اعتراف حقیقت کے باوجود اڑجانے کا رویہ

اعتراف حقیقت کے باوجود اڑجانے کا رویہ

افغانستان کی سینٹ کی جانب سے امریکا اور نیٹو کو ملک میں جنگ اور بدامنی کی بڑی وجہ قراردینے کے بعد کابل کی پالیسی یکسر تبدل ہونی چاہیئے لیکن اس کا امکان اس لئے کم ہے کہ تخت کابل پر براجمان حکمرانوں کو ملک میں قیام امن اور استحکام امن سے زیادہ اپنا اقتدار عزیز ہے ۔ افغانستان کیسینیٹ کے ارکان کا کہنا ہے کہ اگرموجودہ حکومت امریکہ پر دبائو ڈالے تو افغانستان کا بحران حل ہوسکتا ہے۔ارکان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور نیٹو ہی افغانستان میں موجودہ بحران کے اصل ذمہ دار ہیں۔سینیٹ کے ارکان نے کہا کہ ملک کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان جنگ اور امن کے بارے میں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ یہ بات بھی بدامنی کے پھیلائو کی وجہ ہے۔دوسری طرف امریکہ کے سیکرٹری دفاع جم میٹس نے کہا ہے کہ امریکی فوج طالبان کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ کے خبررساں ادارے کے مطابق سینٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر پالیسی بدلنے اور فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دیتے ہوئے سیکرٹری دفاع نے کہا کہ امریکہ کا افغانستان پر کنٹرول کا خواب آئے روز کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کو افغانستان میں اپنی فوجیں اتارے 16 سال ہو گئے ہیں لیکن طالبان کی کارروائیاں دارالحکومت کابل تک پہنچ گئی ہیں۔ امریکی سیکرٹری دفاع جم میٹس نے کابل میں فوجیوں کی تعداد 3 ہزار سے 5 ہزار بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ اس موقع پر سینٹ کے چیئرمین جان میک کین نے کہا امریکہ کو جلد سے جلد پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے۔ہمارے تئیں افغان سینٹ کے اراکین نے جہاں مسئلے کے نبض پر ہاتھ رکھ کر درست تشخیص کی ہے وہاں امریکیسینیٹ کے سامنے سیکر ٹری دفاع نے حقیقت حال کا اعتراف کرنے میں لگی لپٹی سے کام نہ لیا۔ اس بارے اب کوئی دورائے کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ اب امریکہ کو اس امر کا کھلے دل سے اعتراف کرلینا چاہیئے کہ افغانستان میں نہ تو اس کے مقاصد پورے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ان کو اپنے عزائم میں کامیابی مل سکتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے فارمولے کے تحت افغان جنگجوئوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ افغان سینٹ کے ارکان اگر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو ملک میں جنگ اور بد امنی کی بڑی وجہ ہیں تو عام آدمی پہلے دن سے یہ کہہ رہا تھا کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی چھتری تلے امن نہیں آسکتا ۔ اس کے باوجود جبکہ 2001ء سے 2013ء تک افغانستان میں دس لاکھ سے زائد امریکی و نیٹو افواج تعینات رہیں مگر اتنی بڑی تعداد میں فوجی اور ساز وسامان و جدیدٹیکنالوجی اور طاقت کے بیرحمانہ استعمال کے باوجود امریکی اور نیٹو افواج طالبان کو شکست دینے میں کامیاب نہ ہو سکیں اب امریکی وزیر دفاع خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ طالبان کے سامنے ان کی فوج بے بس ہے اور حملہ آورکابل تک پہنچ گئے ہیں۔ ان حالات میں تو دوہی راستے نظر آتے ہیں کہ یا تو کابل پہنچنے والوں کو تخت کابل پر قبضہ کرنے دیا جائے جو ممکن نہیں لیکن دوسری جانب دفاع کا بل کیلئے اگر لڑائی لڑی جاتی ہے تو کابل کا قدیم سے جدید بننے والا شہر ایک مرتبہ پھر کھنڈرات میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔ بنا بریں مناسب راستہ یہی باقی بچتا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں۔ اگر کابل کا قصاب قرار پانے والوں سے معاملت اور مفاہمت ہو سکتی ہے تو طالبان سے مذاکرات میںکیا امر مانع ہے سوائے اس کے کہ طالبان کو مذاکرات پرآمادہ کیا جائے۔ طالبان غیرملکی افواج کی موجودگی میں کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے آئے ہیں جس سے ان کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ زور بازو پر انحصار کرکے ہی ایک مرتبہ پھر افغانستان کا اقتدار حاصل کر لیں گے لیکن بہر حال یہ کوئی بہتر انتخاب نہیں کیونکہ طالبان کیلئے بھی یہ آسان نہ ہوگا کہ وہ منصوبے کے مطابق کابل پر قبضہ کرسکیں اور بالفرض محال اگر وہ ایسا کر پائیں تو کھنڈرات پر ان کا قبضہ کس کام کا ؟ لڑائی تو ایک ممکنہ صورت ہی ہے اس سے قطع نظر افغانستان میں قیام امن اور استحکام امن ان تمام افغانوں کے مفاد میں ہے جو شامل اقتدار ہیں یا پھر بندوق بدست عناصر ہیں ۔ افغانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ آخروہ کب تک باہم تصادم کے عمل میں افغانستان اور افغانستان کے عوام کو ترقی کے عمل سے دور رکھیں گے اور کیا ایسا کرنا افغان ملک و ملت کے حق میں بہتر ہے یا پھر مفاہمت اور مصالحت کے ذریعے معاملت اور مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور غیر ملکی قوتوں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے ملک کا اختیار و اقتدار اپنے ہاتھوں لیا جائے ۔ اس ضمن میں ہر فریق کے پاس اپنی معقولیت کا جواز ہوگا ان سے قطع نظر اس اعتراف حقیقت اور ناکامی کے واضح اعتراف کے بعد سوائے باہم مذاکرات کے کوئی اور راستہ باقی بچتا ہے ۔ بلاشبہ نیٹو اور امریکی فوجوں کی موجودگی میں افغانستان میں امن نہیں آسکتا اگر ان کی موجودگی اور حفاظت سے ایسا ممکن ہوتا تو اس کیلئے بارہ تیرہ سال کافی تھے ۔ امریکی ایک جانب اپنی ناکامی کا واضح اظہار کر رہے ہیں مگربجائے اس کے اس مسئلے کو حل کرنے کا مثبت طریقہ اختیا ر کیا جائے مزید اٹھارہ ہزار امریکی فوجی افغانستان لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ جب لاکھوں کی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی میں وہ مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکے تو ان اٹھارہ ہزار فوجیوں کو لانے سے کیا ہوگا ۔ افغانستان کی تین لاکھ فوج بھی کسی طرح نیٹواور امریکی فوجیوں کی جگہ نہیں لے سکتی ۔ امریکہ کیلئے بہتر ہے کہ وہ باعزت واپسی کا منصوبہ بنائے نہ کہ مزید امریکی فوجی بھیجنے پر غور کیا جائے ۔ امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں اب ان کی واپسی کو ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ جب یہ امر طے شدہ ہے کہ نہ تو یہ فوجی وہاں امن لا سکتے ہیں اور نہ ہی کابل کا دفاع ممکن ہے تو پھر معاملے کو طول دینے کی کیا ضرورت ہے ۔ ہماری دانست میں افغانستان میں مستحکم اور پائیدار امن کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک افغان قیادت پر دبائو ڈالیں کہ وہ طالبان کے ساتھ مفاہمت اور مکالمے کے ذریعے افغان سرزمین میں قیام امن کی سعی کرے ۔ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کیلئے ان کی شرائط پر غور کرنا ہوگا اور کچھ ان کی شرائط تسلیم کر کے اور کچھ اپنی منوانے کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی ۔افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو کابل میں دفتر کھولنے کی پیشکش کرکے ایک اہم قدم اٹھا یا ہے جس کا طالبان کو فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ افغان قوتوں کو بعد از خرابی بسیا ر اس امر کا اعتراف کرنا ہوگا کہ دست و گریبان افغانوں کو لڑانے والی قوتیں تو ملیں گی ایک دوسرے کا گریبان چھڑا کر آمنے سامنے بٹھانے والے کا کردار مشکل ہی سے ملے گا ۔

متعلقہ خبریں