے مالدار سے (جو اب بھکاری کے روپ میں تھا) پوچھا: کیا تو وہی آدمی تو نہیںہے جس نے فلاں سال حج کیا تھااور تیرے ارد گرد غلاموں اور نوکروں کا اس قدر ہجوم تھا کہ دیگر لوگوں کے لئے سعی کرنے میں راستہ تنگ پڑ گیا تھا؟
بھکاری نے جواب دیا:ہاںم! میں وہی شخص ہوں۔
حاجی نے دریافت کیا: پھر کس چیز نے تجھے اس ناگفتہ حالت میں لا پہنچایا ہے؟
بھکاری نے جواب دیا:
میں نے اس جگہ میں کبر و نخوت کو اختیار کیا' جہاں متقی و پرہیز گار لوگ تواضع و انکساری اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس جگہ ذلیل و خوار کیا جہاں ذلیل و رسوا لوگ بڑے بنتے ہیں۔ یعنی پل کے اوپر سے گزرتے ہیں۔یوں تکبر نے اسے بھکاری بنا دیا۔( عبرت آموز واقعات)

متعلقہ خبریں