مون سون کی پیشگی تیاری کی ضرورت

مون سون کی پیشگی تیاری کی ضرورت

محکمہ موسمیات کے مطابق پری مون سون کا آغاز ہونے والا ہے ۔ مون سون کے موسم میں شدید بارشوں کے باعث مکانات گرنے اور خاص طور پر سیلابوں کا خطرہ ہر سال درپیش ہوتا ہے ۔ گزشتہ کئی سال سے اس موسم میں دریاؤں اور پہاڑی نالوں میں طغیانی آتی ہے۔ تیز آندھیاں چلتی ہیں جن سے بڑے بڑے ہورڈنگز زمین بوس ہو جاتے ہیں' درخت ٹوٹ جاتے ہیں ' بجلی کی سپلائی لائنوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس موسم میں شدید سیلاب بھی آتے ہیں جن کے باعث دریاؤں کے قریب آباد لوگوں کو منتقل کیا جاتا ہے اور ان کے لیے سایہ ' خوراک ' پانی اور دوائیاں ' ان کے مویشیوں کے لیے چارے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اب کی بار سیلاب کے بارے میں تو محکمہ موسمیات کی پیش گوئی ابھی منظر عام پر نہیں آئی البتہ مون سون کی موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں سے خبردار ہونے کے لیے کسی پیش گوئی کی ضرورت نہیں۔ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے ارکان کو ابھی سے پیش بندی کر لینی چاہیے کہ انہیں شہریوں کو ابتلا سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا کیا اقدام کرنے ہوں گے۔ نکاسی آب کے لیے گندے پانی کی گزر گاہوں کو کب تک صاف ہو جانا چاہیے اور بجلی کی سپلائی لائنوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال کے لیے کیا کیا جانا چاہیے۔ محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان مستقل رابطہ کا انتظام کیا جانا چاہیے تاکہ موسم کی متوقع تباہ کاری اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے وسائل کا اندازہ بروقت لگایاجاسکے۔
ون ویلنگ کی روک تھام نہ ہو سکی
بغیر نمبر پلیٹس موٹر سائیکلوں پر عوام کو لوٹنے کی وارداتیں نئی بات نہیں بغیر شناخت کے ان موٹر سائیکلوں کا سیکورٹی رسک ہونا بھی بعید نہیںمگر اس کے باوجود یہ امر سمجھ سے بالا تر ہے کہ یہ موٹر سائیکلیں کینٹ سے بھی گزرتی ہیں۔ ٹریفک پولیس اور ٹریفک وارڈنز کی بھی فوج سڑکوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ کسٹم اور ایکسائز کا عملہ بھی سڑکوں پر گنڈا ماروں سے ساز باز کرتے دیکھا جاتا ہے مگر ان موٹر سائیکل سواروں سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ منچلے موٹر سائیکل سوار کھلے عام ون ویلنگ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوںمیں چھٹیوں کے دنوں میں کم سن اور نوجوان طلب علم بھی ون ویلنگ سے دل بہلاتے ہیں اور حادثات کا شکار ہو تے ہیںبعض علاقوں میں رات گئے منچلوں کی جانب سے موٹر سائیکل ریس اور وین ویلنگ کے مظاہر ے سے شہریوں کا رمضان کے اس مبارک مہینے میں سکون غارت ہوتا ہے ۔ گنڈا مار موٹر سائیکل سوار تو کسی قاعدے قانون کو خاطر میں نہیں لاتے۔ مگر ٹریفک کی اصلاح کے لئے مختلف تجربات کرنے والوں کو یہ لوگ دکھائی نہیں دیتے جس کی بناء پر یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ٹریفک وارڈنز کو ان افراد کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی جانی چاہئے تاکہ ان کا کام بھی نظر آئے اور شہر میں دندناتے پھرنے والے عناصر کو بھی لگام دی جاسکے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ پولیس حکام اس مسئلے کا سنجید گی سے نوٹس لیں گے اور اس مشکل سے عوام کو نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ والدین کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کو ون ویلنگ اور موٹر سائیکل ریس لگانے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

متعلقہ خبریں